پشاور(ایگزو نیوز ڈیسک)وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے ڈی جی آئی ایس پی آر کی حالیہ پریس کانفرنس کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ملٹری آپریشن کسی بھی مسئلے کا دیرپا حل نہیں، بند کمروں میں کیے گئے فیصلے ناقابل قبول اور مقبول سیاسی قیادت پر الزامات دراصل جمہوریت کا مذاق اڑانے کے مترادف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک عوامی اعتماد رکھنے والے سیاسی قائد اور ملک کی سب سے بڑی جماعت کو نشانہ بنانا نہ صرف زمینی حقائق سے انحراف ہے بلکہ یہ آئینی اقدار، جمہوری روح اور قومی یکجہتی کے لیے بھی خطرناک رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ”ایکس“پر اپنے تفصیلی ردعمل میں وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے ڈی جی آئی ایس پی آر کی حالیہ پریس کانفرنس پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان پاکستان کے مقبول ترین، عوامی اعتماد رکھنے والے اور قبولِ عام کے حامل لیڈر ہیں، جبکہ پاکستان تحریک انصاف اس وقت ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کی حیثیت رکھتی ہے، ایسے میں ایک ریاستی ادارے کی جانب سے ایک مقبول سیاسی قائد اور سابق وزیر اعظم کے بارے میں سیاسی نوعیت کے اور حقائق کے برعکس بیانات نہ صرف ادارہ جاتی وقار کے منافی ہیں بلکہ یہ جمہوری اقدار اور آئینی روح کے ساتھ سنجیدہ مذاق کے مترادف ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ کسی بھی ممکنہ ملٹری آپریشن کی مخالفت محض پاکستان تحریک انصاف کا موقف نہیں بلکہ خیبر پختونخوا کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں اور ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد اس بات پر متفق ہیں کہ ملٹری آپریشن کسی بھی مسئلے کا دیرپا حل نہیں ہوتا،مسئلہ صرف یہ نہیں کہ ریاست دہشت گردی کے خلاف سنجیدہ نہیں بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ فیصلے زمینی حقائق،منتخب نمائندوں،مقامی آبادی اور صوبائی حکومت کو اعتماد میں لیے بغیر کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ زمینی حقیقت یہ ہے کہ آج بھی خیبر پختونخوا کے متعدد اضلاع میں عوام عدمِ تحفظ، معاشی جمود،نقل مکانی کے خدشات اور ریاستی پالیسیوں پر عدم اعتماد کا شکار ہیں،کاروبار،تعلیم اور معمولاتِ زندگی بار بار متاثر ہو رہے ہیں جبکہ مقامی آبادی کو فیصلہ سازی میں شامل نہیں کیا جاتا۔
وزیر اعلیٰ کے مطابق یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ خیبر پختونخوا میں اب تک 22 بڑے ملٹری آپریشنز اور تقریباً 14 ہزار انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کیے جا چکے ہیں،اس کے باوجود دہشت گردی کا مکمل خاتمہ نہیں ہو سکا،اس صورتحال سے یہ سوال جنم لیتا ہے کہ کہیں نہ کہیں پالیسی سازی اور عمل درآمد میں سنجیدہ خامیاں موجود ہیں،ایسے میں بند کمروں میں بیٹھ کر غیر موثر پالیسیوں پر اصرار کرنے کے بجائے ایک واضح پالیسی شفٹ ناگزیر ہو چکی ہے کیونکہ ان ناکام حکمت عملیوں پر قومی وسائل بے تحاشہ خرچ ہو رہے ہیں اور عوام کی جان و مال کا تحفظ مسلسل خطرے میں ہے۔محمد سہیل آفریدی نے سوال اٹھایا کہ آخر اس بار ایسی کون سی ٹھوس ضمانت موجود ہے کہ ایک اور ملٹری آپریشن واقعی پائیدار امن کی بنیاد رکھ سکے گا؟اگر ماضی کی حکمت عملی بھاری جانی نقصانات اور بے پناہ وسائل کے استعمال کے باوجود مطلوبہ نتائج نہ دے سکی تو عوام اور ان کے منتخب نمائندوں کو یہ اعتماد کیسے دلایا جا رہا ہے کہ وہی طریقہ کار اس بار مختلف نتائج پیدا کرے گا؟شفافیت،واضح اہداف اور قابل پیمائش نتائج کے بغیر کسی بھی نئے اقدام سے امن کے بجائے مزید غیر یقینی صورتحال جنم لے گی۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وہ صوبہ جس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تقریباً 80 ہزار قیمتی جانوں کی قربانی دی،اس کے عوام اور ان کے جمہوری مینڈیٹ کو دہشت گردی سے جوڑنا نہایت افسوسناک اور تکلیف دہ عمل ہے،ایک ریاستی ادارے کے نمائندے کی جانب سے اس نوعیت کی سوچ نہ صرف قومی یکجہتی کو نقصان پہنچاتی ہے بلکہ پاکستان کے استحکام کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ بارہا خبردار کرنے کے باوجود خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کو دوبارہ داخل ہونے دیا گیا اور خود ساختہ بیانیوں کے ذریعے اس کے پھیلاو میں اضافہ ہوا،دو دہائیوں پر محیط قربانیوں کے باوجود ایک صوبے کے عوام کو بے مقصد اور غیر سنجیدہ پریس کانفرنسوں کے ذریعے موردِ الزام ٹھہرانا شہداء اور ان کے لواحقین کی قربانیوں کی صریح توہین ہے،جو کسی صورت قابل قبول نہیں۔
وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف نے بھی اس جنگ میں بھاری قیمت ادا کی ہے،پارٹی کے عہدیداران،منتخب نمائندگان اور وزراء دہشت گردی کا نشانہ بنے،کسی کو گولیوں سے شہید کیا گیا اور کسی نے دھماکوں میں جامِ شہادت نوش کیا،ایسے میں ایک ریاستی ادارے کے ڈائریکٹر جنرل کی جانب سے غیر ذمہ دارانہ اور غیر مدلل الزامات نہ صرف ملک کی سب سے مقبول سیاسی جماعت کے خلاف نفرت کو ہوا دیتے ہیں بلکہ یہ تاثر بھی دیتے ہیں کہ گویا کسی سیاسی قوت کو دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑنے کی خواہش پالیسی کا حصہ بن چکی ہے،جو ایک خطرناک اور افسوسناک سوچ کی عکاس ہے۔وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے زور دیا کہ اگر دہشت گردی اور بدامنی کے مسئلے کا واقعی دیرپا حل مطلوب ہے تو پریس کانفرنسز اور یکطرفہ فیصلوں کے بجائے خیبر پختونخوا اسمبلی میں تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں اور ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد پر مشتمل قومی جرگے کے متفقہ اعلامیے پر عمل کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ مستقبل میں فیصلے بند کمروں اور فردِ واحد کی خواہشات کے بجائے تمام سٹیک ہولڈرز اور عوام کے منتخب نمائندوں کی تشکیل کردہ پالیسیوں کے تحت کیے جانے چاہئیں۔