لاہور(ایگزو نیوز ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی)کے بانی چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان کے بھانجے اور معروف وکیل حسان نیازی کی ملٹری کسٹڈی اور ممکنہ کورٹ مارشل کارروائی کے خلاف دائر درخواست پر لاہور ہائی کورٹ نے رجسٹرار آفس کے اعتراضات سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق، جسٹس سید شہباز رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سماعت کی، پنجاب حکومت کے وکیل راو اورنگزیب نے موقف اختیار کیا کہ رجسٹرار آفس کے اعتراضات بالکل درست ہیں کیونکہ درخواست گزار نے مصدقہ نقول کے لیے کوئی باضابطہ درخواست نہیں دی اور ملٹری ادارے کے خلاف براہ راست درخواست قابلِ سماعت نہیں۔دوسری جانب حسان نیازی کے وکیل فیصل صدیقی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ان کے موکل کو ایس ایچ او کی جانب سے ملٹری ادارے کے حوالے کیا گیا، جبکہ دیگر افراد کو انسدادِ دہشتگردی عدالت کے حکم کے تحت ملٹری کسٹڈی میں دیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ رجسٹرار آفس کے اعتراضات درست نہیں، عدالت انہیں ختم کرے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوں۔یاد رہے کہ حسان نیازی نے اپنی ملٹری تحویل کے نوٹی فکیشن اور کورٹ مارشل کارروائی کو چیلنج کر رکھا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ یہ اقدام غیر قانونی اور آئین و قانون کے منافی ہے۔لاہور ہائی کورٹ اب یہ طے کرے گی کہ آیا رجسٹرار آفس کے اعتراضات ختم کیے جائیں یا برقرار رکھے جائیں؟اس فیصلے پر نہ صرف حسان نیازی بلکہ سیاسی و قانونی حلقوں کی نظریں بھی جمی ہوئی ہیں، کیونکہ یہ مقدمہ شہری آزادیوں اور فوجی عدالتوں کے دائرہ اختیار کے حوالے سے ایک بڑا امتحان سمجھا جا رہا ہے۔
حسان نیازی کی ملٹری تحویل اور کورٹ مارشل کے خلاف درخواست،لاہور ہائی کورٹ سے اہم خبر آ گئی
12