Home » آف لوڈنگ پر بڑا فیصلہ،ہائیکورٹ نے ایف آئی اے کو لگام ڈال دی

آف لوڈنگ پر بڑا فیصلہ،ہائیکورٹ نے ایف آئی اے کو لگام ڈال دی

by ahmedportugal
38 views
A+A-
Reset

لاہور(ایگزو نیوز ڈیسک)لاہور ہائیکورٹ نے بیرونِ ملک سفر کے دوران مسافروں کو آف لوڈ کرنے کے اختیار پر واضح حدود مقرر کر تے ہوئے قرار دیا ہے کہ شہریوں کو محض مبہم خدشات یا غیر واضح وجوہات کی بنیاد پر سفر سے روکنا آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہے،،لاہور ہائی کورٹ کے اس واضح حکم سے نہ صرف ایف آئی اے کے اختیارات کی حد بندی واضح ہوئی ہے بلکہ مسافروں کے بنیادی حقِ سفر کے تحفظ کو بھی تقویت ملی ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق لاہور ہائیکورٹ نے بیرونِ ملک سفر کرنے والے شہریوں کو آف لوڈ کرنے کے معاملے پر ایک اہم اور دور رس اثرات کا حامل فیصلہ سناتے ہوئے ایف آئی اے کے اختیارات کو واضح حدود میں باندھ دیا ہے۔ عدالت نے قرار دیا ہے کہ محض خدشات، شبہات یا غیر واضح وجوہات کی بنیاد پر کسی شہری کو سفر سے روکنا آئین میں دیے گئے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے،جسے ہرگز برداشت نہیں کیا جا سکتا۔عدالت نے ایک شہری کو نائیجیریا جانے سے روکنے کے اقدام کو کالعدم قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ درخواست گزار کے پاس تمام قانونی سفری دستاویزات، ویزا اور ٹکٹ موجود تھے، حتیٰ کہ امیگریشن کلیئرنس اور بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد بھی اسے اچانک آف لوڈ کر دیا گیا، جو کہ انتظامی اختیارات کے غلط استعمال کے زمرے میں آتا ہے۔ درخواست گزار کے مطابق ایف آئی اے نے محض اس بنیاد پر سفر سے روکا کہ ممکنہ طور پر وہ بیرونِ ملک سے واپس نہ آئے جبکہ وہ کسی مقدمے،انکوائری یا بلیک لسٹ میں شامل نہیں تھا۔

تحریری فیصلے میں عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ بیرونِ ملک سفر ہر شہری کا بنیادی حق ہے اور اسے محدود کرنے کے لیے ٹھوس، معقول اور قانونی بنیادوں کا ہونا ضروری ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ وجوہات کا ریکارڈ رکھنا محض رسمی کارروائی نہیں بلکہ ایک لازمی قانونی تقاضا ہے، اور متعلقہ حکام کو ہر فیصلے میں شفافیت اور انصاف کو یقینی بنانا ہوگا۔فیصلے کے مطابق ایف آئی اے حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ کسی بھی مسافر کو آف لوڈ کرتے وقت تفصیلی اور بامعنی وجوہات تحریر کی جائیں، مسافر سے کیے گئے سوالات اور اس کے جوابات کو بھی باقاعدہ ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے، جبکہ جہاں ممکن ہو اس عمل کو الیکٹرانک طور پر محفوظ کیا جائے۔ مزید برآں، آف لوڈنگ کے حکم کی کاپی متاثرہ شہری کو فراہم کرنا بھی لازم قرار دیا گیا ہے۔عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ درخواست گزار کی جانب سے اپنے بھائی کے پاس نائیجیریا جانے کی وضاحت غیر معقول نہیں تھی، جبکہ ایف آئی اے اس وضاحت کو مسترد کرنے کے لیے کوئی ٹھوس وجہ پیش کرنے میں ناکام رہا۔ عدالت نے متاثرہ شہری کو یہ حق بھی دیا کہ وہ چاہے تو متعلقہ فورم سے رجوع کر کے ہرجانے کا دعویٰ دائر کر سکتا ہے۔واضح رہے کہ یہ فیصلہ نہ صرف شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے بلکہ آئندہ کے لیے امیگریشن حکام کے اختیارات اور ذمہ داریوں کے تعین میں بھی سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز