پشاور(ایگزو نیوز ڈیسک)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے پر وفاقی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کو پیٹرول پر سبسڈی دینے کے بجائے 12 ارب روپے کا جہاز خریدا جا سکتا ہے، جو عوام کے ساتھ ناانصافی ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق پشاور سٹیڈیم کے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ایک ظالمانہ فیصلہ ہے جسے فوری طور پر واپس لیا جانا چاہیے، حکومت کو عوام پر مہنگائی کا بوجھ ڈالنے کے بجائے انہیں ریلیف فراہم کرنے کے اقدامات کرنے چاہئیں۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ وفاقی حکومت کے ساتھ اس حوالے سے ملاقات بھی ہوئی ہے جس میں واضح طور پر بتایا گیا کہ عوام پر مہنگائی کا مزید بوجھ ڈالنا کسی صورت قابل قبول نہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی عیاشیوں کے لیے عوام کو قربانی دینے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ جب تحریک انصاف کی حکومت کے دور میں پیٹرول کی قیمت 150 روپے فی لیٹر تھی تو شدید تنقید کی جاتی تھی مگر اب پیٹرول کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہونے کے باوجود وہ آوازیں خاموش ہیں۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت نے کفایت شعاری کی پالیسی اختیار کر رکھی ہے اور غیر ضروری اخراجات میں نمایاں کمی کی گئی ہے،اسی پالیسی کے تحت نئی سرکاری گاڑیوں کی خریداری پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے تاکہ عوامی وسائل کو موثر انداز میں استعمال کیا جا سکے۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے مزید کہا کہ ان کی جدوجہد کسی شخصیت کے خلاف نہیں بلکہ آئین،قانون اور انصاف کے اصولوں کے لیے ہے،جو بھی ان اصولوں کی بات کرے گا وہ اس کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔