Home » سود و زیاں کی سیاست کے ماہر اعظم مولانا فضل الرحمان کا اسرائیل کے خلاف دبنگ اعلان،مگر شکوک و شبہات کے سائے مزید گہرے

سود و زیاں کی سیاست کے ماہر اعظم مولانا فضل الرحمان کا اسرائیل کے خلاف دبنگ اعلان،مگر شکوک و شبہات کے سائے مزید گہرے

تحریر :خالد شہزاد فاروقی

by ahmedportugal
17 views
A+A-
Reset

مولانا فضل الرحمان کے تازہ بیان نے ایک بار پھر ملکی سیاست میں ہلچل پیدا کر دی ہے ۔۔۔ انہوں  نے پارلیمنٹ میں کھڑے ہو کر بڑے واضح اور دو ٹوک الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ وہ اسرائیل کو کسی صورت تسلیم نہیں کریں گے ۔۔۔ ایسے وقت میں جب عالمی سطح پر فلسطین کا مقدمہ دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور بعض حلقوں میں اسرائیل سے تعلقات استوار کرنے کی سرگوشیاں بھی سنائی دے رہی ہیں،مولانا کا یہ موقف ایک جرات مندانہ صدا کے طور پر سامنے آیا ہے ۔۔۔۔ ان کے اس بیان  نے نہ صرف سیاسی ماحول کو گرما دیا ہے بلکہ عوامی سطح پر بھی بحث کو نئی جہت دے دی ہے تا ہم  یہ سوال اپنی جگہ قائم  ہے کہ کیا مولانا اس  بار اپنے موقف پر ” استقامت “ کے ساتھ قائم  رہیں  گے یا ماضی کی طرح  وقتی ” سیاسی سود و زیاں “ کے تقاضے ان کے فیصلوں پر اثر انداز ہوں گے؟؟؟

اس اہم  سوال کی  وجہ  یہ  ہے کہ سیاست کی دنیا  میں  بعض شخصیات  اپنی ” فکری الجھنوں “ اور ”عملی تضادات “ کے  سبب  تاریخ  کے صفحات  پر ایک عجیب  و غریب” پہچان “ رکھتی ہیں ۔۔۔۔ ان کے ” کردار“ میں بیک وقت ”جرات“ بھی نظر آتی ہے اور” مصلحت کا سایہ “ بھی،” استقامت  “ کا اعلان بھی سنائی دیتا ہے اور پس پردہ ” لچک بھی جھلکتی “ ہے ۔۔۔۔ مولانا فضل الرحمان کا شمار بھی انہی شخصیات میں ہوتا ہے جن کے بارے میں ” رائے قائم کرنا  “ ہمیشہ ایک مشکل مرحلہ رہا ہے ۔۔۔ ان کے ناقدین انہیں ” موقع پرست “ قرار دیتے ہیں تو حامی انہیں ” سیاسی بصیرت اور مفاہمت کی علامت “ بتاتے  ہیں ۔۔۔  یہ بات درست ہے کہ مولانا فضل الرحمان  نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے سوال پر دو ٹوک موقف اختیار کیا ہے ۔۔۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اسرائیل کو تسلیم نہیں کریں گے،یہ وہی اسرائیل ہے جس  کے قیام کو امت مسلمہ  نے ابتدا سے لے کر آج تک ایک ” غاصب “ حقیقت کے طور پر دیکھا ہے ۔۔۔ پاکستان کے بانی قائد اعظم محمد علی جناح  نے 1947 میں ہی واضح کر دیا تھا کہ فلسطین کے عوام کی مرضی کے بغیر اسرائیل کو تسلیم کرنا اسلامی اصولوں اور انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے ۔۔۔ اسی موقف کو بعد کی حکومتوں  نے بھی دہرایا اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان آج تک اسرائیل کو تسلیم کرنے سے انکاری رہا ہے ۔۔۔

اس پس منظر میں دیکھا جائے تو مولانا فضل الرحمان کا یہ موقف پاکستانی عوام کی اجتماعی سوچ سے ہم آہنگ نظر آتا ہے۔۔۔۔ لیکن تاریخ  کے دوسرے اوراق پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ مولانا کا سفر ہمہ وقت ” یکساں سیدھی لکیر “ پر نہیں رہا۔۔۔ انہوں  نے 26ویں آئینی ترمیم کی مخالفت کی تھی اور اسے اپنے ”اصولی موقف“ کا اظہار قرار دیا تھا مگر جلد ہی جب ” سیاسی بندوبست “ بدلا، نشستوں اور وزارت کی پیشکش سامنے آئی تو وہی ترمیم  قابل  قبول ہو گئی ۔۔۔۔ یہ وہ مقام ہے جہاں ان کے ناقدین کو اپنے بیانیے کے لیے مواد میسر آتا ہے ۔۔۔۔ سیاسی دنیا میں ” سود و زیاں “ کا حساب کتاب  نئی  بات  نہیں، تاریخ  ہمیں بتاتی ہے کہ امام شافعیؒ  نے فرمایا تھا ”رائے بدلنا عیب نہیں،بشرطیکہ یہ تبدیلی دلیل کی بنیاد پر ہو،نہ کہ ذاتی مفاد پر“ مگر جب تبدیلی کی بنیاد ” اقتدار یا مراعات “ دکھائی دے تو پھر اس پر سوال اٹھنا لازمی ہے۔۔۔۔ اسی طرح ماضی میں ملٹری آپریشنز پر بھی مولانا  نے ” کڑی تنقید “ کی تھی ۔۔۔ انہوں  نے عوامی جذبات کے مطابق کہا کہ یہ آپریشن دراصل اپنے ہی لوگوں کے خلاف ایک جنگ ہے لیکن بعد ازاں جب ” سیاسی شراکت داری اور حکومتی عہدے “ سامنے آئے تو ان کی رائے بدل گئی اور وہ انہی آپریشنز کی تائید کرنے لگے۔۔۔۔افغان جنگ کے حوالے سے بھی ان کے موقف میں یہی ” تضاد “ جھلکتا ہے ۔۔۔۔ شروع میں وہ اس جنگ کو ایک غیر دانشمندانہ مداخلت قرار دیتے رہے لیکن جلد ہی ” سیاسی مفاہمت “ کی چادر اوڑھ کر وہ بھی اس صف میں جا کھڑے ہوئے جسے پہلے” برا “ کہا تھا۔۔۔۔

سوال یہ نہیں کہ ایک سیاستدان  نے اپنی رائے بدلی کیوں؟ بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ یہ  ” تبدیلی “ کس بنیاد  پر آئی؟ تاریخ  میں ہمیں ایسے کئی رہنما ملتے ہیں جنہوں نے حالات کے مطابق اپنی حکمت عملی میں تبدیلی کی مگر ان کے فیصلوں کے پیچھے اصولی جواز ہوتا تھا۔۔۔۔ صلاح الدین ایوبیؒ  نے  بیت المقدس کی جنگ میں کئی بار مصلحت کے تحت صلح کی مگر مقصد ہمیشہ ایک ہی رہا ” بیت المقدس کی آزادی  “ یہی فرق ہے” اصولی سیاست اور وقتی سیاست “ میں ۔۔۔ مولانا فضل الرحمان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ” نرم دل اور مزاجاً لچک دار “ شخصیت ہیں ۔۔۔۔ یہ بات کسی حد تک درست بھی ہے، کیونکہ وہ اکثر ” چھوٹی سی پیشکش “ یا یقین دہانی پر اپنے” شدید موقف “ سے پیچھے ہٹتے نظر آتے  ہیں ۔۔۔۔ ان کے ناقدین اس کیفیت کو” کمزوری “ کہتے ہیں مگر ان کے حامی اسے” سیاسی تدبر اور حقیقت پسندی “ کا نام دیتے ہیں۔۔۔۔ بہرحال حقیقت یہ ہے کہ ان کی موجودگی ہمیشہ پاکستانی سیاست میں ایک اہم عنصر رہی ہے۔

مولانا کے” کردار“ کا سب سے دلچسپ پہلو یہ ہے کہ وہ اکثر خود کو ” حق پرستوں “ کی صف میں کھڑا دکھاتے ہیں مگر جب بھی وہ کسی سمت میں کھڑے ہوتے ہیں، عوام کی ایک بڑی تعداد کو یہ یقین ہو جاتا ہے کہ ” اصل حق “ دوسری طرف ہے ۔۔۔۔  شاید یہی ان کی سیاسی حکمت عملی ہے یا شاید یہ محض اتفاق ہے کہ ان کی موجودگی سے” سمتوں کا تعین “ آسان ہو جاتا  ہے۔۔۔۔۔۔۔اسرائیل کو تسلیم  نہ کرنے کا اعلان  بلاشبہ ان  کے کریڈٹ  پر جاتا ہے ۔۔۔ یہ وہ نکتہ ہے جس پر وہ نہ صرف عوام  بلکہ پوری امت  کے جذبات  کے ساتھ  کھڑے دکھائی دیتے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ جب ” دباو“ بڑھے  گا، جب اقتدار کے” دروازے“ کھلیں  گے، جب وزارتوں اور نشستوں کی گنتی سامنے آئے گی تو کیا وہ اس” اصولی موقف “ پر قائم  رہیں گے؟ یا ایک  بار  پھر تاریخ  وہی تماشا دہرائے گی جو ماضی کے صفحات پر بارہا دیکھا گیا ہے ؟؟؟؟ سیاسی تاریخ میں ایسے” تضادات  “ نئے  نہیں ۔۔۔۔۔۔۔ مغل شہنشاہ  اکبر  نے دین الٰہی کے  تجربے  سے وقتی طور پر شہرت  پائی مگر تاریخ   نے اسے تسلسل  نہ  دیا۔ ۔۔۔عباسی  خلفا میں کئی ایسے گزرے جو ابتدا  میں  زہد و تقویٰ کے  پیکر تھے مگر اقتدار کے ایوانوں میں پہنچ کر ان کے فیصلے بدل  گئے ۔۔۔۔ یہی تضاد آج  بھی ہمارے  سیاسی رہنماوں کے کردار میں جھلکتا  ہے ۔۔۔۔ مولانا فضل الرحمان  کے بارے میں یہ  کہنا  درست ہو گا کہ وہ ایک ایسے” شطرنجی کھلاڑی “ ہیں جو ہمیشہ” اگلی چال “ کی تیاری رکھتے ہیں ۔۔۔۔ وہ جانتے ہیں کہ” اقتدار کی بساط  “ پر کب کس ” مہرے “ کو آگے بڑھانا ہے اور کب پیچھے  ہٹانا  ہے لیکن  تاریخ  کے اوراق  ہمیں یہ  بھی بتاتے ہیں  کہ ایسے کھلاڑی  کبھی کبھی اپنی ہی  چال میں الجھ  جاتے  ہیں ۔۔۔۔ وقت  گزرنے  کے ساتھ  یہ طے ہو گا کہ مولانا اسرائیل کے مسئلے پر واقعی استقامت  کا ” کوہ ہمالیہ “ ثابت ہوں  گے  یا  ایک  بار  پھر  سیاسی  موسم  کی ” گرمی سردی “ کے مطابق اپنا ” لباس “ بدل  لیں  گے ۔۔۔ فی الحال  ان  کا اعلان قابل  تحسین  ہے مگر عوام اور تاریخ کی نگاہیں  ہمیشہ اس دن کا  انتظار  کرتی  ہیں جب  ” قول و فعل “ کے تضاد  کے بجائے ” قول اور عمل “ کی یکسانیت ان کی شخصیت  کی  پہچان  بن جائے ۔۔۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز