اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)نیشنل پاور ریگولیٹری اتھارٹی(نیپرا) کی جانب سے 25 کلو واٹ اور اس سے کم نیٹ میٹرنگ سولر صارفین کے لیے لائسنس کی شرط ختم کیے جانے کے فیصلے کو ملک میں قابل تجدید توانائی کے شعبے میں ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ اس اقدام کے بعد چھوٹے سولر صارفین کو نمایاں ریلیف حاصل ہوگا اور گھریلو سطح پر سولر سسٹمز کی تنصیب کے عمل میں مزید تیزی آنے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق نیشنل پاور ریگولیٹری اتھارٹی نے ملک میں سولر توانائی کے فروغ کے لیے ایک بڑا فیصلہ کرتے ہوئے 25 کلو واٹ اور اس سے کم نیٹ میٹرنگ صارفین کے لیے لائسنس کی شرط ختم کر دی ہے، جسے صارفین کے لیے اہم ریلیف قرار دیا جا رہا ہے۔ترجمان پاور ڈویژن کے مطابق یہ فیصلہ وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کی ہدایت پر کیا گیا، جس کے تحت پاور ڈویڑن نے نیپرا کو خط ارسال کیا تھا جس میں چھوٹے سولر صارفین پر عائد لائسنسنگ شرط ختم کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔نیپرا نے اس درخواست کو منظور کرتے ہوئے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جس کے مطابق نہ صرف لائسنس کی شرط ختم کر دی گئی ہے بلکہ چھوٹے سولر صارفین پر عائد فی کلو واٹ فیس بھی ختم کر دی گئی ہے۔حکام کے مطابق اس فیصلے کا مقصد ملک میں قابلِ تجدید توانائی کے استعمال کو فروغ دینا اور عام صارفین کو سولر سسٹم اپنانے میں سہولت فراہم کرنا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اقدام توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری اور گھریلو سطح پر سولر سسٹم کی تنصیب کو مزید تیز کر سکتا ہے۔
سولر صارفین کیلئے بڑی خوشخبری،25 کلو واٹ تک لائسنس شرط ختم
4