اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)لاہور ہائیکورٹ نے موٹر وے زیادتی کیس میں فیصلہ سناتے ہوئے واضح کر دیا کہ سنگین جرائم میں ملوث مجرم کسی رعایت کے مستحق نہیں،عدالت نے عابد ملہی اور شفقت بگا کی اپیلیں مسترد کرتے ہوئے ان کی سزائے موت برقرار رکھنے کا حکم دے دیا۔اس دوٹوک فیصلے کو نہ صرف انصاف کی جیت بلکہ معاشرے میں قانون کی بالادستی کا مضبوط پیغام بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق لاہور ہائیکورٹ نے موٹر وے زیادتی کیس میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے مرکزی مجرموں عابد ملہی اور شفقت بگا کی سزائے موت کے خلاف دائر اپیلیں مسترد کر دیں اور انسدادِ دہشت گردی عدالت کی جانب سے سنائی گئی سزائے موت کو برقرار رکھنے کا حکم دے دیا۔عدالت کے اس فیصلے کو انصاف کی فراہمی کے ایک اہم مرحلے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔جسٹس سید شہباز علی رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی،جس دوران وکیلِ صفائی نے موقف اختیار کیا کہ ٹرائل کورٹ نے شواہد اور حقائق کا مکمل اور درست جائزہ نہیں لیا لہٰذا سزائے موت کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے تاہم پراسیکیوشن کی جانب سے اس موقف کی سخت مخالفت کی گئی۔پراسیکیوٹر راحیلہ شاہد نے عدالت کو آگاہ کیا کہ انسدادِ دہشت گردی عدالت نے تمام شواہد،گواہوں اور فرانزک رپورٹس کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد میرٹ پر فیصلہ سنایا تھا اور دونوں مجرموں کے خلاف ناقابلِ تردید ثبوت موجود ہیں،اس لیے اپیلوں کو مسترد کیا جائے۔فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کیا،جسے بعد ازاں سناتے ہوئے دونوں مجرموں کی اپیلیں خارج کر دی گئیں اور سزائے موت کو برقرار رکھا گیا۔
واضح رہے کہ انسدادِ دہشت گردی عدالت نے 20 مارچ 2021 کو دونوں مجرموں کو اجتماعی زیادتی کے جرم میں سزائے موت سنائی تھی، جس کے خلاف انہوں نے 25 مارچ 2021 کو لاہور ہائیکورٹ میں اپیلیں دائر کی تھیں۔دوسری جانب پراسیکیوٹر جنرل پنجاب سید فرہاد علی شاہ نے مقدمے کی موثر پیروی پر پراسیکیوشن ٹیم کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے اسے انصاف کی جیت قرار دیا ہے۔