لاہور(ایگزو نیوز ڈیسک)لاہور میں نجی تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے اہم پالیسی فیصلہ سامنے آیا ہے،جس کے تحت تمام نجی سکولوں کے لیے بلڈنگ فٹنس سرٹیفکیٹ حاصل کرنا لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔سرکاری ذرائع کے مطابق اس اقدام کے بعد کسی بھی نجی سکول کی رجسٹریشن یا اس کی تجدید فٹنس سرٹیفکیٹ کے بغیر ممکن نہیں ہوگی،جس سے شہر بھر کے ہزاروں تعلیمی ادارے اس نئی شرط کے دائرہ کار میں آ جائیں گے۔
ایگزو نیوز کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ لاہور میں قائم تقریباً 3 ہزار 500 نجی سکولوں کو یہ سرٹیفکیٹ حاصل کرنا ہو گا جبکہ کرائے کی عمارتوں اور رہائشی مکانات میں قائم سکولوں کی خصوصی جانچ کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔اس اقدام کا مقصد ایسے تعلیمی اداروں کی نشاندہی کرنا ہے جو غیر محفوظ یا غیر معیاری عمارتوں میں کام کر رہے ہیں اور جہاں طلبہ کی جان و مال کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔مجوزہ پالیسی کے تحت سکولوں کی عمارتوں کا جامع سٹرکچرل سیفٹی آڈٹ کرایا جائے گا،جس میں ڈسٹرکٹو اور نان ڈسٹرکٹو ٹیسٹنگ کے ذریعے عمارتوں کی مضبوطی،معیار اور حفاظتی پہلووں کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔حکام نے اس مقصد کے لیے تھرڈ پارٹی انجینئرنگ کنسلٹنٹس کی خدمات حاصل کرنے کی سفارش کی ہے تاکہ معائنے کا عمل شفاف،غیر جانبدار اور جدید تکنیکی معیار کے مطابق ہو۔
مزید برآں سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ پنجاب بھر میں بلڈنگ فٹنس سرٹیفکیٹس کے اجرا کے لیے ایک مربوط اور جامع نظام وضع کرے،جس کے ذریعے نہ صرف معائنہ کے عمل کو موثر بنایا جا سکے بلکہ غیر محفوظ عمارتوں میں قائم سکولوں کے خلاف بروقت کارروائی بھی ممکن ہو۔سفارشات میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ تھرڈ پارٹی جانچ کے ذریعے شفافیت اور معیار کو یقینی بنایا جائے جبکہ ایسے تمام تعلیمی اداروں کی نشاندہی کر کے فوری اقدامات کیے جائیں جو حفاظتی اصولوں پر پورا نہیں اترتے تاکہ طلبہ اور عملے کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔