Home » خیبرپختونخوا میں ریڑھی بانوں کیلئے بڑا فیصلہ،1 لاکھ 40 ہزار سے زائد افراد کو قانونی تحفظ مل گیا

خیبرپختونخوا میں ریڑھی بانوں کیلئے بڑا فیصلہ،1 لاکھ 40 ہزار سے زائد افراد کو قانونی تحفظ مل گیا

by ahmedportugal
24 views
A+A-
Reset

پشاور(ایگزو نیوز ڈیسک)خیبرپختونخوا اسمبلی نے ”احساس ریڑھی بان لائیولی ہڈ پروٹیکشن بل 2026“ منظور کرلیا ہے،جس کے تحت صوبے میں کام کرنے والے ایک لاکھ 40 ہزار سے زائد ریڑھی بانوں اور سٹریٹ وینڈرز کو پہلی مرتبہ باقاعدہ قانونی شناخت اور کاروباری تحفظ فراہم کیا جائے گا۔نئے قانون میں رجسٹریشن، لائسنسنگ،وینڈنگ زونز کے قیام،بے دخلی کے ضابطے اور وینڈرز کے حقوق کے تحفظ کے لیے جامع فریم ورک متعارف کرایا گیا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق بل صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم نے خیبرپختونخوا اسمبلی میں پیش کیا،جسے منظوری کے بعد صوبے میں سٹریٹ وینڈنگ کے شعبے کو منظم کرنے کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔قانون کا بنیادی مقصد ایک طرف ریڑھی بانوں اور چھوٹے تاجروں کو قانونی تحفظ فراہم کرنا جبکہ دوسری جانب شہری نظم و ضبط،صفائی،ٹریفک اور تجاوزات کے مسائل کو ایک باقاعدہ انتظامی نظام کے ذریعے حل کرنا ہے۔نئے قانون کے تحت 14 سال یا اس سے زیادہ عمر کا فرد سٹریٹ وینڈر کے طور پر رجسٹریشن کراسکے گا۔ہر وینڈر کے لیے رجسٹریشن کے ساتھ وینڈنگ سرٹیفکیٹ حاصل کرنا ضروری قرار دیا گیا ہے جبکہ رجسٹرڈ وینڈرز کو کیو آر کوڈ پر مبنی ڈیجیٹل وینڈنگ سرٹیفکیٹ جاری کیا جائے گا۔یہ ڈیجیٹل سرٹیفکیٹ دو سال تک موثر رہے گا اور مقررہ طریقہ کار کے تحت اس کی تجدید بھی کی جاسکے گی۔ اس نظام کے ذریعے حکومت کو وینڈرز کا باقاعدہ ڈیٹا تیار کرنے،ان کی شناخت یقینی بنانے اور وینڈنگ سرگرمیوں کی نگرانی میں مدد ملے گی۔

قانون کی ایک اہم شق کے مطابق رجسٹرڈ ریڑھی بان یا سٹریٹ وینڈر کو متبادل جگہ فراہم کیے بغیر اس کے کاروباری مقام سے بے دخل نہیں کیا جاسکے گا۔کسی وینڈر کو ہٹانے سے پہلے کم از کم 15 روز کا تحریری نوٹس دینا بھی لازمی قرار دیا گیا ہے۔اس اقدام کا مقصد ایسے ریڑھی بانوں کو غیر یقینی صورتحال سے نکالنا ہے جو طویل عرصے سے روزگار کے لیے سڑکوں،بازاروں اور تجارتی علاقوں میں کاروبار کرتے ہیں اور مختلف اوقات میں تجاوزات یا غیر منظم کاروباری سرگرمیوں کے خلاف کارروائیوں سے متاثر ہوتے رہے ہیں۔نئے قانونی فریم ورک میں بغیر وینڈنگ سرٹیفکیٹ کاروبار کرنے کو قابلِ سزا جرم قرار دیا گیا ہے۔وینڈنگ سرٹیفکیٹ فروخت کرنے یا کسی دوسرے شخص کو منتقل کرنے کی صورت میں 3 ہزار روپے تک جرمانہ عائد کیا جاسکے گا۔قانون کے تحت مسلسل خلاف ورزی کی صورت میں سزا مزید سخت ہوسکتی ہے،جس میں 20 ہزار روپے تک جرمانہ،ایک ماہ تک قید یا دونوں سزائیں شامل ہیں۔اس طرح حکومت نے رجسٹریشن اور قانونی شناخت کو اسٹریٹ وینڈنگ کے نظام کا لازمی حصہ بنا دیا ہے۔

دوسری جانب قانون میں شہری سہولیات اور نظم و ضبط سے متعلق شقیں بھی شامل ہیں۔غیر قانونی تجاوزات،صفائی کے ضوابط کی خلاف ورزی اور ممنوعہ اشیا کی فروخت کی صورت میں کارروائی کی جاسکے گی تاکہ وینڈنگ سرگرمیوں کو شہری ماحول کے لیے مسائل پیدا کرنے کے بجائے ایک منظم نظام کے تحت چلایا جاسکے تاہم قانون میں ریڑھی بانوں کے تحفظ کے لیے یہ ضمانت بھی شامل کی گئی ہے کہ انہیں بلاجواز ہراساں کرنے یا قانونی کاروبار میں غیر ضروری رکاوٹ پیدا کرنے والے سرکاری اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کارروائی کی جاسکے گی۔اس شق کا مقصد انتظامی اختیارات کے غلط استعمال کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔بل کے ساتھ فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق خیبرپختونخوا میں ایک لاکھ 40 ہزار سے زائد ریڑھی بان اور سٹریٹ وینڈرز روزگار سے وابستہ ہیں جبکہ یہ شعبہ مجموعی طور پر سالانہ 380 ارب روپے سے زائد کا کاروبار کرتا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق سٹریٹ وینڈرز کا شعبہ تقریباً 130 ارب روپے سالانہ قومی معیشت میں حصہ ڈالتا ہے۔حکومت کا اندازہ ہے کہ اس شعبے کی منظم رجسٹریشن، ریگولیشن اور فیس یا دیگر قانونی ذرائع سے صوبائی سطح پر تقریباً ڈھائی سے 5 ارب روپے سالانہ اضافی آمدن بھی حاصل کی جاسکتی ہے۔نئے قانون میں وینڈنگ زونز کے قیام کا تصور بھی شامل کیا گیا ہے۔اس کے ذریعے ایسے مخصوص مقامات مقرر کیے جاسکیں گے جہاں ریڑھی بان قانونی حیثیت کے ساتھ کاروبار کرسکیں گے اور انہیں سڑکوں،چوکوں یا دیگر حساس مقامات پر غیر منظم انداز میں کاروبار کرنے سے گریز کرنا ہو گا۔وینڈنگ زونز کے قیام سے حکومت کو ایک جانب ٹریفک کے بہاو اور پیدل چلنے والوں کی نقل و حرکت بہتر بنانے میں مدد ملنے کی توقع ہے جبکہ دوسری جانب صفائی اور تجاوزات کی نگرانی بھی نسبتاً آسان ہوسکے گی۔بل کو مقامی حکومتوں کے لیے سٹریٹ وینڈنگ سے متعلق ایک جامع قانونی فریم ورک قرار دیا جارہا ہے،کیونکہ اس سے پہلے اس شعبے کو منظم کرنے کے لیے مکمل اور واضح قانونی نظام کی کمی تھی۔نئے قانون کے ذریعے رجسٹریشن سے لے کر بے دخلی اور قانونی تحفظ تک مختلف معاملات کو ایک ہی فریم ورک کے تحت لانے کی کوشش کی گئی ہے۔

قانون کے حامیوں کے مطابق اس اقدام سے ریڑھی بانوں کو محض تجاوزات کا حصہ سمجھنے کے بجائے ایک معاشی طبقے کے طور پر تسلیم کیا جائے گا،جو بڑی تعداد میں خاندانوں کے روزگار کا ذریعہ ہے۔دوسری جانب حکومت کو یہ اختیار بھی حاصل ہوگا کہ کاروباری سرگرمیوں کو قواعد و ضوابط کے تحت محدود اور منظم رکھا جائے۔نئے نظام کے تحت رجسٹرڈ وینڈرز کی شناخت ڈیجیٹل طریقے سے محفوظ کیے جانے سے ممکنہ طور پر جعلی اجازت ناموں، غیر قانونی قبضوں اور غیر رجسٹرڈ کاروباری سرگرمیوں کی روک تھام میں بھی مدد مل سکتی ہے تاہم قانون کے موثر نفاذ کے لیے رجسٹریشن کے عمل،وینڈنگ زونز کی دستیابی،فیلڈ سطح پر نگرانی اور متعلقہ سرکاری اداروں کے درمیان رابطہ کاری بنیادی اہمیت رکھیں گے۔اس بات کا انحصار بھی ہو گا کہ رجسٹرڈ وینڈرز کو متبادل جگہیں واقعی کتنی موثر اور مناسب انداز میں فراہم کی جاتی ہیں۔خیبرپختونخوا اسمبلی سے بل کی منظوری کے بعد اب اس کے عملی نفاذ کا مرحلہ اہم ہوگا۔ قانون کے تحت ریڑھی بانوں کو قانونی تحفظ دینے کے ساتھ ساتھ شہری نظم و نسق برقرار رکھنے کی ذمہ داری بھی متعلقہ بلدیاتی اور انتظامی اداروں پر عائد ہوگی۔یوں خیبرپختونخوا میں اسٹریٹ وینڈنگ کے شعبے کو غیر رسمی سرگرمی سے نکال کر قانونی اور منظم معاشی نظام میں شامل کرنے کی کوشش شروع ہوگئی ہے،جس کا مقصد ریڑھی بانوں کے روزگار کا تحفظ اور ساتھ ہی شہریوں کو بہتر،صاف اور منظم ماحول فراہم کرنا قرار دیا جارہا ہے۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز