Home » خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کی گھنٹی؟وفاقی حکومت سیاسی نتائج بھگتنے کو تیار،طارق فضل چوہدری نے آرٹیکل 232 کا آپشن کھول دیا

خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کی گھنٹی؟وفاقی حکومت سیاسی نتائج بھگتنے کو تیار،طارق فضل چوہدری نے آرٹیکل 232 کا آپشن کھول دیا

by ahmedportugal
13 views
A+A-
Reset

اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی کے نفاذ کے معاملے پر مشاورت جاری ہے، جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ صوبے میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی اور امن و امان کی صورتحال اس معاملے پر غور کی بنیادی وجہ ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق پارلیمنٹ ہاوس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے طارق فضل چوہدری نے کہا کہ آئینی طریقہ کار کے تحت ایمرجنسی کا نفاذ صدر مملکت کرتے ہیں، تاہم اس کی پارلیمانی منظوری ضروری ہوتی ہے،اگر پارلیمنٹ منظوری دے دے تو آئین کے تحت ایمرجنسی نافذ کی جا سکتی ہے۔وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کے حوالے سے حتمی فیصلہ ابھی نہیں ہوا تاہم اس آپشن پر سنجیدگی سے مشاورت کی جارہی ہے،اگر ایمرجنسی نافذ کی گئی تو اس کے سیاسی اثرات بھی سامنے آسکتے ہیں،جنہیں حکومت کو برداشت کرنا ہو گا۔طارق فضل چوہدری کے مطابق ایمرجنسی کی صورت میں حکومت آئینی دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے چیف ایگزیکٹو کے اختیارات کسی فرد کو تفویض کرسکتی ہے اور یہ اختیارات گورنر کو بھی دیے جاسکتے ہیں۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ممکنہ اقدام کا تعلق صوبے کی امن و امان کی صورتحال سے ہے۔

وفاقی وزیر نے خیبرپختونخوا میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں امن و امان قائم کرنا اور شہریوں کی جان و مال کا تحفظ بنیادی ترجیح ہے،اگر صوبے میں امن،استحکام اور خوشحالی یقینی بنائی جاتی ہے تو عوام اس کا خیرمقدم کریں گے تاہم دہشت گردی میں اضافے کو روکنا فوری طور پر زیادہ ضروری ہے۔طارق فضل چوہدری نے گزشتہ دنوں بھی واضح کیا تھا کہ اگر خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کی ضرورت پیش آئی تو اس کی وجہ تحریک انصاف کا لانگ مارچ نہیں بلکہ صوبے کی سیکیورٹی اور امن و امان کی صورتحال ہو گی۔انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ایمرجنسی کے نفاذ کے لیے صوبائی اسمبلی کی منظوری درکار نہیں ہوگی۔

دوسری جانب وفاقی وزیر نے تحریک انصاف کی جانب سے اعلان کردہ چار اکتوبر کے لانگ مارچ کا بھی ذکر کیا اور دعویٰ کیا کہ پارٹی کو اس حوالے سے مشکلات کا سامنا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کی جانب سے بار بار احتجاج اور کارکنوں کو متحرک کرنے کی کال کے باوجود مختلف صوبوں میں مطلوبہ تعداد میں لوگ جمع نہیں ہوسکے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ تحریک انصاف پہلے بیس لاکھ افراد کو جمع کرنے کی بات کرتی رہی لیکن ان کے مطابق گزشتہ احتجاج میں بیس ہزار افراد بھی جمع نہیں ہوسکے۔طارق فضل چوہدری نے کہا کہ ستائیس ستمبر کے لانگ مارچ کی ناکامی کے بعد تحریک انصاف نے اب چار اکتوبر کی تاریخ دی ہے۔وفاقی وزیر نے تحریک انصاف کے اندر اختلافات کا بھی دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی میں دھڑے بندی اور تفریق موجود ہے اور لانگ مارچ کے معاملے پر بھی ارکان کے درمیان اختلاف رائے پایا جاتا ہے،تحریک انصاف کے بعض ارکان اسلام آباد کی جانب مارچ کرنے کے راستے کی مخالفت کررہے ہیں۔

طارق فضل چوہدری نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ تحریک انصاف چار اکتوبر کو بھی اپنے احتجاج میں مطلوبہ حمایت حاصل نہیں کرسکے گی تاہم یہ ان کا سیاسی دعویٰ ہے،جس پر تحریک انصاف کی جانب سے مختلف موقف سامنے آچکا ہے۔گزشتہ دنوں تحریک انصاف کے رہنماوں نے چار اکتوبر کے احتجاج کے عزم کا اظہار کیا تھا۔خیبرپختونخوا میں ممکنہ ایمرجنسی کا معاملہ ایسے وقت میں زیر بحث ہے جب وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت کے درمیان امن و امان،دہشت گردی اور انتظامی معاملات پر سیاسی اختلافات موجود ہیں۔ دوسری جانب صوبائی حکومت کی جانب سے ممکنہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی مخالفت کی گئی ہے جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماوں نے بھی ماضی میں ایمرجنسی یا گورنر راج کی حمایت نہ کرنے کا موقف اختیار کیا ہے۔وفاقی حکومت کی جانب سے زیر غور آئینی اقدام کا حتمی فیصلہ تاحال سامنے نہیں آیا۔موجودہ صورتحال میں اصل معاملہ یہ ہے کہ آیا حکومت آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی نافذ کرنے کی طرف پیش رفت کرتی ہے یا مشاورت کے بعد اس آپشن کو ترک کردیا جاتا ہے۔اس حوالے سے حتمی فیصلہ ہی آئندہ سیاسی اور انتظامی صورتحال کا رخ واضح کرے گا۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز