کراچی(ایگزو نیوز ڈیسک)سندھ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے سالانہ انتخابات غیر معمولی گہما گہمی، سخت مقابلے اور شدید سیاسی کشمکش کے بعد اس وقت ڈرامائی موڑ اختیار کر گئے جب غیر حتمی نتائج میں حسیب جمالی ایڈووکیٹ نے صدر کی نشست پر واضح سبقت حاصل کرتے ہوئے سرکاری و حکومتی اتحاد کے مضبوط امیدوار کو شکست دے دی، انتخابی نتیجہ قانونی برادری کے اندر جاری 27ویں اور آئندہ ترامیم کے خلاف مضبوط ردعمل کے طور پر سامنے آیا ہے، جسے ماہرین ایک بڑے ”ریفرنڈم“ کے مترادف قرار دے رہے ہیں۔
غیر سرکاری نتائج کے مطابق حسیب جمالی نے 2,679 ووٹ حاصل کیے جبکہ ان کے مدمقابل سرفراز میتلو 2,604 ووٹ لے سکے۔ انتہائی سخت مقابلے کے باوجود حکومتی حمایت یافتہ بلاول سرکار/بھون گروپ نہ صرف صدر بلکہ جنرل سیکرٹری سمیت بڑی نشستیں بھی ہار گیا، جو حکومتی لابی کے لیے ایک بڑا سیاسی جھٹکا تصور کیا جا رہا ہے۔ 27ویں ترمیم کی حمایت کرنے والے حلقوں کیلئے یہ نتیجہ واضح پیغام ہے کہ وکلا برادری ”عجلت میں کی جانے والی آئینی تبدیلیوں“ کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔نومنتخب صدر حسیب جمالی کا شمار ملک کے معروف قانونی خاندان میں ہوتا ہے، وہ سابق چیف جسٹس آف پاکستان انور ظہیر جمالی کے صاحبزادے ہیں مگر مبصرین کا کہنا ہے کہ موجودہ کامیابی ان کے خاندانی پس منظر سے زیادہ ”وکلا تحریک“ کے ازسرِنو احیاءکا نتیجہ ہے۔ سندھ بھر کے وکلا نے یہ انتخاب محض بار الیکشن نہیں بلکہ آئین، عدلیہ کی آزادی اور حالیہ آئینی ترامیم کے خلاف ایک علامتی جدوجہد کے طور پر لڑا۔انتخابات کے دیگر نتائج میں نائب صدر کے عہدے پر طارق علی جکھرانی جبکہ جنرل سیکرٹری کی نشست پر فریدہ منگریو کامیاب قرار پائیں۔ موجودہ سیکرٹری مرزا سرفراز احمد دوسرے نمبر پر رہے۔ اسی طرح خواتین کی ایڈیشنل سیکرٹری روپ مالا، جوائنٹ سیکرٹری حزیفہ، اور خازن کے طور پر سید نعمت اللہ کامیاب ہوئے۔ پوری کابینہ سے وکلا نے توقع ظاہر کی ہے کہ وہ بار و بینچ تعلقات کو مضبوط بنانے، نوجوان وکلاءکی تربیت، سائلین کو فوری انصاف اور وکلا کی فلاح کے منصوبوں پر موثر پیش رفت کریں گے۔انتخابی نتائج پر سیاسی حلقوں اور قانونی برادری نے بھرپور ردعمل دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے وکلاءکو مراعات دینے، سندھ حکومت کے وزراءخصوصاً ضیاءلنجار اور میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کی بار سیاست میں بھرپور دلچسپی اور اٹارنی جنرل، ایڈووکیٹ جنرل اور پراسیکیوٹر جنرل آفس کے مبینہ کردار کے باوجود وکلا برادری نے اپنی آزادی، خودمختاری اور آئینی بالادستی کے بیانیے پر سمجھوتہ نہیں کیا۔گزشتہ ہفتے سندھ ہائی کورٹ کی انتظامیہ کی جانب سے آل سندھ لائرز ایکشن کمیٹی کے کنونشن پر پابندیوں اور بار رومز تک رسائی روکنے کی کوششوں نے معاملات کو مزید حساس بنا دیا تھا تاہم وکلا اتحاد نے مزاحمت کرتے ہوئے بار رومز کا کنٹرول سنبھال کر اپنا مو¿قف دوٹوک انداز میں منوایا۔ مبصرین کے مطابق یہ انتخاب وکلا کی آئینی مزاحمت کا ایک سنگ میل ثابت ہوا ہے۔نومنتخب صدر حسیب جمالی کے حامیوں نے اس کامیابی کو ”وکلا کی فتح“ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اب بار قیادت کے سامنے سب سے بڑا چیلنج ووٹرز کے اعتماد پر پورا اترنا اور اگلے سال کی کارکردگی سے اپنی اہلیت ثابت کرنا ہے۔یہ الیکشن نہ صرف سندھ ہائی کورٹ بار کی تاریخ میں اہمیت رکھتا ہے بلکہ اس نے ملک میں جاری آئینی و عدالتی مباحثے میں نئی پھونک ڈال دی ہے، جس کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہوسکتے ہیں۔
سندھ ہائیکورٹ بار الیکشن میں حکومتی گروپ کو بڑا جھٹکا،حسیب جمالی نے طاقتور حکومتی لابی کو شکست دے کر میدان مار لیا
2