Home » مکہ دفاعی معاہدے پر عملی پیش رفت،پاکستان،سعودی عرب اور ترکیہ کی عسکری قیادت سر جوڑ کر بیٹھ گئی

مکہ دفاعی معاہدے پر عملی پیش رفت،پاکستان،سعودی عرب اور ترکیہ کی عسکری قیادت سر جوڑ کر بیٹھ گئی

by ahmedportugal
8 views
A+A-
Reset

اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)مکہ جوائنٹ ڈیفنس معاہدے کے تحت پاکستان،سعودی عرب اور ترکیہ کی عسکری قیادت کے درمیان اہم مشاورت کے بعد سعودی عرب کے دفاع،سلامتی اور خود مختاری کے تحفظ کے لیے اجتماعی عزم کا اعادہ کیا گیا ہے جبکہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان کے درمیان ہونے والی ملاقات میں مکہ اور سعودی شہری و اقتصادی تنصیبات پر حملوں سمیت خطے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

سعودی وزارت دفاع کے مطابق شہزادہ خالد بن سلمان نے فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کے دوران مکہ دفاعی معاہدے میں شامل ممالک کے سربراہانِ افواج کے اجلاس کے نتائج کو سراہا اور سعودی عرب میں شہری اور اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنانے والے حملوں کے معاملے پر گفتگو کی۔دونوں جانب سے ایسے حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔یہ اہم ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب سعودی عرب کو یمن سے حوثی حملوں میں اضافے کا سامنا ہے اور حالیہ دنوں میں مملکت کے مختلف علاقوں اور اہم تنصیبات کے حوالے سے سکیورٹی صورتحال نے خطے میں تشویش بڑھا دی ہے۔اسی پس منظر میں پاکستان،سعودی عرب اور ترکیہ کے اعلیٰ عسکری حکام نے ریاض میں مکہ جوائنٹ ڈیفنس معاہدے کے تحت مشاورت کی۔

اجلاس میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، سعودی چیف آف جنرل سٹاف جنرل فیاض بن حامد الرویلی اور ترکیہ کے چیف آف جنرل سٹاف جنرل سلچوک بایراکتار اوغلو شریک ہوئے۔ اجلاس میں سعودی عرب کو درپیش سکیورٹی خطرات اور موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا گیا جبکہ مکہ مکرمہ اور سعودی شہری و اقتصادی تنصیبات پر حملوں کی مذمت کی گئی۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق تینوں ممالک کے عسکری حکام نے سعودی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ کارکردگی اور مملکت کی سلامتی اور عوام کے تحفظ کے لیے ان کی مستعدی کو سراہا۔اجلاس میں پاکستان،سعودی عرب اور ترکیہ کی مسلح افواج کے درمیان تعاون کو مزید وسعت دینے کے مختلف پہلووں پر بھی غور کیا گیا۔شرکا نے انٹیلی جنس کے تبادلے،عسکری رابطہ کاری اور دفاعی صلاحیتوں کو مزید موثر بنانے کے لیے تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا، جبکہ تینوں ممالک کے درمیان دفاعی شراکت داری اور اجتماعی دفاعی صلاحیت مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔

اجلاس میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ تینوں ممالک کے عوام اور مسلح افواج کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات اور باہمی اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جائے۔ پاکستانی حکام کے مطابق ریاض میں ہونے والی یہ مشاورت مکہ جوائنٹ ڈیفنس معاہدے کے تحت دفاعی شراکت داری کو عملی شکل دینے کی سمت ایک اہم پیش رفت ہے۔مذکورہ اجلاس کی خاص اہمیت اس لیے بھی ہے کہ اس میں محض عمومی دفاعی تعاون کے بجائے موجودہ سکیورٹی خطرات کے تناظر میں عملی عسکری تعاون، رابطہ کاری اور اجتماعی دفاعی صلاحیت کو موثر بنانے پر توجہ مرکوز کی گئی۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق شرکا نے مکہ جوائنٹ ڈیفنس معاہدے کے تحت کیے گئے وعدوں کو فوری طور پر موثر عسکری تعاون میں تبدیل کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔اجلاس میں سعودی عرب کی سلامتی،خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے اجتماعی دفاع کے عزم کا بھی اعادہ کیا گیا۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف میزائل اور ڈرون حملوں میں شدت کی اطلاعات سامنے آرہی ہیں۔سعودی حکام نے حالیہ دنوں میں متعدد میزائل حملوں کو روکنے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ مملکت کے مختلف علاقوں کے لیے سکیورٹی الرٹس بھی جاری کیے گئے۔حالیہ حملوں کے تناظر میں سعودی عرب کی شہری اور اقتصادی تنصیبات کی حفاظت خاص اہمیت اختیار کرگئی ہے،کیونکہ مملکت کی توانائی،تیل اور بحری تنصیبات نہ صرف سعودی معیشت بلکہ عالمی توانائی اور تجارتی نظام کے لیے بھی اہمیت رکھتی ہیں۔اسی وجہ سے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کا اثر سعودی عرب کی سرحدوں سے باہر بھی محسوس کیا جا سکتا ہے۔مکہ جوائنٹ ڈیفنس معاہدہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان 7 اگست 2026 کو طے پایا تھا۔

پاکستانی وزارت خارجہ کے مطابق اس معاہدے کا بنیادی مقصد تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو مضبوط بنانا،تربیت اور استعداد کار میں اضافہ،بہترین دفاعی طریقہ کار کا تبادلہ اور خطے کے امن و استحکام کو درپیش خطرات کے خلاف مشترکہ دفاعی صلاحیت کو مضبوط کرنا ہے۔ پاکستان نے واضح کیا تھا کہ یہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے،کسی ملک کے خلاف نہیں اور اسے کسی نئے فوجی بلاک کے قیام کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔مکہ معاہدے کے تحت تینوں ممالک کے درمیان پہلے سے موجود دفاعی اور سکیورٹی تعاون کو ایک باقاعدہ فریم ورک فراہم کیا گیا ہے۔اگست کے آخر میں استنبول میں اس معاہدے کے تحت قائم تزویراتی سیاسی و دفاعی کمیٹی کا افتتاحی اجلاس بھی منعقد ہوا تھا،جس میں پاکستان،سعودی عرب اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ،وزرائے دفاع اور عسکری قیادت نے شرکت کی تھی۔

پاکستانی وزارت خارجہ نے اس معاہدے کے حوالے سے واضح کیا تھا کہ اس کا مقصد دفاعی تعاون،تربیت، استعداد کار،دفاعی ٹیکنالوجی اور تحقیق میں باہمی تجربات سے استفادہ اور علاقائی سلامتی کو غیرمستحکم کرنے والی کارروائیوں کے خلاف اجتماعی روک تھام کی صلاحیت کو بہتر بنانا ہے۔تازہ ریاض اجلاس اس معاہدے کے عملی پہلو کے حوالے سے اس لیے بھی اہم قرار دیا جارہا ہے کہ اس میں تینوں ممالک کے اعلیٰ ترین عسکری حکام نے ایک ایسے وقت میں براہ راست مشاورت کی جب سعودی عرب کو میزائل اور ڈرون حملوں کے بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا ہے۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر کی سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان سے ملاقات نے بھی پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون کی اہمیت کو نمایاں کیا ہے۔دونوں ممالک پہلے ہی طویل عرصے سے دفاعی شعبے میں تعاون کرتے رہے ہیں جبکہ حالیہ معاہدوں نے اس تعاون کو مزید وسیع اور باقاعدہ بنانے کی بنیاد فراہم کی ہے۔پاکستانی موقف کے مطابق سعودی عرب کے دفاع اور سلامتی کو خصوصی اہمیت حاصل ہے اور مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ سمیت مقدس مقامات کا تحفظ مسلم دنیا کے لیے غیرمعمولی حساسیت رکھتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ مکہ مکرمہ سے متعلق کسی بھی سکیورٹی خطرے پر پاکستان سمیت مسلم ممالک میں گہری تشویش کا اظہار کیا جاتا ہے۔

دوسری جانب خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث تینوں ممالک کے درمیان عسکری رابطہ کاری، انٹیلی جنس تعاون اور دفاعی صلاحیتوں میں ہم آہنگی کی اہمیت بھی بڑھ گئی ہے۔ریاض اجلاس میں اسی پہلو کو سامنے رکھتے ہوئے باہمی تعاون کو مزید موثر بنانے پر زور دیا گیا۔حالیہ پیش رفت سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ مکہ جوائنٹ ڈیفنس معاہدہ اب محض ایک سیاسی یا سفارتی دستاویز کے بجائے دفاعی رابطہ کاری کے عملی ڈھانچے کی جانب بڑھ رہا ہے تاہم اس معاہدے کے تحت کسی مخصوص فوجی کارروائی یا کسی خاص ملک کے خلاف مشترکہ آپریشن کا اعلان نہیں کیا گیا جبکہ پاکستان کی وزارت خارجہ پہلے ہی واضح کرچکی ہے کہ عملی عسکری اقدامات سے متعلق معاملات میں وقت،طریقہ کار،اہداف اور استعمال ہونے والی قوت جیسے امور آپریشنل نوعیت کی حساسیت رکھتے ہیں۔

ریاض میں ہونے والی تازہ مشاورت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب سعودی عرب کی سلامتی،خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور شہری و اقتصادی تنصیبات کو لاحق خطرات نے پاکستان،سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون کو ایک نئے مرحلے میں داخل کردیا ہے۔تینوں ممالک کی عسکری قیادت کی جانب سے اجتماعی دفاعی عزم کا اعادہ اور مکہ معاہدے کی یقین دہانیوں کو فوری اور موثر عسکری تعاون میں تبدیل کرنے کا عزم آئندہ دنوں میں اس شراکت داری کی سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز