نئی دہلی(ایگزو نیوز ڈیسک)ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں محفوظ جہاز رانی کے نئے فریم ورک پر حتمی معاہدے کیلئے اہم اجلاس پیر کو عمان میں ہو گا،جس میں عرب ممالک کے وزرائے خارجہ بھی شریک ہوں گے۔ایرانی قیادت کے مطابق ایران اور عمان پہلے ہی اس حوالے سے ایک فریم ورک پر اتفاق کرچکے ہیں جبکہ آئندہ اجلاس میں خطے کے دیگر ممالک کو اس پیش رفت کی تفصیلات سے آگاہ کیا جائے گا۔
ایگزو نیوز کے مطابق نئی دہلی میں برکس سربراہی اجلاس کے موقع پر بھارتی ٹی وی چینل ’انڈیا ٹوڈے‘ کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں صدر مسعود پزشکیان نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی،توانائی کی ترسیل اور خطے کی مجموعی صورتحال سے متعلق عالمی خدشات پر گفتگو کی۔ان کا کہنا تھا کہ ایران اور عمان آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایک مخصوص فریم ورک پر اتفاق کرچکے ہیں اور پیر کو عمان میں ہونے والے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں عرب ممالک کو بھی اس معاملے پر اعتماد میں لیا جائے گا۔ایرانی صدر کے مطابق اس عمل کے بعد بین الاقوامی میری ٹائم ایجنسی کو بھی ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کیا جائے گا۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی جمعے کو تصدیق کی تھی کہ عمان پیر کو علاقائی ممالک کے نمائندوں پر مشتمل اجلاس کی میزبانی کرے گا، جس میں آٹھ خلیجی ممالک کے نمائندوں کی شرکت متوقع ہے۔مسعود پزشکیان نے کہا کہ اگر امریکا حملے بند کردے تو آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی قوانین کے تحت آزادانہ نقل و حرکت بحال ہوسکتی ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ ایران کو پاکستان،سعودی عرب،متحدہ عرب امارات،قطر،روس اور چین سمیت خطے کے کسی پڑوسی ملک سے مسئلہ نہیں بلکہ تہران کو خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر اعتراض ہے،جنہیں ان کے بقول ایران کے خلاف حملوں کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ایرانی صدر نے خطے کے ممالک پر زور دیا کہ وہ بیرونی طاقتوں کو خطے میں تقسیم پیدا کرنے کا موقع دینے کے بجائے باہمی تعاون کے ذریعے امن اور سلامتی کے ماحول کو فروغ دیں،علاقائی ممالک کو اپنے مشترکہ مفادات اور سلامتی کے معاملات پر باہمی تعاون کو ترجیح دینی چاہیے۔
عالمی معیشت اور بین الاقوامی مالیاتی نظام کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے مسعود پزشکیان نے برکس اور نیو ڈیولپمنٹ بینک کو اہم پلیٹ فارم قرار دیا۔ان کے مطابق آزادانہ تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دے کر یہ ادارے امریکی معاشی اثر و رسوخ اور پابندیوں کا مقابلہ کرنے میں مدد دے سکتے ہیں جبکہ رکن ممالک کا امریکی معیشت اور ڈالر پر انحصار بھی کم کیا جاسکتا ہے۔انہوں نے ایک آزاد اور کثیرالقطبی عالمی نظام کی تشکیل کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ایرانی صدر نے اپنے ملک کے جوہری پروگرام سے متعلق الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کررہا،تہران جوہری عدم پھیلاو کے معاہدے (این پی ٹی) پر عمل پیرا ہے اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں مذاکرات کیلئے تیار ہے۔مسعود پزشکیان نے ایرانی اعلیٰ قیادت، سائنس دانوں اور سویلین انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے والے حملوں کی بھی مذمت کی اور خوراک،ادویات اور تجارت پر عائد پابندیوں پر تنقید کی۔ان کا کہنا تھا کہ ایران جنگ نہیں چاہتا تاہم وہ پابندیوں یا فوجی دباو کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے گا۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے عمان میں ہونے والے اجلاس کے حوالے سے مزید تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجلاس میں آبنائے ہرمز میں نئے بحری روٹ کے قیام پر بات چیت ہوگی۔عرب میڈیا ادارے’دی نیو عرب‘ سے گفتگو میں عباس عراقچی نے کہا کہ اجلاس میں شریک ممالک کو ایران اور عمان کے درمیان طے پانے والے اتفاقِ رائے کی تفصیلات فراہم کی جائیں گی اور نئے بحری راستے سے متعلق نقشے بھی ان کے حوالے کیے جائیں گے تاہم ایرانی وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ عمان کے ساتھ طے پانے والے اتفاق کو آبنائے ہرمز کے مکمل طور پر دوبارہ کھولے جانے سے تعبیر نہیں کیا جاسکتا،آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کیلئے ایران کی ایک اہم شرط موجود ہے اور تہران چاہتا ہے کہ امریکا اسلام آباد مفاہمتی یادداشت(اسلام آباد ایم او یو) کے تحت کیے گئے اپنے وعدوں پر عمل درآمد یقینی بنائے۔
عباس عراقچی نے مزید کہا کہ ایران کا موقف ہے کہ خطے کی سلامتی اور استحکام کی بنیادی ذمہ داری علاقائی ممالک پر عائد ہوتی ہے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ عمان میں ہونے والے مذاکرات خطے کے ممالک کے درمیان باہمی دلچسپی کے معاملات پر مستقبل میں مزید مشاورت اور تعاون کی راہ ہموار کریں گے۔آبنائے ہرمز دنیا کے اہم بحری راستوں میں شمار ہوتی ہے اور توانائی کی ترسیل کے حوالے سے اس کی اہمیت کے باعث اس سے متعلق کسی بھی پیش رفت کے عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل پر اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ایسے میں ایران اور عمان کے درمیان طے پانے والے فریم ورک اور پیر کو ہونے والے علاقائی اجلاس کو آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے مستقبل کے حوالے سے اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جارہا ہے تاہم اس اجلاس کے نتیجے اور نئے بحری روٹ کی عملی حیثیت کا تعین مذاکرات کے بعد ہی ہوسکے گا۔