لندن پولیس نے پاکستان کے سابق چیف جسٹس جسٹس (ر) قاضی فائز عیسیٰ کی گاڑی پر حملے کی تحقیقات بند کر دی ہیں، اور اس فیصلے کو شواہد کی کمی کے باعث عمل میں لایا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق کراؤن پراسیکیوشن سروس (سی پی ایس) نے کیس کو عدالت میں لے جانے سے انکار کر دیا، کیونکہ دستیاب شواہد کی بنیاد پر کسی مجرم کو سزا دلوانا ممکن نہیں تھا۔
پاکستان ہائی کمیشن اور سٹی آف لندن پولیس کے ذرائع نے تصدیق کی کہ اس کیس کو شواہد کی کمی کی وجہ سے بند کر دیا گیا ہے، جو پراسیکیوشن کے لئے ضروری تھے۔
اس سے پہلے پی ٹی آئی کے کارکنان نے لندن میں سابق چیف جسٹس کی گاڑی کو روکنے کی کوشش کی تھی، جو پاکستان ہائی کمیشن کی ملکیت تھی۔ ان کارکنان نے گاڑی کے شیشے توڑنے کی کوشش کی اور گاڑی کو دیکھتے ہی نعرے بازی شروع کر دی تھی۔ انہوں نے گاڑی کے ساتھ دوڑ کر احتجاج کیا تھا۔
پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اس حملے کے ذمہ داروں کو گرفتار کرنے کیلئے فوری اقدامات کریں گے۔ نقوی نے نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کو ہدایت دی کہ وہ حملہ آوروں کی شناخت کیلئے فوری طور پر اقدامات کرے۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ پاکستان ہائی کمیشن نے لندن میں اس حملے کے بارے میں ایک باضابطہ شکایت درج کرائی تھی، تاہم کسی کا نام نہیں لیا گیا تھا۔