Home » تین پولیس اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ،تفتیش میں اہم پیش رفت،گینگ کی شناخت،خاندان اور پولیس اہلکار بھی زیرِتفتیش،سہولت کاروں کی گرفتاریوں کا سلسلہ تیز

تین پولیس اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ،تفتیش میں اہم پیش رفت،گینگ کی شناخت،خاندان اور پولیس اہلکار بھی زیرِتفتیش،سہولت کاروں کی گرفتاریوں کا سلسلہ تیز

by ahmedportugal
27 views
A+A-
Reset

لاہور(ایگزو نیوز ڈیسک)صوبائی دارالحکومت لاہور میں تین پولیس اہلکاروں کی مبینہ منصوبہ بندی کے تحت ٹارگٹ کلنگ اور اس کے بعد ملزمان کی ہلاکت کے معاملے کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔پولیس نے مبینہ ٹارگٹ کلرز کے گروہ کی نقل و حرکت کا سراغ ایک سرکاری گاڑی میں نصب ٹریکر کے ذریعے لگایا جبکہ تحقیقات کے دوران ایک مبینہ ٹارگٹ کلر کے گھر سے ہینڈ گرینیڈ بھی برآمد کیا گیا ہے۔
ایگزو نیوز کے ذرائع کے مطابق پولیس نے خاندان کے بعض افراد،مشتبہ سہولت کاروں اور ٹارگٹ کلرز سے مبینہ رابطے میں رہنے والے اہلکاروں سے بھی پوچھ گچھ شروع کردی ہے۔تفتیشی ذرائع کے مطابق پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کے بعد ملزمان نے اپنے موبائل فون بند کردیئے تھے تاکہ ان کی لوکیشن ٹریس نہ ہوسکے تاہم سرکاری گاڑی میں نصب ٹریکر نے ان کی نقل و حرکت کا سراغ لگانے میں اہم کردار ادا کیا۔ذرائع کے مطابق ملزمان کو جب ٹریکر کی موجودگی کا علم ہوا تو انہوں نے مریدکے کے قریب سرکاری گاڑی اور اس کے ڈرائیور کو چھوڑ دیا۔فرار ہونے والے ملزمان نے راوی ریان کے علاقے میں بھی ایک گھر میں عارضی پناہ لی۔ پولیس نے بعد ازاں مصری شاہ میں مبینہ ٹارگٹ کلر ریحان بٹ کے گھر پر کارروائی کرتے ہوئے ہینڈ گرینیڈ برآمد کیا،جس کے بعد تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کردیا گیا ہے۔پولیس ذرائع کے مطابق ریحان بٹ اور فیاض بٹ کے خاندان کے دیگر افراد کو بھی شاملِ تفتیش کرلیا گیا ہے۔اسی طرح ان پولیس اہلکاروں سے بھی پوچھ گچھ کی جارہی ہے جن کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ مبینہ ٹارگٹ کلرز سے رابطے میں تھے۔متعلقہ اہلکاروں کے موبائل فون ریکارڈ،کال ڈیٹا اور سوشل میڈیا اکاونٹس کی بھی جانچ کی جارہی ہے تاکہ ممکنہ رابطوں اور سہولت کاری کے شواہد حاصل کیے جاسکیں۔

تفتیشی حکام کے مطابق پولیس کو ابتدائی تحقیقات میں یہ شبہ پہلے ہی پیدا ہوگیا تھا کہ اہلکاروں کو ایک منصوبے کے تحت جھوٹی اطلاع دے کر جائے وقوعہ پر بلایا گیا۔ پولیس کے مطابق فیاض بٹ نے مبینہ طور پر ایک شخص کے ذریعے اطلاع دلوائی کہ اس کا مطلوب بیٹا ریحان بٹ گھر واپس آگیا ہے اور اسے گرفتار کیا جا سکتا ہے۔اطلاع ملنے پر سب انسپکٹر عدیل عاشق اور ہیڈ کانسٹیبل اسد موقع پر پہنچے،جہاں انہیں فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا۔پولیس کے مطابق ریحان بٹ اس سے قبل بھی سب انسپکٹر عدیل عاشق کو مبینہ طور پر فون پر دھمکیاں دے رہا تھا اور اس کے خلاف مقدمہ بھی درج تھا۔تحقیقاتی ذرائع کے مطابق اس کیس کی ایک اہم کڑی تقریباً دو سال قبل سامنے آتی ہے،جب فیاض بٹ کے بڑے بیٹے فیضان بٹ کو ناجائز اسلحہ رکھنے کے مقدمے میں گرفتار کیا گیا۔ذرائع کے مطابق جیل کے دوران فیضان بٹ کی ملاقات ایک ایسے شخص سے ہوئی جسے پولیس مبینہ طور پر کالعدم تنظیم سے وابستہ قرار دیتی ہے۔ذرائع کا دعویٰ ہے کہ مذکورہ شخص،جسے روف گجر کے نام سے بتایا گیا ہے،نے مبینہ طور پر فیضان بٹ کی پانچ لاکھ روپے کے عوض ضمانت کروائی اور بعد ازاں اسے افغانستان منتقل کیا گیا،جہاں خراسان کے علاقے میں اس کی ملاقات عاصم نامی شخص سے ہوئی۔

تفتیشی حکام کا دعویٰ ہے کہ عاصم نے مبینہ طور پر فیضان بٹ کو لاہور میں چھ پولیس اہلکاروں کو قتل کرنے کا ٹاسک دیا تھا۔حکام کے مطابق پاکستان واپسی کے بعد فیضان بٹ نے مبینہ طور پر تین پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایا تاہم بعد میں ایک مبینہ پولیس مقابلے میں مارا گیا۔پولیس کے مطابق حالیہ واقعات کے بعد فرار ہونے والے ملزمان کی تلاش شروع کی گئی،جس کے دوران شیخوپورہ کے قریب مبینہ پولیس مقابلے میں فیاض بٹ اور اس کا بیٹا ریحان بٹ بھی ہلاک ہوگئے تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کا ایک مبینہ ساتھی طارق تاحال گرفتار نہیں ہوسکا۔پولیس کے مطابق 32 سالہ طارق آزاد کشمیر کا رہائشی ہے اور مبینہ طور پر ریحان بٹ کے ساتھ رہ رہا تھا۔اس کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپہ مار کارروائیاں جاری ہیں جبکہ تفتیشی ٹیمیں اس کے ممکنہ رابطوں اور نقل و حرکت کا بھی جائزہ لے رہی ہیں۔دوسری جانب پولیس نے ٹارگٹ کلرز کی مبینہ سہولت کاری کے شبے میں مزید تین افراد کو حراست میں لیا ہے۔زیرِحراست افراد میں مناواں کا ایک رکشہ ڈرائیور بھی شامل ہے،جس کے بارے میں شبہ ہے کہ اس نے مبینہ ٹارگٹ کلرز کو حملے کے دوسرے مقام تک منتقل کیا۔پولیس کے مطابق مذکورہ رکشہ ڈرائیور پہلے حملے کے وقت بادامی باغ کے علاقے میں موجود تھا۔تفتیشی ٹیم اس کے موبائل فون،سفری روٹ اور دیگر دستیاب شواہد کی بنیاد پر اس کے ممکنہ کردار کا جائزہ لے رہی ہے۔ زیرِ حراست افراد سے حاصل ہونے والی معلومات کی روشنی میں مزید کارروائیاں جاری ہیں۔

تحقیقاتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس مبینہ ٹارگٹ کلنگ کے پسِ پردہ موجود نیٹ ورک تک پہنچنے کے قریب ہے۔اس مقصد کے لیے سی سی ٹی وی فوٹیج،کال ڈیٹا، موبائل فون ریکارڈ،سوشل میڈیا اکاونٹس،جغرافیائی نقل و حرکت اور دیگر ڈیجیٹل شواہد کا جائزہ لیا جارہا ہے۔پولیس کی جانب سے مبینہ ٹارگٹ کلر کے گھر سے ہینڈ گرینیڈ کی برآمدگی کو بھی تحقیقات میں اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے جبکہ مزید شواہد کی روشنی میں ممکنہ سہولت کاروں،رابطہ کاروں اور دیگر افراد کے کردار کا تعین کیا جارہا ہے۔بادامی باغ اور نواں کوٹ میں فائرنگ کے مختلف واقعات میں شہید ہونے والے سب انسپکٹر عدیل عاشق،ہیڈ کانسٹیبل اسد اور کانسٹیبل حارث سلیم کی نمازِ جنازہ پولیس لائنز قلعہ گجر سنگھ میں ادا کی جاچکی ہے،جس میں اعلیٰ پولیس حکام،سول و عسکری قیادت اور دیگر شخصیات نے شرکت کی اور شہدا کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔تحقیقاتی حکام کے مطابق کیس میں سامنے آنے والے تمام دعووں اور شواہد کا فرانزک اور قانونی جائزہ لیا جارہا ہے جبکہ گرفتار اور زیرِتفتیش افراد کے بیانات کو دیگر دستیاب شواہد سے ملا کر دیکھا جارہا ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے پر ٹارگٹ کلنگ کے پورے نیٹ ورک،اس کے ممکنہ سہولت کاروں اور حملوں کے محرکات کے بارے میں مزید حقائق سامنے آسکیں گے۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز