لاہور(ایگزو نیوز ڈیسک)لاہور میں بسنت کے روایتی اور ثقافتی جشن کی واپسی کا سلسلہ آئندہ سال بھی جاری رہے گا اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے بسنت 2027 کے لیے 29 جنوری سے 7 فروری تک دس روزہ جشن کا اعلان کر دیا ہے جبکہ شہریوں کی حفاظت اور انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے سخت حفاظتی ضوابط پر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایات بھی جاری کی گئی ہیں۔
ایگزو نیوز کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے بسنت 2027 کے حوالے سے اپنے اعلان میں کہا کہ لاہور ایک مرتبہ پھر رنگوں،ثقافت،موسیقی،جشن اور روایتی مہمان نوازی سے بھر جائے گا۔انہوں نے پنجاب اور پاکستان کے نوجوانوں سمیت بیرون ملک مقیم پاکستانیوں اور عالمی مہمانوں کو بھی لاہور میں ہونے والے جشن میں شرکت کی دعوت دی۔پنجاب حکومت کی جانب سے بسنت کی بحالی کے بعد یہ لاہور میں اس ثقافتی میلے کا اگلا مرحلہ ہو گا۔رواں سال فروری میں تقریباً دو دہائیوں کے وقفے کے بعد لاہور میں تین روزہ بسنت کا انعقاد کیا گیا تھا،جس کے دوران حکومت نے پتنگ بازی اور شہریوں کے تحفظ کے لیے سخت ضوابط نافذ کیے تھے۔حکومت پنجاب نے آئندہ بسنت کے لیے بھی شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو مرکزی اہمیت دی ہے۔لاہور کی ضلعی انتظامیہ کے مطابق محفوظ بسنت کے لیے پتنگ اور ڈور کے استعمال سے متعلق واضح قواعد نافذ کیے گئے ہیں،جن کے تحت صرف مخصوص اقسام کی پتنگ اور سوتی دھاگے کی ڈور استعمال کرنے کی اجازت ہوگی جبکہ کیمیکل،دھاتی اور تیز مانجھے والی ڈور پر پابندی برقرار رہے گی۔
ضلعی انتظامیہ لاہور نے بسنت 2027 کے حوالے سے ہوائی فائرنگ اور آتش بازی پر بھی مکمل پابندی عائد کر رکھی ہے۔شہریوں اور پتنگ سازوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ بسنت کے دوران جاری کردہ حفاظتی قواعد و ضوابط پر سختی سے عمل کریں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جاسکے۔انتظامیہ کی جانب سے غیر قانونی پتنگ بازی کے سامان کی ترسیل روکنے کے لیے بھی اقدامات کیے جارہے ہیں۔حکومت کی جانب سے بسنت کے انعقاد کا بنیادی مقصد لاہور کی ثقافتی شناخت اور پنجاب کی روایتی تہذیبی سرگرمیوں کو فروغ دینا قرار دیا گیا ہے تاہم اس کے ساتھ ساتھ انسانی جانوں کے تحفظ کو بھی اولین ترجیح قرار دیا گیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ آئندہ بسنت کے لیے پتنگ،ڈور،چھتوں،اجتماعات اور دیگر سرگرمیوں سے متعلق مختلف حفاظتی پابندیاں اور ضوابط متعارف کرائے گئے ہیں۔رواں سال فروری میں لاہور میں تین روزہ بسنت کے انعقاد کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے شہریوں کی جانب سے حفاظتی ضوابط کی پابندی کو سراہا تھا۔
حکومت کے مطابق اس موقع پر مختلف علاقوں میں طبی اور ہنگامی امداد کے انتظامات بھی کیے گئے تھے اور متعلقہ اداروں کو شہریوں کے تحفظ کے لیے متحرک رکھا گیا تھا۔آئندہ بسنت کے لیے جاری کردہ ضوابط میں چھتوں پر گنجائش سے زیادہ افراد کے جمع ہونے،خطرناک انداز میں چھتوں کے کناروں پر کھڑے ہونے اور ایسی سرگرمیوں پر پابندیاں شامل ہیں جو شہریوں کی جان یا املاک کے لیے خطرہ بن سکتی ہوں۔تقریبات کے منتظمین کو بھی شرکا کے تحفظ اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مناسب انتظامات کا پابند بنایا گیا ہے۔حکومت کی جانب سے یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ بسنت کو محض پتنگ بازی تک محدود رکھنے کے بجائے لاہور کے ثقافتی اور تہذیبی رنگ کو اجاگر کرنے کے لیے مختلف سرگرمیوں کا اہتمام کیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ پنجاب کے مطابق لاہور میں ہونے والا جشن نوجوانوں،خاندانوں،بیرون ملک مقیم پاکستانیوں اور دیگر مہمانوں کے لیے ثقافتی سرگرمیوں کا مرکز بنے گا۔بسنت لاہور کی ایک قدیم ثقافتی روایت سمجھی جاتی ہے اور طویل عرصے تک شہر کی شناخت کے نمایاں تہواروں میں شمار ہوتی رہی ہے تاہم پتنگ بازی کے دوران خطرناک ڈور،بالخصوص موٹر سائیکل سواروں کو پیش آنے والے حادثات اور دیگر واقعات کے باعث اس پر طویل عرصے تک پابندی عائد رہی۔پنجاب حکومت نے 2025 میں سخت حفاظتی ضوابط کے ساتھ اس روایت کی بحالی کا فیصلہ کیا،جس کے بعد فروری 2026 میں لاہور میں دوبارہ بسنت منعقد ہوئی۔اب لاہور میں 29 جنوری سے 7 فروری 2027 تک ہونے والی بسنت کے لیے انتظامیہ نے پہلے ہی حفاظتی اقدامات کا آغاز کردیا ہے۔ضلعی انتظامیہ کی جانب سے شہریوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ غیر قانونی ڈور اور پتنگ کے استعمال سے گریز کریں،حفاظتی قواعد کی پابندی کریں اور کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کی اطلاع متعلقہ حکام کو دیں۔یوں لاہور ایک مرتبہ پھر بسنت کے رنگوں سے سجنے کی تیاری کررہا ہے تاہم حکومت کی جانب سے رواں سال کی طرح آئندہ بسنت میں بھی ثقافتی جشن کے ساتھ شہریوں کے تحفظ، قانون کی پابندی اور خطرناک پتنگ بازی کی روک تھام کو بنیادی ترجیحات میں شامل رکھا گیا ہے۔