پشاور(ایگزو نیوز ڈیسک)خیبرپختونخوا کی صوبائی سیاست اور حکمرانی میں ایک اور اہم پیش رفت سامنے آ گئی ہے،جہاں صوبائی کابینہ کا اہم اجلاس کل صبح 11 بجے طلب کر لیا گیا ہے۔اجلاس کی صدارت وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کریں گے جبکہ یہ اجلاس سول سیکریٹریٹ میں منعقد ہوگا۔اجلاس میں صوبائی کابینہ کے تمام اراکین کے علاوہ متعلقہ محکموں کے اعلیٰ سرکاری افسران بھی شرکت کریں گے۔
ایگزو نیوز کے مطابق کابینہ اجلاس میں صوبے کو درپیش اہم انتظامی،ترقیاتی اور پالیسی معاملات پر تفصیلی غور کیا جائے گا۔اجلاس کے ایجنڈے میں تعلیمی اصلاحات،صحت کے شعبے میں پیش رفت، جاری اور آئندہ ترقیاتی منصوبوں،بجٹ معاملات اور عوامی فلاحی پروگرامز شامل ہیں۔وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی اجلاس کے دوران کابینہ اراکین کو واضح ہدایات جاری کریں گے تا کہ ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل اور شفاف عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔
کابینہ اجلاس سے قبل وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے پشاور میں گورنمنٹ شہید مبین شاہ آفریدی ہائیر سیکنڈری سکول کا اچانک دورہ کیا، جہاں انہوں نے تعلیمی ماحول،تدریسی معیار اور انتظامی امور کا تفصیلی جائزہ لیا۔ وزیر اعلیٰ نے اساتذہ، انتظامی عملے اور طلبہ سے براہِ راست گفتگو کرتے ہوئے سرکاری سکولوں میں سہولیات کی کمی پر سخت تشویش کا اظہار کیا۔وزیر اعلیٰ نے ہدایت کی کہ سرکاری سکولوں میں ناپید سہولیات کو ترجیحی بنیادوں پر فراہم کیا جائے اور نئے تعلیمی سیشن کے آغاز پر تمام طلبہ کو مفت درسی کتابوں کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے تعلیمی اداروں میں محفوظ ماحول کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے تمام سرکاری سکولوں میں سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب کا حکم دیا اور اخلاقیات کو بطور مضمون نصاب میں شامل کرنے کا بھی اعلان کیا۔
وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ تعلیم کے ساتھ تربیت لازم ہے کیونکہ یہی بچوں کو باکردار، ذمہ دار اور کامیاب شہری بناتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرکاری سکولوں میں موجود خامیوں کو مرحلہ وار دور کیا جائے گا اور معیارِ تعلیم پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ اساتذہ اور ڈاکٹرز کو معاشرے کے اہم ستون قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اساتذہ کے ہاتھ میں بچوں کا مستقبل اور ڈاکٹرز کے ہاتھ میں عوام کی صحت ہوتی ہے۔دوسری جانب عمران خان کے وژن کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت سیاحت کو محض تفریح نہیں بلکہ خود کفالت، باوقار روزگار اور مقامی ترقی کا موثر ذریعہ بنانے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔
وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے وزیر اعلیٰ ہاوس میں منعقدہ تقریب کے دوران ’میزبان ہوم سٹے ٹورازم پروجیکٹ‘ کے تحت مستحق افراد میں بلاسود قرضہ جاتی چیکس تقسیم کیے۔اب تک 95 افراد میں مجموعی طور پر 151 ملین روپے کے چیکس تقسیم کیے جا چکے ہیں۔ اس منصوبے کے تحت عام شہری اپنے گھروں کو ہوم اسٹے میں تبدیل کر کے سیاحوں کی میزبانی کر سکیں گے اور براہِ راست آمدن حاصل کریں گے۔ ’میزبان‘ پروگرام کے تحت سیاحتی علاقوں کے مقامی افراد کو 30 لاکھ روپے تک بلاسود قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں، جن سے سوات، اپر و لوئر چترال، اپر و لوئر دیر، ایبٹ آباد اور مانسہرہ کے درجنوں خاندان مستفید ہو رہے ہیں۔وزیر اعلیٰ نے اس اقدام کو خیبرپختونخوا کی تاریخ کا ایک انقلابی سیاحتی منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مقامی آبادی کو معاشی طور پر خودکفیل بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاحت کے فروغ سے نہ صرف روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ صوبے کی معیشت بھی مستحکم ہو گی۔