Home » لاہور ہائیکورٹ میں زیرِ حراست افراد کی بازیابی کا معاملہ،آئی جی پنجاب اور ڈی پی او شیخوپورہ کی رپورٹس میں تضاد

لاہور ہائیکورٹ میں زیرِ حراست افراد کی بازیابی کا معاملہ،آئی جی پنجاب اور ڈی پی او شیخوپورہ کی رپورٹس میں تضاد

by ahmedportugal
34 views
A+A-
Reset

لاہور(ایگزو نیوز ڈیسک)لاہور ہائیکورٹ نے دو شہریوں، تصور اقبال اور شبیر حسین،کی بازیابی کے لیے دائر درخواست پر سماعت کرتے ہوئے پولیس حکام کی رپورٹس میں تضاد سامنے آنے پر ڈی پی او شیخوپورہ کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا۔عدالت نے کیس کی مزید سماعت کل تک ملتوی کردی۔
ایگزو نیوز کے مطابق جسٹس وحید خان نے شہری مدثر اقبال کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کی، جس میں درخواست گزار کی طرف سے ایڈووکیٹ میاں منیب عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔سماعت کے دوران آئی جی پنجاب،سی سی ڈی اور ڈی پی او شیخوپورہ کی جانب سے رپورٹس عدالت میں پیش کی گئیں۔عدالت کے سامنے پیش کی گئی آئی جی پنجاب کی رپورٹ میں موقف اختیار کیا گیا کہ دونوں افراد پولیس کی حراست میں ہیں تاہم ڈی پی او شیخوپورہ کی رپورٹ میں دونوں شہریوں کے بارے میں لاعلمی ظاہر کی گئی۔پولیس کے دو مختلف افسران کی رپورٹس میں سامنے آنے والے اس واضح تضاد پر عدالت نے ڈی پی او شیخوپورہ کو ذاتی حیثیت میں عدالت کے روبرو پیش ہونے کا حکم دے دیا۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ 29 اگست کو سادہ لباس میں ملبوس افراد کے ہمراہ پولیس اہلکار مبینہ طور پر درخواست گزار کے گھر میں داخل ہوئے اور دونوں شہریوں کو زبردستی اپنے ساتھ لے گئے۔درخواست گزار کے مطابق واقعے کے بعد پولیس ایمرجنسی نمبر 15 پر بھی اطلاع دی گئی تاہم مبینہ طور پر کوئی موثر کارروائی نہیں کی گئی۔درخواست میں مزید الزام عائد کیا گیا کہ اہل خانہ کی جانب سے پولیس سے متعدد مرتبہ رابطہ کرنے کے باوجود دونوں افراد کے بارے میں کوئی واضح معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔درخواست گزار کے مطابق مبینہ طور پر پولیس اہلکاروں نے رشوت کا مطالبہ بھی کیا اور رقم ادا نہ کرنے کی صورت میں دونوں شہریوں کو سنگین نوعیت کے جھوٹے مقدمات میں ملوث کرنے کی دھمکیاں دیں۔درخواست میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا کہ مبینہ رشوت کا مطالبہ پورا نہ کرنے پر دونوں افراد کو پولیس مقابلے میں ہلاک کرنے کی دھمکی دی گئی۔

درخواست گزار کا کہنا تھا کہ پولیس حکام کو معاملے سے متعلق تحریری درخواست بھی دی گئی تاہم مبینہ طور پر درخواست وصول نہیں کی گئی۔درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ دونوں افراد کے مبینہ طور پر زیرِ حراست ہونے کی صورت میں ان کی زندگی، آزادی اور بنیادی حقوق کو شدید خطرات لاحق ہیں۔عدالت سے استدعا کی گئی کہ دونوں شہریوں کو فوری طور پر بازیاب کراکے عدالت کے روبرو پیش کرنے کا حکم دیا جائے۔سماعت کے دوران عدالت نے پولیس کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹس کا جائزہ لیا،جن میں ایک طرف دونوں افراد کے پولیس حراست میں ہونے کی اطلاع دی گئی جبکہ دوسری جانب ضلعی پولیس سربراہ نے ان کے بارے میں لاعلمی ظاہر کی۔رپورٹس میں اس تضاد کے بعد عدالت نے ڈی پی او شیخوپورہ کو ذاتی حیثیت میں طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی۔عدالت کے آئندہ سماعت میں ڈی پی او شیخوپورہ کی وضاحت اور دونوں شہریوں سے متعلق مزید پیش رفت سامنے آنے کا امکان ہے تاہم درخواست میں عائد کیے گئے پولیس اہلکاروں کے خلاف الزامات تاحال زیرِ تفتیش اور عدالتی جائزے کے مرحلے میں ہیں،جن کی حتمی قانونی حیثیت شواہد اور مزید عدالتی کارروائی کے بعد واضح ہوگی۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز