کراچی(ایگزو نیوز ڈیسک)شہر قائد کراچی میں سیکیورٹی اداروں نے ایک بڑی کارروائی کے دوران دہشتگردی کی ممکنہ سازش ناکام بناتے ہوئے کالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے والے دو مبینہ دہشتگردوں کو گرفتار کر لیا ہے۔کارروائی کے دوران ملزمان کے قبضے سے اسلحہ اور دھماکا خیز مواد بھی برآمد ہوا ہے،جس کے بعد شہر میں ممکنہ بڑے حادثے کو ٹالنے میں اہم کامیابی حاصل کی گئی ہے۔حکام کے مطابق گرفتار افراد سے مزید تفتیش جاری ہے تاکہ ان کے نیٹ ورک اور منصوبہ بندی سے متعلق مکمل حقائق سامنے لائے جا سکیں۔
ایگزو نیوز کے مطابق کراچی میں سیکیورٹی اداروں نے ایک بڑی اور اہم کارروائی کرتے ہوئے کالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے والے دو مبینہ دہشتگردوں کو گرفتار کر لیا ہے،جسے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔محکمہ انسداد دہشت گردی اور حساس اداروں کی مشترکہ کارروائی کے دوران گرفتار کیے گئے ملزمان کی شناخت اللہ ڈنو ولد غلام محمد اور فراز احمد عرف طوطو کے نام سے ہوئی ہے۔حکام کے مطابق دونوں ملزمان کا تعلق کالعدم سندھودیش ریوولیوشنری آرمی سے بتایا جا رہا ہے۔کارروائی کے دوران ملزمان کے قبضے سے اسلحہ اور دھماکا خیز مواد بھی برآمد ہوا،جس کے بعد ان کے خلاف انسداد دہشت گردی اور دھماکا خیز مواد سے متعلق قوانین کے تحت مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔
ابتدائی تفتیش میں انکشاف ہوا ہے کہ گرفتار ملزم فراز احمد عرف طوطو پہلے بھی مختلف سنگین مقدمات میں مطلوب رہا ہے اور اس پر حساس تنصیبات کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کا بھی الزام ہے۔تفتیشی ذرائع کے مطابق ملزم نے اپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ مل کر متعدد کارروائیوں میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا ہے جبکہ اس کے بارے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ وہ کراچی کے صدر علاقے میں ایک چائنیز ڈینٹل کلینک پر فائرنگ کے واقعے میں بھی شامل تھا،جس میں ایک ڈاکٹر جاں بحق اور دو افراد زخمی ہوئے تھے۔حکام کے مطابق گرفتار ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے اور ان کے نیٹ ورک کے دیگر افراد تک پہنچنے کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔