اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)بھارتی فوج اور میڈیا کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں ایک مبینہ دہشتگرد کی ہلاکت اور اسے سابق پاکستانی فوجی اہلکار قرار دینے کے دعوے کے بعد معاملہ اس وقت ایک نیا رخ اختیار کرگیا جب پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے اسی شخص کے طور پر محمد آصف کو میڈیا کے سامنے’زندہ سلامت ‘ پیش کردیا جسے بھارتی ذرائع نے محمد آصف عرف ہاشم موسیٰ قرار دے کر ہلاک ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔
ایگزو نیوز کے مطابق اسلام آباد میں ہونے والی پریس کانفرنس میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھارتی فوج اور میڈیا کے ان دعووں کو موضوع بنایا جن کے مطابق بڈگام کے کوراگ اور یوسمرگ کے علاقے میں کارروائی کے دوران ایک مبینہ عسکریت پسند مارا گیا تھا۔بھارتی ذرائع ابلاغ نے اس شخص کی شناخت محمد آصف عرف ہاشم موسیٰ کے نام سے کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ وہ کالعدم لشکر طیبہ سے وابستہ تھا اور ماضی میں پاکستان فوج میں خدمات انجام دے چکا تھا۔ان دعووں میں اسے اپریل 2025 میں پہلگام حملے سے بھی جوڑا گیا تھا۔
بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق محمد آصف نامی شخص کی پیدائش 7 مارچ 1980 کو ہوئی،اس نے 2000 میں پاکستان فوج میں شمولیت اختیار کی اور مبینہ طور پر حوالدار کے عہدے سے ریٹائر ہوا۔بھارتی خبر رساں ادارے نے اس کے نام کے ساتھ ایک مخصوص سروس نمبر بھی رپورٹ کیا اور دعویٰ کیا کہ وہ بعد ازاں سپیشل سروسز گروپ سے وابستہ رہا۔بھارتی ذرائع نے ان تفصیلات کو اپنی جانب سے اس شخص کی شناخت کے ثبوت کے طور پر پیش کیا۔بھارتی فوج کی چنار کور نے بھی بڈگام میں کارروائی کے بعد ایک لاش ملنے اور اسے محمد آصف عرف ہاشم موسیٰ قرار دینے کا دعویٰ کیا تھا۔بھارتی رپورٹنگ میں کہا گیا کہ کارروائی کے دوران سکیورٹی فورسز نے مبینہ عسکریت پسندوں سے فائرنگ کے تبادلے کے بعد ایک شخص کو ہلاک کیا اور بعد ازاں پالمادان کے علاقے سے اس کی لاش برآمد کی گئی۔ بھارتی میڈیا نے اس کارروائی کو مبینہ طور پر پہلگام سمیت متعدد حملوں سے جوڑتے ہوئے وسیع کوریج دی تاہم پاکستان کی جانب سے پیش کیے گئے موقف نے اس دعوے کے بنیادی نکتے ہی کو چیلنج کر دیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس کے دوران محمد آصف کو اپنے ہمراہ موجود دکھاتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اگر بھارتی میڈیا اور حکام کے مطابق یہی شخص مارا جا چکا ہے تو پھر وہ پاکستان میں کس طرح موجود ہے؟۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے طنزیہ انداز میں بھارتی دعوے کا حوالہ دیتے ہوئے محمد آصف کو وہ شخص قرار دیا جسے بھارتی ذرائع نے ہلاک قرار دیا تھا۔اس موقع پر سابق حوالدار محمد آصف نے بھی میڈیا سے گفتگو کی اور اپنی ہلاکت سے متعلق بھارتی رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ زندہ ہیں اور ان کے بارے میں نشر کی جانے والی اطلاعات بے بنیاد ہیں۔محمد آصف کے مطابق انہیں اپنے دوستوں کے ذریعے معلوم ہوا کہ بھارتی ذرائع ابلاغ پر ان کی ہلاکت کی خبریں نشر ہورہی ہیں،جب دوست انہیں فون کرکے یہ صورتحال بتاتے تو انہیں اس بات پر حیرت ہوتی کہ ایک طرف لوگ خود ان سے فون پر بات کررہے ہیں اور دوسری طرف بھارتی میڈیا کی جانب سے ان کی ہلاکت کی خبر بھی سن رہے ہیں۔
سابق حوالدار محمد آصف نے اپنی فوجی ملازمت کے بارے میں بتایا کہ انہوں نے 2000 میں پاکستان فوج کے شعبہ توپ خانے میں شمولیت اختیار کی،بعدازاں 2005 میں سپیشل سروسز گروپ میں شامل ہوئے اور 2023 میں وہاں سے ریٹائر ہوئے،ریٹائرمنٹ کے بعد بھی انہوں نے کچھ عرصہ ایک نجی سکیورٹی کمپنی میں فرائض انجام دیے تاہم گزشتہ چند ماہ سے وہ راولپنڈی میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ رہ رہے ہیں۔محمد آصف نے اپنے بارے میں بھارتی ذرائع کی جانب سے دہشتگردی سے متعلق عائد کیے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی شناخت ثابت کرنے کے لیے شناختی دستاویزات رکھتے ہیں اور خود کو میڈیا کے سامنے پیش کرکے ان دعووں کی تردید کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ فوج میں اپنے دورِ ملازمت کے دوران انہوں نے ملک کے لیے فرائض انجام دیے اور کسی دہشت گرد سرگرمی میں ملوث ہونے کا الزام بے بنیاد ہے۔
پریس کانفرنس کے دوران ایک صحافی نے سوال کیا کہ محمد آصف کو مبینہ طور پر ہلاک قرار دینے اور ان پر دہشتگردی کے الزامات عائد کرنے کے معاملے پر بھارت کے خلاف کوئی قانونی یا سفارتی کارروائی کی جائے گی یا نہیں؟۔اس پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے جواب دیا کہ اس سوال کا جواب خود محمد آصف ہی دیں گے۔اس دوران ڈی جی آئی ایس پی آر نے محمد آصف سے مخاطب ہوکر پنجابی میں صحافی کے سوال کا حوالہ دیا تو ماحول میں ہنسی کی کیفیت پیدا ہوگئی۔محمد آصف نے بھی برجستہ انداز میں جواب دیا،جس کے بعد لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے سابق ایس ایس جی کمانڈو کے حوالے سے طنزیہ جملہ کہا۔
پریس کانفرنس میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے صرف محمد آصف کے معاملے تک گفتگو محدود نہیں رکھی بلکہ بھارتی دعوے کے پس منظر اور اس کے ممکنہ مقاصد پر بھی سوالات اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی شخص کو ایک طرف پاکستان فوج کا سابق اہلکار قرار دینا اور دوسری جانب اسے دہشتگرد تنظیم سے وابستہ بتا کر پہلگام حملے سے جوڑنا ایک ایسا دعویٰ ہے جس کی بنیاد اور ثبوت کو جانچنا ضروری ہے۔پہلگام حملے کے حوالے سے بھارت ماضی میں بھی پاکستان پر الزامات عائد کرتا رہا ہے جبکہ پاکستان ان الزامات کو مسترد کرتا آیا ہے۔ موجودہ معاملے میں بھی بھارتی ذرائع نے محمد آصف کو اس حملے سے جوڑنے کی کوشش کی تاہم پاکستان کی جانب سے پیش کیے گئے شخص نے اپنی موجودگی اور شناخت کے ذریعے بھارتی دعوے کے ایک بنیادی حصے پر سوال اٹھا دیا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس میں بھارتی ریاستی پالیسی اور مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر بھی سخت تنقید کی۔ان کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں جاری صورتحال کو دنیا کے سامنے دیکھنے کی ضرورت ہے اور پاکستان پر الزامات عائد کرنے کے بجائے بھارت کو اپنے دعووں کے ثبوت پیش کرنے چاہئیں۔انہوں نے بھارتی حکام سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ اگر پاکستان کے خلاف کسی دہشتگرد کارروائی میں ملوث ہونے کے شواہد موجود ہیں تو انہیں سامنے لایا جائے،محض الزامات عائد کرنا کافی نہیں اور کسی بھی سنگین الزام کی بنیاد قابلِ تصدیق شواہد پر ہونی چاہیے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے اس موقع پر بھارت میں ہونے والے بعض واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستان کو ان کا ذمہ دار قرار دینے کی مخالفت کی اور کہا کہ بھارت کے اندرونی معاملات کو پاکستان سے جوڑنے کی بجائے ان کی اپنی وجوہات اور شواہد کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔پریس کانفرنس کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھارت کی جانب سے پاکستان پر دہشتگردی کی سرپرستی کے الزامات کے مقابلے میں بھارتی ریاست پر بھی دہشتگردی کی سرپرستی،معاونت اور مالی اعانت کے الزامات عائد کیے۔انہوں نے ماضی کی بعض تنظیموں اور واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے اپنا موقف پیش کیا کہ دہشتگردی کے معاملے پر دونوں ممالک کے درمیان الزامات اور جوابی الزامات کا سلسلہ طویل عرصے سے جاری ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر بھی گفتگو کرتے ہوئے بھارتی سکیورٹی پالیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ وہاں کے حالات کو دنیا کے سامنے لانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے پاکستان پر مسلسل الزامات عائد کیے جانے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کسی بھی دعوے کو ثبوت کے بغیر حتمی حقیقت کے طور پر پیش نہیں کیا جانا چاہیے۔پریس کانفرنس میں پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی کا حوالہ بھی آیا۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں اور ملکی سلامتی کے خلاف کسی بھی اقدام کی صورت میں پاکستان اپنا دفاع کرے گا۔انہوں نے بھارت کو مخاطب کرتے ہوئے سخت الفاظ میں کہا کہ اگر بھارت کوئی کارروائی کرنا چاہتا ہے تو اسے پاکستان کے ردعمل کے لیے بھی تیار رہنا ہو گا۔ان کے مطابق پاکستان کی مسلح افواج دشمن کے کسی بھی اقدام سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں اور آئندہ کسی جارحیت کی صورت میں جواب سخت ہو گا۔
دفاعی معاملات کے ساتھ پریس کانفرنس میں سعودی عرب کے حوالے سے بھی اہم سوال کیا گیا۔پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مشترکہ دفاعی تعاون کے تناظر میں جب پوچھا گیا کہ کیا پاکستان سعودی عرب میں فوجی دستے بھیج رہا ہے تو ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان حرمین شریفین کے دفاع اور سعودی عرب کی سلامتی کے لیے اپنے عزم پر قائم ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان سعودی عرب کے دفاع سے متعلق اپنے وعدوں پر قائم ہے اور مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ سمیت حرمین شریفین کے تحفظ کو انتہائی اہم سمجھتا ہے تاہم ان کے جواب میں کسی مخصوص فوجی تعیناتی کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
پریس کانفرنس میں پاکستان کی داخلی سیاست سے متعلق سوال بھی کیا گیا۔صحافی نے پاکستان تحریک انصاف کے ممکنہ لانگ مارچ اور اڈیالہ جیل میں سابق وزیراعظم عمران خان سے بعض عسکری حکام کی مبینہ ملاقاتوں سے متعلق سوال اٹھایا تو ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کردیا کہ فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں اور وہ سیاسی معاملات سے متعلق سوالات کا جواب نہیں دیں گے۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ سیاست سیاسی جماعتوں اور سیاستدانوں کا معاملہ ہے جبکہ حکومتیں سیاسی عمل کے ذریعے تشکیل پاتی ہیں۔انہوں نے صحافیوں سے درخواست کی کہ فوج سے متعلق بریفنگ کے دوران سیاسی نوعیت کے سوالات نہ کیے جائیں۔
یوں پریس کانفرنس کا مرکزی نکتہ محمد آصف کا معاملہ رہا،جسے بھارتی ذرائع نے مبینہ طور پر دہشتگرد قرار دے کر ہلاک ہونے کا دعویٰ کیا تھا جبکہ پاکستان نے اسی نام اور سابق فوجی پس منظر کے حامل شخص کو زندہ میڈیا کے سامنے پیش کرتے ہوئے ہندوستانی جھوٹے دعووں کا پول کھول دیا۔دوسری جانب بھارتی میڈیا کی تازہ رپورٹس اب بھی ہاشم موسیٰ کی ہلاکت کو اپنی سکیورٹی کارروائی کی کامیابی قرار دے رہی ہیں اور بھارتی حکام نے اسے لشکر طیبہ سے وابستہ شخص قرار دیا ہے۔یوں محمد آصف کی پاکستان میں موجودگی اور بھارتی فوج کی جانب سے ہلاک ہونے والے شخص کی شناخت کے درمیان تضاد اب اس معاملے کا بنیادی سوال بن گیا ہے۔اس تنازع نے ایک مرتبہ پھر پاک بھارت کشیدگی کے دوران اطلاعات،سرکاری دعووں اور میڈیا رپورٹس کی آزادانہ تصدیق کی اہمیت کو نمایاں کردیا ہے، خصوصاً ایسے معاملات میں جہاں کسی فرد کی شناخت،کسی دہشتگرد حملے سے مبینہ وابستگی اور فوجی کارروائی کے نتائج جیسے سنگین دعوے شامل ہوں۔