Home » مکہ معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں،مقصد جنگ نہیں،خطے میں امن و استحکام کا فروغ ہے،اسحاق ڈار نے اصل مقصد واضح کردیا

مکہ معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں،مقصد جنگ نہیں،خطے میں امن و استحکام کا فروغ ہے،اسحاق ڈار نے اصل مقصد واضح کردیا

by ahmedportugal
14 views
A+A-
Reset

اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے سے متعلق جاری بحث اور مختلف قیاس آرائیوں کے تناظر میں معاہدے کے اغراض و مقاصد پر تفصیلی وضاحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ مکہ معاہدہ خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے اور اس کا مقصد کسی بھی ملک کو نشانہ بنانا نہیں، بلکہ امن،سلامتی،استحکام اور علاقائی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق اپنے وضاحتی بیان میں اسحاق ڈار نے کہا کہ گزشتہ دو روز سے مکہ معاہدے کے حوالے سے مختلف سطحوں پر بحث جاری ہے،جس کے پیش نظر عوامی دلچسپی اور موجودہ صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے معاہدے کا پس منظر،بنیادی مقاصد اور اہم نکات واضح کرنا ضروری ہے،پاکستان،سعودی عرب اور ترکیہ نے 7 اگست کو مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے،یہ معاہدہ تینوں برادر ممالک کی قیادت اور عوام کے درمیان موجود گہرے اور دیرینہ تعلقات کی عکاسی کرتا ہے جبکہ اس کی بنیاد اچانک پیدا ہونے والی کسی صورتحال کے بجائے کئی برسوں پر محیط مذاکرات،مشاورت اور باہمی رابطہ کاری پر ہے۔
نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے واضح کیا کہ مکہ معاہدے کا بنیادی مقصد امن و سلامتی کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پاکستان،سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان سٹریٹجک تعاون کو مزید مضبوط بنانا ہے،معاہدہ صرف دفاعی تعاون تک محدود نہیں بلکہ خطے میں امن،استحکام اور خوشحالی کے لیے مشترکہ کوششوں کو بھی تقویت دینے کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔

وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ مکہ معاہدہ پاکستان،سعودی عرب اور ترکیہ کے باہمی تعلقات یا دیگر ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ موجود معاہدوں کو منسوخ یا تبدیل نہیں کرتا۔اس طرح تینوں ممالک اپنے دیگر دوطرفہ اور کثیرالجہتی معاہدوں کے تحت پہلے سے موجود ذمہ داریوں اور تعلقات کو برقرار رکھتے ہوئے مکہ معاہدے کے فریم ورک میں تعاون جاری رکھ سکیں گے۔مکہ معاہدے کی ایک اہم شق کی وضاحت کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ تینوں ممالک میں سے کسی ایک کے خلاف بیرونی مسلح حملہ تینوں ممالک کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا،یہ اصول اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 میں تسلیم شدہ انفرادی اور اجتماعی دفاع کے فطری حق سے ہم آہنگ ہے۔نائب وزیراعظم نے اس امر پر بھی زور دیا کہ مکہ معاہدے کو کسی مخصوص ملک کے خلاف اتحاد کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے ،معاہدہ خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے اور اس کا مقصد کسی بھی ملک کو نشانہ بنانا نہیں۔معاہدے کا اصل مقصد شریک ممالک کی سلامتی کے تحفظ کے لیے تعاون کو موثر بنانا اور خطے میں امن و استحکام کی کوششوں کو مزید مضبوط کرنا ہے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ مکہ معاہدہ کسی محاذ آرائی یا علاقائی کشیدگی کو بڑھانے کے لیے نہیں بلکہ امن،استحکام اور خوشحالی کے لیے مشترکہ کوششوں کو تقویت دینے کے لیے تشکیل دیا گیا ہے،پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی مقصد بھی خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے تعاون کو فروغ دینا اور تمام تنازعات کے پرامن حل کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔وزیر خارجہ نے مزید بتایا کہ مکہ معاہدے کا دائرہ صرف اس کے موجودہ تین فریقوں تک محدود نہیں رکھا گیا بلکہ خطے کے دیگر ممالک کے لیے بھی اس میں شمولیت کی گنجائش موجود ہے،وہ تمام ممالک جو معاہدے کے بنیادی اصولوں کی پاسداری،باہمی احترام،تعاون اور اختلافات کو پرامن ذرائع سے حل کرنے پر آمادہ ہوں،ان کے لیے معاہدے کا دروازہ کھلا ہے۔

اسحاق ڈار کے مطابق اس پیش رفت سے یہ واضح ہوتا ہے کہ پاکستان علاقائی سطح پر ایسے تعاون کا خواہاں ہے جو باہمی احترام،خودمختاری،امن اور مشترکہ سلامتی کے اصولوں پر استوار ہو،مکہ معاہدہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے بنیادی اصولوں سے ہم آہنگ ہے اور اسلام آباد خطے کے تمام ممالک کے ساتھ پائیدار امن و استحکام کے لیے تعاون جاری رکھنے کے عزم پر قائم ہے۔نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان تمام تنازعات کے پرامن حل،مکالمے اور باہمی تعاون کے فروغ کی پالیسی پر قائم ہے،پاکستان کی ترجیح ایسا علاقائی ماحول تشکیل دینا ہے جہاں ممالک کے درمیان اختلافات کو طاقت کے بجائے بات چیت اور پرامن ذرائع سے حل کیا جائے اور خطے کے عوام کو محفوظ،مستحکم اور خوشحال مستقبل فراہم کرنے کے لیے مشترکہ کوششیں کی جائیں۔واضح رہے کہ اسحاق ڈار کی وضاحت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے اعلان کے بعد اس کے دائرہ کار،نوعیت اور ممکنہ علاقائی اثرات کے حوالے سے مختلف سوالات اور قیاس آرائیاں سامنے آرہی تھیں۔وزیر خارجہ نے اپنے بیان میں واضح کردیا کہ پاکستان،سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ہونے والے اس معاہدے کی بنیادی سمت دفاعی تعاون،مشترکہ سلامتی اور علاقائی امن و استحکام کا فروغ ہے،نہ کہ کسی مخصوص ملک کے خلاف محاذ آرائی۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز