لاہور(ایگزو نیوز ڈیسک)صوبائی دارالحکومت لاہور میں ایک بار پھرکرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ( سی سی ڈی) کی کارروائی نے سنگین سوالات کو جنم دے دیا ہے، جہاں زیرِ حراست ملزم کی ہلاکت کو پولیس مقابلہ قرار دیا جا رہا ہے،پولیس موقف کے مطابق ملزم اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے مارا گیا تاہم واقعے کی نوعیت، سیکیورٹی انتظامات اور ملزم کی تحویل میں موجودگی کے باوجود اس کی ہلاکت نے شکوک و شبہات کو ہوا دے دی ہے۔ قانونی و سماجی حلقے اس واقعے کو محض ایک روایتی پولیس بیانیہ قرار دیتے ہوئے شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں تاکہ اصل حقائق سامنے آ سکیں۔
ایگزو نیوز کے مطابق لاہور میں زیرِ حراست ملزم کی مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاکت نے ایک بار پھر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سی سی ڈی پولیس کی تحویل میں موجود ملزم عمران عرف مانی کو نشاندہی کے لیے کرول گاوں منتقل کیا جا رہا تھا کہ راستے میں نامعلوم مسلح افراد نے پولیس پارٹی پر حملہ کر دیا۔پولیس کے دعوے کے مطابق حملہ آور ملزم کے ساتھی تھے جنہوں نے اسے چھڑانے کی کوشش کی،جس کے نتیجے میں دونوں جانب سے فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے دوران ملزم عمران اپنے ہی ساتھیوں کی گولیوں کا نشانہ بنا اور موقع پر ہی ہلاک ہو گیا جبکہ حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔واقعے کے بعد پولیس نے مختلف علاقوں میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے اور مفرور افراد کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں تاہم اس واقعے نے کئی اہم سوالات کو جنم دیا ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق زیرِ حراست ملزم کی حفاظت ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے اور ایسے حالات میں اس کی ہلاکت شفاف تحقیقات کی متقاضی ہے۔ماضی میں بھی ایسے متعدد واقعات سامنے آ چکے ہیں جہاں مبینہ پولیس مقابلوں کی حقیقت پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا گیا۔انسانی حقوق کے حلقے اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ہر واقعے کی غیر جانبدارانہ اور عدالتی نگرانی میں تحقیقات ہونی چاہیے تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ آیا واقعی ملزم اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوا یا معاملے کی نوعیت کچھ اور تھی۔پولیس کی جانب سے ملزم کے جرائم میں ملوث ہونے کا دعویٰ اپنی جگہ لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی ملزم کا جرم عدالت میں ثابت ہونا ضروری ہے اور دورانِ حراست اس کی جان کا تحفظ قانون کی بنیادی ذمہ داری ہے۔اس واقعے کے بعد عوامی سطح پر بھی تشویش پائی جا رہی ہے اور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ واقعے کی مکمل تفصیلات منظر عام پر لائی جائیں۔