اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)ہائیکورٹس میں بڑے پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑ کے تحت جوڈیشل کمیشن آف پاکستان نے اہم ججوں کے تبادلوں کی منظوری دے دی ہے،جس کے بعد عدالتی نظام میں نمایاں تبدیلیوں کا آغاز ہو گیا ہے۔چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں متعدد سینئر ججوں کی ایک ہائیکورٹ سے دوسری ہائیکورٹ منتقلی کا فیصلہ کیا گیا،جسے قانونی حلقوں میں غیرمعمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں ہونے والے جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے اجلاس میں ہائیکورٹس کے ججوں کے تبادلوں کی منظوری دے دی گئی ہے،جس سے عدالتی حلقوں میں نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں محسن اختر کیانی کے اسلام آباد ہائیکورٹ سے لاہور ہائیکورٹ،ثمن رفعت امتیاز کے سندھ ہائیکورٹ جبکہ بابر ستار کے پشاور ہائیکورٹ تبادلے کی منظوری دی گئی تاہم کمیشن کے اجلاس میں تمام معاملات متفقہ طور پر طے نہ ہو سکے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سرفراز ڈوگر کی جانب سے ارباب طاہر اور خادم سومرو کے تبادلوں کی سفارش واپس لے لی گئی،جس کے بعد ان دونوں ججوں کے تبادلوں کا معاملہ موخر کر دیا گیا ہے۔
اجلاس کے انعقاد سے قبل بھی اس معاملے پر اختلافات سامنے آئے تھے۔ذرائع کے مطابق چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے ٹرانسفر ججز سے متعلق اجلاس بلانے کی مخالفت کی تھی تاہم سرفراز ڈوگر کی جانب سے پانچ اراکین کی ریکوزیشن پر اجلاس طلب کیا گیا۔دوسری جانب اس پیش رفت سے قبل بابر ستار نے ججز کے تبادلوں کے معاملے پر چیف جسٹس پاکستان کو خط بھی لکھا تھا،جس میں انہوں نے بطور سربراہ جوڈیشل کمیشن اس معاملے کو ذاتی طور پر سننے کی استدعا کی۔ذرائع کے مطابق جسٹس بابر ستار نے اپنے خط میں موقف اختیار کیا کہ آئین کے آرٹیکل 200 کے تحت کسی بھی جج کے تبادلے سے قبل انہیں سنا جانا ضروری ہے لہٰذا کمیشن کے اجلاس میں ان کا موقف بھی سنا جائے۔یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عدلیہ کے اندرونی معاملات اور ججوں کے تبادلوں کے طریقہ کار پر پہلے ہی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں اور ماہرین قانون اس فیصلے کے آئینی اور انتظامی اثرات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔