نئی دہلی(ایگزو نیوز ڈیسک)امریکہ اور ایران کے درمیان جاری حساس مذاکرات میں اہم پیش رفت کے اشارے سامنے آئے ہیں،جس کے بعد عالمی سطح پر ایک بڑی سفارتی پیش رفت کی امید پیدا ہو گئی ہے۔امریکی وزیر خارجہ کے مطابق گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران ہونے والی پیش رفت کے نتیجے میں آئندہ چند گھنٹوں میں کوئی اہم اور مثبت اعلان سامنے آ سکتا ہے۔سفارتی ذرائع کے مطابق یہ پیش رفت خطے میں کشیدگی میں کمی اور خصوصاً آبنائے ہرمز سے متعلق معاملات کے حل کی جانب ایک اہم قدم قرار دی جا رہی ہے،جہاں بحری نقل و حرکت اور تجارتی سرگرمیوں کی آزادی ایک مرکزی نکتہ ہے۔امریکی حکام کا کہنا ہے کہ مذاکرات کا بنیادی مقصد ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق خدشات کو ختم کرنا اور خطے میں دیرپا استحکام کو یقینی بنانا ہے۔اگرچہ ابھی حتمی معاہدہ طے نہیں پایا تاہم بات چیت کو مثبت سمت میں بڑھتا ہوا قرار دیا جا رہا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے انکشاف کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات میں گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران اہم پیش رفت ہوئی ہے اور امکان ہے کہ آئندہ چند گھنٹوں میں اس حوالے سے مثبت پیش رفت یا بڑی خبر سامنے آ سکتی ہے۔بھارت میں ایک پریس کانفرنس کے دوران سوالات کے جواب دیتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ پیش رفت بنیادی طور پر آبنائے ہرمز سے متعلق معاملات اور خطے میں بحری نقل و حرکت کی آزادی کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔ان کے مطابق یہ عمل اس وسیع تر ہدف کی جانب پیش رفت ہے جس کا مقصد ایران کے جوہری ہتھیاروں کے حصول کے خدشات کا خاتمہ ہے۔مارکو روبیو نے واضح کیا کہ مذاکرات کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ ایران کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل نہ کرے اور جب تک موجودہ امریکی قیادت برقرار ہے، اس پالیسی میں کوئی نرمی نہیں آئے گی۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ پیش رفت ہوئی ہے لیکن ابھی حتمی معاہدہ یا مکمل اتفاق رائے سامنے نہیں آیا۔انہوں نے آبنائے ہرمز کو ایک بین الاقوامی آبی گزرگاہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ کسی ایک ملک کی ملکیت نہیں ہے،ایران کی جانب سے اس راستے سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کو دھمکانے کی اطلاعات تشویشناک ہیں اور بین الاقوامی قوانین کے منافی ہیں، جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔
امریکی وزیر خارجہ نے بتایا کہ حالیہ پیش رفت کے نتیجے میں ایسے اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے جن سے خطے میں بحری تجارت کی آزادانہ روانی یقینی بنائی جا سکے اور ساتھ ہی ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق بنیادی خدشات کو بھی ایڈریس کیا جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ بعض تکنیکی امور پر بات چیت جاری ہے جو وقت طلب عمل ہے، کیونکہ کسی بھی معاہدے کو صرف تحریری شکل میں نہیں بلکہ عملی طور پر بھی نافذ کرنا ضروری ہوتا ہے۔مذاکرات اسی سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں تاہم حتمی نتیجے کے لیے مزید تفصیلی مراحل باقی ہیں۔