اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) قیادت کو بڑا عدالتی جھٹکا دیتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ نے سینیٹر اعجاز چودھری اورپنجاب اسمبلی میں سابق اپوزیشن لیڈر میاں محمود الرشید کی سزا معطلی کی درخواستیں مسترد کر دی ہیں۔9 مئی کے مقدمات سے متعلق اس اہم فیصلے کے بعد دونوں رہنماوں کی سزائیں برقرار رہیں گی،جسے سیاسی و قانونی حلقوں میں ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق لاہور ہائیکورٹ نے 9 مئی کے مقدمات میں اہم پیش رفت کرتے ہوئے سینیٹر اعجاز چودھری اور میاں محمود الرشید کی سزا معطلی کی درخواستیں مسترد کر دی ہیں، جس سے دونوں رہنماوں کو بڑا قانونی دھچکا پہنچا ہے۔عدالت نے میاں محمود الرشید کی ایک جبکہ اعجاز چودھری کی چار مختلف مقدمات میں دائر سزا معطلی کی اپیلوں کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ موجودہ شواہد اور ریکارڈ کی روشنی میں سزا معطل کرنے کی گنجائش نہیں بنتی۔ دونوں رہنماوں کے خلاف شیر پاو پل پر ہنگامہ آرائی،جلاو گھیراو اور دیگر سنگین الزامات کے تحت مقدمات درج ہیں۔اس سے قبل انسداد دہشت گردی عدالت لاہور نے ان مقدمات میں دونوں رہنماوں کو دس،دس سال قید کی سزا سنائی تھی،جس کے خلاف انہوں نے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا۔
دوسری جانب اسی مقدمے میں ایک مختلف پیش رفت سامنے آئی،جہاں افضال عظیم پاہٹ کو عدالت سے ریلیف مل گیا۔ لاہور ہائیکورٹ نے ان کی سزا معطل کرتے ہوئے اپیل منظور کر لی حالانکہ انہیں بھی انسداد دہشت گردی عدالت کی جانب سے 10 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔یہ فیصلہ جسٹس شہباز رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سنایا،جس نے کیس کے مختلف پہلووں کا جائزہ لینے کے بعد الگ الگ فیصلے جاری کیے۔قانونی ماہرین کے مطابق اس فیصلے نے 9 مئی کے مقدمات میں عدالتی رویے کے مختلف پہلووں کو اجاگر کیا ہے،جہاں ایک ہی نوعیت کے کیسز میں مختلف ملزمان کو مختلف نوعیت کا ریلیف دیا گیا،جس پر مزید قانونی بحث متوقع ہے۔