لاہور(ایگزو نیوز ڈیسک)لاہور ہائیکورٹ نے پولی گرافک ٹیسٹ کو بطور شواہد پیش کرنے کے حوالے سے اصولی اور تاریخی نوعیت کا فیصلہ جاری کرتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ ملزم کی مرضی کے بغیر پولی گراف ٹیسٹ نہ صرف ناقابلِ قبول ہوگا بلکہ اسے زبردستی یا دباو کے ذریعے حاصل کیے گئے بیان کے طور پر شمار کیا جائے گا، عدالت نے ان اصولوں کی روشنی میں قتل کے مقدمے میں عمر قید کی سزا پانے والے ملزم کی اپیل منظور کرتے ہوئے اس کی سزا کالعدم قرار دے دی۔
ایگزو نیوز کے مطابق جسٹس علی ضیاءباجوہ نے کیس کا تفصیلی فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ملزم کی رضا مندی کے بغیر پولی گرافک ٹیسٹ کسی صورت قابل قبول شہادت نہیں،ملزم اپنی رضامندی براہ راست جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے بیان کرے گا۔فیصلے میں کہا گیا کہ جسمانی ریمانڈ کے دوران بھی ملزم پر دباو یا زبردستی ٹیسٹ نہیں لیا جا سکتا جبکہ ٹیسٹ صرف پنجاب فرانزک ایجنسی کے مستند اور اہل افسران کی نگرانی میں ہونا لازمی ہے۔عدالت نے مزید واضح کیا کہ ملزم کو پورا حق حاصل ہے کہ وہ عمل کے دوران کسی بھی مرحلے پر پولی گرافک ٹیسٹ دینے سے انکار کر سکتا ہے۔فیصلہ میں نشاندہی کی گئی کہ پراسیکیوشن صرف تحقیقاتی مرحلے کے لیے پولی گراف کو استعمال کر سکتی ہے،اسے جرم ثابت کرنے کے طور پر نہیں اپنایا جا سکتا۔عدالتی حکم میں کہا گیا کہ موجودہ کیس میں پولی گراف ٹیسٹ میں متعدد بے ضابطگیاں سامنے آئیں اور ملزم کی منشا شامل نہیں تھی،اس لیے ایسی شہادت نا قابل اعتبار قرار پاتی ہے۔عدالت نے مزید کہا کہ پولی گراف کے نتائج میں غلطی کے امکانات ہمیشہ موجود رہتے ہیں جبکہ سٹریس،خوف اور ڈپریشن جیسے عوامل سچے شخص کے نتائج کو بھی جھوٹا ظاہر کر سکتے ہیں۔
عدالت کے مطابق زبردستی یا دباو سے لیے گئے اقرار یا معلومات نہ صرف غیر قانونی بلکہ نا قابل اعتماد ہوتے ہیں اور ریاست کسی سائنسی یا نفسیاتی طریقے سے ملزم سے اعترافی بیان لینے کی مجاز نہیں،ایسے کیسز جہاں موقع کا گواہ موجود نہ ہو،پراسیکیوشن پر لازم ہے کہ ثبوتوں کی کڑیاں مکمل طور پر جوڑے جبکہ موجودہ کیس میں شواہد کا یہ تسلسل قائم نہیں ہو سکا۔لاہور ہائیکورٹ نے ملزم کی سزا کے خلاف اپیل منظور کرتے ہوئے 2020 میں سنائی گئی عمرقید اور جرمانے کی سزا ختم کر دی۔قانونی ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ مستقبل میں پولی گراف ٹیسٹ کے استعمال کے حوالے سے سنگِ میل ثابت ہو گا اور تحقیقات و ٹرائل کے طریقہ کار میں بنیادی رہنمائی فراہم کرے گا۔