Home » خیبرپختونخوا میں غیر معمولی پیش رفت،وزیر اعلیٰ اور گورنر ایک پیج پر،وفاقی پالیسیوں کے خلاف مشترکہ حکمت عملی کا اعلان

خیبرپختونخوا میں غیر معمولی پیش رفت،وزیر اعلیٰ اور گورنر ایک پیج پر،وفاقی پالیسیوں کے خلاف مشترکہ حکمت عملی کا اعلان

by ahmedportugal
18 views
A+A-
Reset

پشاور(ایگزو نیوز ڈیسک)خیبرپختونخوا میں ایک غیر معمولی سیاسی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی اور گورنر فیصل کریم کنڈی صوبائی حقوق اور عوامی مسائل کے معاملے پر ایک ہی موقف اختیار کرتے ہوئے ایک پیج پر آ گئے ہیں۔دونوں رہنماوں نے گندم کی ترسیل میں رکاوٹ اور سی این جی کی بندش سمیت وفاقی پالیسیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مشترکہ حکمت عملی کے تحت آگے بڑھنے کا اعلان کیا ہے،جسے صوبے کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم اور غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق خیبرپختونخوا میں پہلی بار ایک غیر معمولی سیاسی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں وزیراعلیٰ سہیل خان آفریدی اور گورنر فیصل کریم کنڈی صوبائی حقوق اور عوامی مسائل پر ایک ہی موقف اختیار کرتے ہوئے ایک پیج پر آ گئے۔گندم کی ترسیل میں رکاوٹ اور سی این جی کی بندش کے معاملے پر دونوں رہنماوں نے سیاسی اختلافات پسِ پشت ڈال کر مشترکہ جدوجہد کا اعلان کیا۔یہ مشترکہ پریس کانفرنس خیبرپختونخوا اسمبلی کے قومی جرگہ ہال میں منعقد ہوئی،جس میں سپیکر صوبائی اسمبلی بابر سلیم سواتی اور اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباد اللہ بھی موجود تھے۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل خان آفریدی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت کی جانب سے گندم کی ترسیل میں رکاوٹ اور صوبے کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے،جو آئین کے آرٹیکل 151 کی خلاف ورزی ہے،کیونکہ خوراک کی اشیاء کی نقل و حمل پر پابندی نہیں لگائی جا سکتی۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کا عام شہری ملک میں سب سے مہنگا آٹا خریدنے پر مجبور ہے۔وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ صوبہ 508 ایم ایم سی ایف ڈی گیس پیدا کرتا ہے جبکہ اپنی ضرورت صرف 150 ایم ایم سی ایف ڈی ہے،اس کے باوجود سی این جی سٹیشنز کو گیس کی فراہمی بند ہے،جو آئینی طور پر غلط اقدام ہے۔انہوں نے آرٹیکل 158 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ گیس پیدا کرنے والے صوبے کی پہلی ترجیح اس کی مقامی ضروریات ہوتی ہیں، لیکن کے پی کے عوام کو بنیادی سہولیات سے محروم رکھا جا رہا ہے۔انہوں نے وفاقی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کے ساتھ غیر آئینی رویہ اختیار کیا جا رہا ہے اور قبائلی اضلاع کے 12 ارب روپے بھی روک لیے گئے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے خبردار کیا کہ اگر صوبے کے عوام کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تو حالات مزید بگڑ سکتے ہیں۔

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے پریس کانفرنس میں کہا کہ گندم کی ترسیل اور سی این جی کی بندش صوبے کے غریب طبقے کے لیے شدید مشکلات کا باعث بن رہی ہے۔انہوں نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ ان مسائل کے حل کے لیے ”شہباز سپیڈ“سے اقدامات کریں۔گورنر نے کہا کہ وہ صوبے کے حقوق کے معاملے پر عوام کے ساتھ کھڑے ہیں اور اس بات پر زور دیا کہ آئین کے آرٹیکلز 151 اور 158 پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ سی این جی کی بندش سے سب سے زیادہ متاثر غریب طبقہ ہو رہا ہے جبکہ خیبرپختونخوا پہلے ہی دہشت گردی اور معاشی دباو کا شکار ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر صوبے کو اس کے آئینی حقوق دیے جائیں تو اسے کسی دوسرے صوبے سے گندم یا وسائل مانگنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔انہوں نے خبردار کیا کہ بنیادی سہولیات کی فراہمی میں رکاوٹیں عوامی ردعمل کو جنم دے سکتی ہیں۔

اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباد اللہ نے اس موقع پر کہا کہ وفاقی فیصلوں میں صوبائی نمائندگی کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے اور تمام سیاسی قوتوں کو صوبے کی ترقی اور حقوق کے لیے مشترکہ جدوجہد کرنی ہوگی۔واضح رہے کہ خیبر پختونخوا کی سیاسی قیادت کا یہ غیر معمولی اتحاد صوبائی و وفاقی تعلقات میں ایک نئے مرحلے کی نشاندہی کرتا ہے، جس کے مستقبل میں سیاسی اور انتظامی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز