Home » لاہور کی ٹریفک میں نمایاں بہتری،ٹریولنگ ٹائم کے لحاظ سے 149 عالمی شہروں سے آگے نکل گیا

لاہور کی ٹریفک میں نمایاں بہتری،ٹریولنگ ٹائم کے لحاظ سے 149 عالمی شہروں سے آگے نکل گیا

by ahmedportugal
18 views
A+A-
Reset

اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)لاہور میں ٹریفک کی روانی اور سفری اوقات میں بہتری کے حوالے سے ایک نئی رپورٹ سامنے آئی ہے جس کے مطابق شہر کا ٹریولنگ ٹائم دنیا کے 149 ترقی یافتہ شہروں کے مقابلے میں بہتر قرار دیا گیا ہے۔ٹریفک حکام نے اس پیش رفت کو روڈ انفرااسٹرکچر میں بہتری،زیرو ٹالرنس پالیسی،موثر پٹرولنگ،ڈیجیٹل مانیٹرنگ،کیمرہ چیکنگ اور شہریوں میں ٹریفک قوانین سے متعلق بڑھتے ہوئے شعور کا نتیجہ قرار دیا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق ورلڈ ٹریفک انڈیکس سے منسوب اعدادوشمار میں بتایا گیا ہے کہ لاہور کی ٹریفک صورتحال اور سفری وقت میں گزشتہ چند برسوں کے دوران نمایاں تبدیلی آئی ہے۔فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق لاہور 2024 میں 120ویں جبکہ 2025 میں 129ویں نمبر پر تھا جبکہ موجودہ درجہ بندی میں اسے 149ویں پوزیشن پر بتایا گیا ہے۔اس درجہ بندی کو رپورٹ میں ٹریولنگ ٹائم کے تناظر میں شہر کی نسبتاً بہتر کارکردگی سے جوڑا گیا ہے۔ٹریفک حکام کے مطابق لاہور میں سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے میں بہتری، ٹریفک قوانین پر سختی سے عملدرآمد اور شہریوں میں روڈ سیفٹی کے شعور میں اضافے نے سفری اوقات کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ ٹریفک مینجمنٹ کو محض نفاذِ قانون تک محدود رکھنے کے بجائے جدید ٹیکنالوجی اور مربوط نگرانی کے ذریعے زیادہ موثر بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔

سی ٹی او لاہور کے مطابق ادارہ جاتی اصلاحات، موثر پٹرولنگ،ڈیجیٹل مانیٹرنگ اور کیمروں کے ذریعے ٹریفک کی نگرانی سے شہریوں کے سفری وقت میں بہتری لانے میں مدد ملی۔ان کا کہنا تھا کہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اختیار کرنے سے سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر ہوا ہے۔ٹریفک حکام کے مطابق شہر میں نئے انڈرپاسز کی تعمیر،سگنل فری کوریڈورز کا قیام،غیر ضروری یوٹرنز کی بندش اور ون وے کی خلاف ورزیوں کے خلاف کارروائی نے بھی ٹریفک کی روانی بہتر بنانے میں کردار ادا کیا ہے۔ان اقدامات کا مقصد اہم شاہراہوں پر غیر ضروری رکاوٹ کم کرکے گاڑیوں کی مسلسل نقل و حرکت کو ممکن بنانا ہے۔حکام کے مطابق جدید کیمرہ سسٹم اور ڈیجیٹل مانیٹرنگ کے ذریعے ٹریفک کی نگرانی نے بھی روایتی نظام کی نسبت زیادہ موثر نتائج دیے ہیں۔لاہور میں سیف سٹی کیمروں اور ای چالان جیسے نظام کے ذریعے ٹریفک قوانین پر عملدرآمد کی نگرانی پہلے ہی بڑھائی جاچکی ہے؛ماضی میں بھی پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کی جانب سے ایسے نظام کے ذریعے ٹریفک بہاو اور خلاف ورزیوں میں بہتری کے دعوے کیے گئے تھے۔

رپورٹ میں دنیا کے مختلف بڑے شہروں کے ٹریولنگ ٹائم کا تقابلی جائزہ بھی پیش کیا گیا ہے۔فراہم کردہ اعدادوشمار کے مطابق بدترین ٹریولنگ ٹائم والے شہروں میں امریکا،بھارت اور بنگلہ دیش کے متعدد شہر نمایاں ہیں۔لاس اینجلس تیسرے،شارجہ چوتھے،دہلی پانچویں،ڈھاکہ ساتویں اور تہران 14ویں نمبر پر بتائے گئے ہیں۔اسی فہرست میں استنبول 20ویں،ماسکو 29ویں،بینکاک 39ویں،ٹورنٹو 50ویں،سڈنی 57ویں،کراچی 64ویں اور میلبورن 65ویں نمبر پر درج ہیں۔بیجنگ 76ویں،دبئی 90ویں،لندن 119ویں، پیرس 142ویں اور ٹوکیو 145ویں نمبر پر بتائے گئے ہیں۔فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق لاہور کا ٹریولنگ ٹائم کراچی اور اسلام آباد کے مقابلے میں بھی قدرے بہتر قرار دیا گیا ہے تاہم عالمی ٹریفک اشاریوں کی مختلف رپورٹس مختلف طریقہ کار استعمال کرتی ہیں،اس لیے مختلف انڈیکسز کے نتائج کو براہِ راست ایک دوسرے کے برابر نہیں سمجھا جاسکتا۔مثال کے طور پر TomTom کا ٹریفک انڈیکس حقیقی ڈرائیونگ ڈیٹا اور 10 کلومیٹر کے سفر کے وقت سمیت مختلف پیمانوں استعمال کرتا ہے جبکہ دیگر ٹریفک انڈیکسز کا طریقہ کار مختلف ہوسکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق بہترین ٹریولنگ ٹائم رکھنے والے شہروں میں سوئٹزرلینڈ،آسٹریا،سویڈن اور جرمنی کے شہر نمایاں ہیں،جہاں شہریوں کو نسبتاً بہتر سفری سہولیات اور ٹریفک مینجمنٹ کے باعث کم سفری وقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔سی ٹی او لاہور نے کہا کہ صرف سڑکیں اور ٹریفک سگنلز ہی ٹریفک مینجمنٹ کی کامیابی کی ضمانت نہیں دے سکتے بلکہ شہریوں کا تعاون بھی بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ان کے مطابق جب تک ڈرائیورز اور دیگر سڑک استعمال کرنے والے ٹریفک قوانین کی پابندی نہیں کریں گے،کسی بھی شہر میں مستقل بنیادوں پر ٹریفک کی بہتری ممکن نہیں۔ٹریفک حکام نے میڈیا کے کردار کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ قانون کی پاسداری،روڈ سیفٹی اور شہری ذمہ داریوں کے حوالے سے آگاہی پیدا کرنے میں ذرائع ابلاغ نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ان کے مطابق ٹریفک قوانین پر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ شہریوں میں ذمہ دارانہ ڈرائیونگ کا شعور پیدا کرنا بھی ضروری ہے۔

دوسری جانب سی ٹی او لاہور کے مطابق شہر میں ٹریفک کے مسائل مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔نامناسب روڈ انفرااسٹرکچر،پارکنگ پلازوں کی کمی،تجاوزات اور بعض مقامات پر غیر منظم شہری تعمیرات اب بھی ٹریفک کی روانی میں بڑی رکاوٹیں ہیں۔ان مسائل کے مستقل حل کے لیے متعلقہ اداروں کے درمیان مربوط حکمت عملی کی ضرورت ہے۔لاہور میں ٹریفک مینجمنٹ کے حوالے سے گزشتہ برسوں میں ڈیجیٹل نگرانی اور ای چالان سمیت متعدد اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں۔ماضی کی رپورٹس میں بھی شہر کے ٹریفک انڈیکس میں بہتری اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں میں کمی کا ذکر سامنے آتا رہا ہے،اگرچہ ایسے اشاریوں کے نتائج اور درجہ بندی کا انحصار متعلقہ رپورٹ کے طریقہ کار اور ڈیٹا پر ہوتا ہے۔حکام کے مطابق مستقبل میں ٹریفک کی مزید بہتری کے لیے سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے، پارکنگ کی سہولیات،جدید نگرانی،ٹریفک سگنل مینجمنٹ اور قانون پر موثر عملدرآمد کے ساتھ شہریوں کے تعاون کو بھی مرکزی اہمیت دی جائے گی۔یوں لاہور کی موجودہ ٹریفک درجہ بندی سے جہاں ٹریفک مینجمنٹ میں بعض مثبت اقدامات کے اثرات نمایاں ہوتے ہیں،وہیں شہر میں بڑھتی آبادی،گاڑیوں کی مسلسل بڑھتی تعداد اور شہری پھیلاو کے باعث ٹریفک نظام کو مزید بہتر بنانے کا چیلنج بھی بدستور موجود ہے۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز