Home » لاہور ہائیکورٹ کا سرگودھا دربار قتلِ عام کیس کا تاریخی فیصلہ،قاتلوں کی سزاوں کے خلاف اپیلیں خارج،چار مجرموں کو 20 بار سزائے موت کا حکم برقرار

لاہور ہائیکورٹ کا سرگودھا دربار قتلِ عام کیس کا تاریخی فیصلہ،قاتلوں کی سزاوں کے خلاف اپیلیں خارج،چار مجرموں کو 20 بار سزائے موت کا حکم برقرار

by ahmedportugal
32 views
A+A-
Reset

لاہور(ایگزو نیوز ڈیسک)لاہور ہائیکورٹ نے سرگودھا کے دربار میں پیش آنے والے لرزہ خیز قتلِ عام کیس میں اہم اور فیصلہ کن حکم جاری کرتے ہوئے مجرمان کی سزاوں کے خلاف دائر اپیلیں مسترد کر دیں،جس کے نتیجے میں چاروں مجرموں کو دی گئی بیس،بیس بار سزائے موت برقرار رکھی گئی۔عدالت نے اپنے تفصیلی فیصلے میں واضح کیا کہ مقدمے میں پیش کیے گئے ٹھوس عینی،طبی اور فرانزک شواہد مجرمان کے جرم کو ثابت کرنے کے لیے کافی اور ناقابلِ تردید ہیں جبکہ اس نوعیت کے سنگین اجتماعی جرم میں کسی قسم کی رعایت انصاف کے تقاضوں کے منافی ہوگی۔
ایگزو نیوز کے مطابق لاہور ہائیکورٹ نے سرگودھا میں دربار کی گدی نشینی کے تنازع پر 20 افراد کے بہیمانہ قتل کے مقدمے میں مجرمان کی سزاوں کے خلاف دائر اپیلیں مسترد کرتے ہوئے چاروں مجرموں کی بیس، بیس بار سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ سنا دیا۔ دو رکنی بینچ، جس کی سربراہی جسٹس شہباز رضوی نے کی، نے 25 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا، جبکہ حکومت کی جانب سے پراسکیوٹر راحیلہ شاہد نے دلائل پیش کیے۔عدالتی فیصلے میں واضح کیا گیا کہ جرم کی ہولناکی انصاف کے تقاضوں پر اثر انداز نہیں ہو سکتی اور عدالت نے محض جذبات کے بجائے ٹھوس شواہد کی بنیاد پر فیصلہ دیا۔ فیصلے کے مطابق دربار پر پیش آنے والا واقعہ نہایت ہولناک اور غیر معمولی نوعیت کا تھا، جبکہ ایف آئی آر کے فوری اندراج نے مقدمے کی ساکھ کو مضبوط کیا اور جھوٹے مقدمے کے امکان کو مسترد کر دیا۔ مزید یہ کہ پولیس کی بروقت کارروائی نے استغاثہ کے موقف کو تقویت فراہم کی۔عدالت نے زخمی گواہ کے بیان کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسے بلاوجہ رد نہیں کیا جا سکتا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ مجرمان کے خلاف جھوٹے مقدمے کا کوئی محرک سامنے نہیں آیا، جبکہ خون آلود ہتھیاروں سمیت موقع پر گرفتاری نے استغاثہ کے کیس کو مزید مضبوط بنایا۔ عینی گواہوں کے بیانات طبی شواہد سے مکمل مطابقت رکھتے ہیں، جس سے مقدمے کی بنیاد مزید مستحکم ہو گئی۔عدالت کے مطابق ڈی این اے اور فرانزک شواہد نے ملزمان کو جرم سے واضح طور پر جوڑ دیا۔ فرانزک رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ مقتولین کے جسموں میں ایتھانول پایا گیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں نشہ آور مشروبات پلا کر بے ہوش کیا گیا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ قتلِ عام کی بنیادی وجہ دربار کی گدی نشینی کا تنازع تھا، جو ایک خوفناک اجتماعی قتل میں تبدیل ہو گیا۔عدالت نے قرار دیا کہ مجرمان کا محض انکار مضبوط عینی، طبی اور فرانزک شواہد کو رد نہیں کر سکتا۔مذہبی مقام پر اس نوعیت کے اجتماعی قتل نے معاشرے میں خوف و ہراس اور عدم تحفظ کو فروغ دیا،اس لیے انسداد دہشت گردی ایکٹ کا اطلاق مکمل طور پر درست تھا۔

فیصلے میں بتایا گیا کہ مجرمان نے بیس بے گناہ افراد کو نہایت سفاکانہ انداز میں قتل کیا اور مقتولین کو برہنہ کر کے بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ ایسے سنگین اور اجتماعی جرائم میں کسی قسم کی نرمی انصاف کے اصولوں کے منافی ہے اور سخت ترین سزا ہی انصاف کے تقاضوں کو پورا کر سکتی ہے۔ یاد رہے کہ یہ مقدمہ 2 اپریل 2017 کو تھانہ صدر سرگودھا میں درج کیا گیا تھا، جبکہ انسداد دہشت گردی عدالت سرگودھا نے 3 دسمبر 2019 کو چاروں مجرموں کو بیس، بیس بار سزائے موت سنائی تھی، جسے اب لاہور ہائیکورٹ نے برقرار رکھا ہے۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز