نیویارک(ایگزو نیوز ڈیسک) وینزویلا کے صدر نیکولس مادورو نے امریکی عدالت میں پہلی بار پیشی کے دوران اپنے خلاف وفاقی منشیات کے الزامات کی سختی سے تردید کی اور خود کو ”بے قصور“ اور اپنے ملک کا آئینی صدر قرار دیا۔ اسی سماعت میں ان کی اہلیہ سیلیا فلورز نے بھی الزامات کو مسترد کیا۔ عدالت نے دونوں کو وینزویلا کے قونصل خانے سے ملاقات کرنے کا حق بھی دیا۔دریں اثنا عبوری صدر ڈیلسی رودریگز نے واشنگٹن کے ساتھ تعلقات میں ”متوازن اور باعزت“ رویے کی ضرورت پر زور دیا جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ وینزویلا کے معاملات میں مکمل کنٹرول رکھتا ہے۔ٹرمپ نے وینزویلا کے خلاف مزید عسکری کارروائیوں کی دھمکی دی ہے اور کولمبیا کے صدر گوستاوو پیٹرو کو بھی نشانہ بنایا،جسے پیٹرو نے ”غیر قانونی“ قرار دیا۔ ٹرمپ نے میکسیکو کو بھی خبردار کیا کہ اسے اپنی پالیسیاں درست کرنی ہوں گی۔
ایگزو نیوز کے مطابق نیویارک کی عدالت میں اپنی پہلی پیشی کے موقع پر مادورو نے کمرہ عدالت میں داخل ہوتے ہی عوام کو ہاتھ ہلا کر سلام کیا اور کہا کہ میں بے قصور ہوں،میں 3 جنوری سے اغوا شدہ ہوں اور میری رہائش گاہ سے مجھے گرفتار کیا گیا۔سماعت کے اختتام پر ایک شخص نے عوامی گیلری میں شور مچایا،جس پر مادورو نے با آواز بلند جواب دیا کہ میں جنگی قیدی ہوں۔مادورو نے عدالت میں اپنے خلاف الزامات کو قبول کرنے سے انکار کیا۔عدالت میں دوران سماعت صدر مادورو کی اہلیہ سیلیا فلورز کے وکیل نے کہا کہ اغوا کے دوران انہیں شدید چوٹیں آئی ہیں،جن میں پسلیوں کی فریکچر یا شدید زخم ہونے کا امکان ہے۔عدالت نے سماعت کے دوران جج نے صدر مادورو اور ان کی اہلیہ فلورز کو اپنے وکیلوں کے ساتھ تفصیلی مشاورت کرنے اور لگائے گئے الزامات پر الگ سے ملاقات کا حکم دے دیا جبکہ اس موقع پر عدالت نے دونوں میاں بیوی کو وینزویلا کے قونصل خانے سے بھی ملاقات کرنے کی اجازت دے دی۔
دوسری جانب صدرمادورو کی گرفتاری کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے فوری اجلاس طلب کیا اور امریکی کارروائی پر شدید تشویش کا اظہار کیا جبکہ وینزویلا کے سفیر سیموئل مونکادا نے امریکہ کے اس اقدام کو ”غیر قانونی“ قرار دیا۔امریکی سفیر مائیک والٹز نے دفاع کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ وینزویلا کے ساتھ جنگ میں نہیں ہے اور مادورو کی گرفتاری قانونی ہے۔انہوں نے الزام لگایا کہ مادورو نے خطے میں عدم استحکام پیدا کیا اور اپنے عوام کو دبایا۔دوسری طرف وینزویلا کے صدر مادورو کے بیٹے نے نیشنل اسمبلی سے خطاب میں عبوری صدر ڈیلسی رودریگز کے لیے اپنی ”غیر مشروط حمایت“ کا اعلان کیا اور بین الاقوامی تعلقات میں متوازن رویے کی ضرورت پر زور دیا۔دوسری جانب کولمبیا کے صدر گوستاوو پیٹرو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ کسی بھی خطرے کے سامنے ہتھیار اٹھانے کے لیے تیار ہیں تاہم کولمبیا کی حکومت نے منشیات کے خلاف امریکہ کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کا اعلان کیا جبکہ امریکی صدر ٹرمپ نے کولمبیا کے صدر پر تنقید کرتے ہوئے خبردار کیا کہ جنوبی امریکہ میں امریکی عسکری کارروائی کا اگلا ہدف کولمبیا ہو سکتا ہے۔ماہرین کے مطابق وینزویلا کے صدر مادورو کی گرفتاری اور ڈیلسی رودریگز کی عبوری صدارت امریکی حکمت عملی کا صرف آغاز ہے اور واشنگٹن مستقبل قریب میں وینزویلا پر اپنا اثر و رسوخ مضبوط کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔امریکی وزارت دفاع کے مطابق تقریباً 200 امریکی فوجی کاراکاس میں مادورو کی گرفتاری کے لیے تعینات کیے گئے، جبکہ 150 سے زائد فوجی طیاروں نے مختلف کردار ادا کیے،جن میں وینزویلا کی دفاعی تنصیبات پر بمباری بھی شامل تھی۔ امریکی سیکریٹری دفاع پیٹ ہیگ سیٹھ کے مطابق کارروائی مکمل کامیابی کے ساتھ انجام پائی اور کسی امریکی اہلکار کو نقصان نہیں پہنچا۔