لاہور(ایگزو نیوز ڈیسک)لاہور ہائیکورٹ نے محرم الحرام کے دوران مجالس اور جلوسوں کے انعقاد سے متعلق ایک اہم قانونی نکتہ طے کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ گھروں کے اندر منعقد ہونے والی مذہبی مجالس کے لیے کسی پیشگی اجازت یا لائسنس کی ضرورت نہیں ہوگی۔عدالت نے اپنے حکم میں واضح کیا کہ نجی رہائش گاہوں میں ہونے والی مجالس کے منتظمین صرف سکیورٹی کے پیش نظر متعلقہ انتظامیہ کو اطلاع دینے کے پابند ہوں گے تاہم اجازت نامہ حاصل کرنا لازم نہیں ہوگا۔یہ فیصلہ محرم الحرام کے انتظامی و قانونی ڈھانچے کے حوالے سے ایک اہم عدالتی رہنمائی قرار دیا جا رہا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق لاہور ہائیکورٹ نے محرم الحرام کے جلوسوں اور مجالس کے انعقاد سے متعلق اہم قانونی نکتہ طے کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ گھروں کے اندر منعقد ہونے والی مجالس کے لیے کسی قسم کی پیشگی اجازت یا لائسنس حاصل کرنا ضروری نہیں ہو گا۔عدالت نے اس فیصلے کو عدالتی نظیر قرار دیتے ہوئے آئندہ کے لیے اس حوالے سے اصولی رہنمائی بھی فراہم کر دی ہے۔یہ فیصلہ جسٹس امجد رفیق نے شہری سید واصی حیدر کی درخواست پر 10 صفحات پر مشتمل تفصیلی تحریری حکم نامے کی صورت میں جاری کیا۔عدالت نے قرار دیا کہ نجی رہائش گاہوں میں ہونے والی مذہبی مجالس کے منتظمین صرف سکیورٹی کے پیش نظر متعلقہ انتظامیہ کو پیشگی اطلاع دینے کے پابند ہوں گے تاہم کسی بھی صورت میں اجازت نامہ یا لائسنس حاصل کرنا لازم نہیں ہو گا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں مزید کہا کہ عوامی مقامات اور سڑکوں پر جلوسوں کے انعقاد کے لیے ضلعی پولیس اور ڈپٹی کمشنر سے باقاعدہ اجازت لینا ضروری ہے جبکہ جلوسوں کے لائسنس جاری کرنے کا اختیار ضلعی پولیس کے پاس ہو گا۔عدالت نے واضح کیا کہ اس عمل میں ہوم ڈیپارٹمنٹ کو براہ راست مداخلت کا اختیار حاصل نہیں۔فیصلے میں یہ بھی ہدایت دی گئی کہ یوم عاشورہ کے پرامن اور منظم انعقاد کے لیے پولیس اور ضلعی انتظامیہ باہمی تعاون سے موثر اقدامات کریں۔عدالت نے کہا کہ محرم الحرام سے کم از کم ایک ماہ قبل جلوسوں اور مجالس کی رجسٹریشن کا عمل شروع کیا جانا چاہیے تاکہ سکیورٹی اور انتظامی امور کو بہتر انداز میں مکمل کیا جا سکے۔عدالت نے انتظامیہ کو یہ بھی ہدایت کی کہ وہ پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے ذریعے عوام کو بروقت آگاہی فراہم کرے تاکہ کسی بھی قسم کی غلط فہمی یا بدانتظامی سے بچا جا سکے۔فیصلے میں کہا گیا کہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ مذہبی اجتماعات کے انعقاد میں سہولت کاری کو یقینی بنائے اور شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ کرے۔