لاہور(ایگزو نیوز ڈیسک)پاکستان مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما،رکن قومی اسمبلی اور سابق وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ پاکستانی سیاست میں دائروں کا سفر جاری ہے، ایک دوسرے پر چور، کرپٹ، اسٹیبلشمنٹ کے ٹاؤٹ، بھارتی ایجنٹ، اسرائیلی ایجنٹ، غدار، امریکی ایجنٹ،نااہل، بد کردار سمیت دنیا بھر کے الزامات اور القابات عائد کرنا ہماری قومی سیاست کا محبوب مشغلہ اور بیانیہ بن چکا ہے،یہ باتیں سنتے سنتے لوگوں کے کان پک چکے اور دماغ تھک چکے، واضح ہوجانا چاہئے کہ اپنے نظریات اورتنظیم کو پس پشت ڈالنے والے کوئی انقلاب لا سکتے ہیں نا جوہری تبدیلی۔
’ایگزو نیوز‘ کے مطابق مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ’ایکس‘ پر پوسٹ کرتے ہوئے خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ ہر سیاسی جماعت اور سیاسی قائدین انہی الزامات کا نشانہ بنے لیکن وائے افسوس،بلوچستان کا آتش فشاں کیسے سرد ہو گا؟خیبر پختونخوا میں امن کیسے لایا جائے؟پانی کی منصفانہ تقسیم کیسے یقینی بنائی جائے؟خسارے کا شکار سرکاری ادارے نجی تحویل میں کیسے دیئے جائیں؟حکومتی حجم کم کیسے کیا جائے؟بجلی چوری کی روک تھام اور سستی بجلی کی فراہمی کیسے یقینی بنائی جائے؟ فوری اور سستا انصاف کیسے دیا جائے؟ریاستی ادارے آئین کی حدود میں کیسے رکھے جائیں؟ملک کے پسماندہ علاقے کیسے ترقی یافتہ بنائے جا سکتے ہیں؟چھوٹے انتظامی یونٹس کیوں ضروری ہیں؟اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کیسے ہو گی؟ٹیکسیشن کا منصفانہ اور شفاف نظام کیسے لایا جائے؟رشوت اور سفارش کی لعنت سے چھٹکارا کیسے ممکن ہے؟انتخابی سیاست میں عام آدمی کی شمولیت کیلئے انتخابی عمل شفاف اور سستا کیسے ممکن ہو؟۔
خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ ان جیسے اہم ترین اور پیچیدہ قومی مسائل پر سٹیک ھولڈرز کے مابین مکالمہ کرنے، غور و خوض اور انکے حل تجویز کرنے کی معنی خیز کوششیں کسی سیاسی جماعت کی ترجیحات نظر آئیں نہ محسوس ہوئیں۔انہوں نے کہا کہ ملک پر حکومت کرنے کی دعویدار اور خواہشمند جماعتیں مختلف موضوعات پر تھنک ٹینک بناتی ہیں نہ سبجیکٹ سپیشلسٹس کی خدمات حاصل کرکے کوئی روڈ میپ تیار کرنا ضروری سمجھتی ہیں،اسی لئے انکی حکومتیں سول اور ملٹری بیورو کریسی کے نرغے میں آئے بغیر نہیں چل پاتیں۔ن لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ کئی برس تک ہم یہ باتیں جماعتی فورمز پر اٹھاتے رہے لیکن بے سود رہا،کسی سیاسی جماعت نے مذکورہ موضوعات پر ہوم ورک کرنے کی زحمت ہی نہیں کی،نتیجہ سب کے سامنے ہے، آپ ووٹ کی طاقت سے آئیں یا لائے جائیں،تمام تر اخلاص اور کوشش کے باوجود ایک دن رسوائی لاد کر رخصت ہوجاتے ہیں،پاکستانی سیاست میں دائروں کا سفر جاری ہے،واضح ہوجانا چاہئے کہ اپنے نظریات اور تنظیم کو پس پشت ڈالنے والے کوئی انقلاب لا سکتے ہیں نا جوہری تبدیلی،ہر سیاسی جماعت کے کامریڈز کو اپنی اپنی جماعتوں میں یہ سوالات ضرور اٹھانے چاہئیں۔
خواجہ سعد رفیق کے صبر کا پیمانہ چھٹ گیا،ملک کے اہم ایشوز اور سلگتے موضوعات پر سوالات کے انبار لگاتے ہوئے اپنے سمیت ساری سیاسی جماعتوں کو آئینہ دکھا دیا
42