اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)وزیر مملکت برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک نےتصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج لگانے کے معاملے پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے،چیف آف ڈیفنس فورسز کے نوٹیفکیشن کے حوالے سے کوئی جلدی نہیں ،اس پر کام ہو رہا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئےوزیر مملکت برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ صوبے میں موجودہ دہشتگردی اور سرحدی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ قدم ضروری سمجھا جا رہا ہے۔بیرسٹر عقیل ملک کے مطابق گورنر راج شدید ضرورت کی صورت میں نافذ کیا جاتا ہے اور اس کا مقصد انتظامی نظام کو موثر بنانا اور شہریوں کو مشکلات سے بچانا ہے۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے حالات سب کے سامنے ہیں اور صوبے کے لیے ایسا انتظامی ڈھانچہ تیار کیا جانا چاہیے جو حقیقی معنوں میں فائدہ مند ہو۔وزیر مملکت نے مزید وضاحت دی کہ گورنر راج کی مدت ابتدائی طور پر دو ماہ ہو سکتی ہے اور ضرورت پڑنے پر اس میں توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔انہوں نے چیف آف ڈیفنس فورسز کے نوٹیفکیشن کے حوالے سے کہا کہ اس پر جلدی نہیں،تفصیلات پر کام جاری ہے۔انہوں نے ماضی کے تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں بھی ضرورت کے وقت گورنر راج نافذ کیا گیا تھا اور اس کے نتیجے میں انتظامی مسائل میں بہتری آئی۔ بیرسٹر عقیل ملک نے واضح کیا کہ یہ اقدام صوبے میں امن و امان اور شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے اٹھایا جا رہا ہے اور اس پر تمام قانونی اور آئینی پہلووں پر غور کیا جا رہا ہے۔واضح رہے کہ وزیر مملکت برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک کی جانب سے تحریک انصاف کی حکومت کے خاتمے اور گورنر راج کے نفاذ پر سنجیدگی سے غور کی تصدیق ظاہر کرتی ہے کہ خیبرپختونخوا میںآنے والے دنوں میں سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہو گا ۔
خیبرپختونخوا میں گورنر راج کا امکان؟وزیر مملکت برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک نے تصدیق کرتے ہوئے تہلکہ خیز اعلان کر دیا
6