لاہور(ایگزو نیوز ڈیسک)صوبائی دارالحکومت لاہور نے عوامی تحفظ کے حوالے سے عالمی سطح پر نمایاں پوزیشن حاصل کر لی ہے،جہاں 2026 کے نمبیو کرائم اینڈ سیفٹی انڈیکس میں شہر نے کئی معروف عالمی شہروں کے مقابلے میں کم کرائم انڈیکس ریکارڈ کرتے ہوئے بہتر کارکردگی دکھائی ہے۔رپورٹ کے مطابق لاہور نے کراچی،نئی دہلی،لندن،پیرس،نیویارک اور دیگر بڑے شہروں کو پیچھے چھوڑ دیا جبکہ سیکیورٹی صورتحال میں بہتری کو شہر میں کیے جانے والے مختلف اقدامات کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق 2026 کے نمبیو کرائم اینڈ سیفٹی انڈیکس کی تازہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لاہور نے دنیا کے متعدد بڑے شہروں کے مقابلے میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے خود کو محفوظ شہروں کی فہرست میں نمایاں مقام دلا لیا ہے۔رپورٹ کے مطابق لاہور کا کرائم انڈیکس کئی معروف عالمی شہروں کے مقابلے میں کم ریکارڈ کیا گیا،جس کے باعث شہر نے عوامی تحفظ کے اعتبار سے کراچی،نئی دہلی،پیرس،لندن،واشنگٹن،نیویارک اور میکسیکو سٹی جیسے بڑے شہروں کو پیچھے چھوڑ دیا۔
اعداد و شمار کے مطابق لاہور کا کرائم انڈیکس 2025 کے وسط میں 36.8 ریکارڈ کیا گیا تھا،جو 2026 کے وسط تک مزید بہتر ہو کر 36.2 تک آ گیا جبکہ اسی دوران شہر کا سیفٹی انڈیکس 63.2 سے بڑھ کر 63.8 ریکارڈ کیا گیا۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کرائم انڈیکس میں کمی اور سیفٹی انڈیکس میں اضافے کو شہر میں مجموعی سیکیورٹی صورتحال میں بہتری کی علامت قرار دیا گیا ہے۔نمبیو کی جانب سے جاری کیے گئے انڈیکس کے مطابق پاکستان کا دارالحکومت اسلام آباد بھی ملک کے محفوظ ترین شہروں میں شامل ہے تاہم یہ امر قابل ذکر ہے کہ نمبیو انڈیکس سرکاری اعداد و شمار کے بجائے ویب سائٹ صارفین اور شہریوں کے ذاتی تجربات،آراء اور سروے رپورٹس کی بنیاد پر مرتب کیا جاتا ہے۔لاہور پولیس کے مطابق شہر میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے،جرائم کی روک تھام اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
ڈی آئی جی آپریشنز لاہور محمد فیصل کامران نے عالمی درجہ بندی میں بہتری کو پولیس کی جانب سے کیے جانے والے سیکیورٹی اقدامات،موثر گشت،جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور جرائم کے خلاف کارروائیوں کا نتیجہ قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ لاہور پولیس شہریوں کے تحفظ کو اولین ترجیح دیتے ہوئے قانون کی عملداری،نگرانی کے جدید نظام اور موثر حکمت عملی کے ذریعے شہر کو مزید محفوظ بنانے کے لیے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔