لاہور(ایگزو نیوز ڈیسک)27 ویں آئینی ترمیم کے نفاذ کے بعد ملک کی عدلیہ ایک نئی ہلچل کی لپیٹ میں آگئی ہے،عدالتی بینچز میں بے چینی بڑھنے لگی اور حکومتی اقدام کے خلاف ردعمل نے سنگین صورت اختیار کر لی ہے۔سپریم کورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ کے بعد لاہور ہائیکورٹ کے جج جسٹس شمس محمود مرزا نے بھی مستعفی ہونے کا اعلان کرتے ہوئے اپنا استعفا صدر مملکت کو بھیج دیا ہے،اس استعفے نے یہ سوال بھی گہرا کر دیا ہے کہ کیا واقعی عدلیہ کی خود مختاری کو براہِ راست چیلنج کیا جا رہا ہے؟باوثوق ذرائع کے مطابق ججز کے مزید استعفے بھی سامنے آ سکتے ہیں جس کے باعث اعلیٰ عدلیہ ممکنہ بحران کے دہانے پر کھڑی دکھائی دیتی ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے جج جسٹس شمس محمود مرزا نے 27ویں آئینی ترمیم کے نفاذ کے بعد اپنے اختیارات میں کمی اور عدلیہ کی خود مختاری سے متعلق تحفظات کے پیش نظر عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ذرائع کے مطابق جسٹس شمس محمود مرزا نے اپنا استعفیٰ صدر پاکستان کو بھجوا دیا ہے اور انہوں نے با ضابطہ طور پر اپنا چیمبر بھی خالی کردیا ہے۔ان کی ریٹائرمنٹ سنہ 2028 میں متوقع تھی تا ہم آئینی ترمیم کے بعد ججز کے انتظامی اختیارات اور تبادلوں کے اعلانات نے عدالتی صفوں میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔اس پس منظر میں استعفوں کا یہ سلسلہ مزید آگے بڑھنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ملک میں 27ویں آئینی ترمیم اور عدالتی اختیارات کی نئی تشکیل کے بعد مختلف عدالتوں میں ججز کے اختیارات،تقرری اور انتظامی ڈھانچے پر اعتراضات اٹھائے جا رہے ہیں۔قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ترمیم عدلیہ کی آزادی اور آئین کے بنیادی ڈھانچے کو متاثر کر سکتی ہے جبکہ حکومتی حلقوں کی جانب سے اس اقدام کا دفاع کرتے ہوئے اسے اصلاحات اور پارلیمانی اختیار قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ جسٹس شمس محمود مرزا کے خلاف جنوری میں سپریم جوڈیشل کونسل میں ایک ریفرنس بھی دائر کیا گیا تھا جس کے بعد ان کے مستقبل کے عدالتی کردار سے متعلق مختلف قانونی اور انتظامی امکانات زیرِ غور تھے تا ہم 27ویں ترمیم سے متعلق اعتراضات اور اختیارات میں ممکنہ کمی پر تشویش نے استعفیٰ کی راہ ہموار کر دی۔جسٹس شمس محمود مرزا کا استعفیٰ اس وقت سامنے آیا ہے جب اس سے قبل سپریم کورٹ کے سینئر ججز جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ بھی اسی ترمیم کے خلاف احتجاجاً مستعفی ہو چکے ہیں۔دونوں جج صاحبان نے اپنے بیانات میں اس ترمیم کو آئین پر سنگین حملہ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس سے عدلیہ کو حکومت کے ماتحت لانے کی کوشش کی گئی ہے۔قانونی حلقے اور وکلاء برادری اس حالیہ صورتحال کو عدلیہ کے اندر ایک بڑے آئینی بحران کا پیش خیمہ قرار دے رہی ہے۔مبصرین کے مطابق ججز کے مسلسل استعفے عدالتی عمل،بینچوں کی تشکیل اور اہم آئینی مقدمات پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔دوسری جانب اپوزیشن جماعتیں اس ترمیم کو مسترد کرتے ہوئے عدلیہ کے ساتھ مکمل اظہارِ یکجہتی کر چکی ہیں جبکہ وکلا تنظیموں نے بھی ملک گیر احتجاج کی تیاری شروع کر دی ہے۔آئندہ چند دن اس ماحول میں انتہائی اہم قرار دیے جا رہے ہیں کیونکہ مزید ججز کے استعفوں کا امکان،عدالتی کارروائی میں رکاوٹ اور آئینی تشریح کے لیے فل کورٹ یا اعلیٰ عدالتی فورمز پر بحث کے امکانات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔مبصرین کا کہنا ہے کہ عدلیہ کی آزادی سے متعلق یہ صورت حال مستقبل قریب میں ملک کے آئینی ڈھانچے اور سیاسی توازن کے لیے اہم ترین موڑ ثابت ہو سکتی ہے۔