اسلام آباد(ایگزو نیوزڈیسک)وزیر دفاع خواجہ آصف نے آزاد جموں و کشمیر کی حالیہ صورتحال پر سخت ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ریاست مخالف ایجنڈا اور تشدد کے ذریعے حالات خراب کرنے کی کسی بھی کوشش کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا اور قانون کو پوری قوت کے ساتھ نافذ کیا جائے گا۔
ایگزو نیوز کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر جاری اپنے بیان میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ موجودہ حالات میں، جب انتخابات قریب ہیں، اختلافات کو عوامی عدالت میں لے جانا ہی جمہوری طرزِ عمل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو عناصر عوامی رائے کے بجائے تشدد، قتل و غارت اور خوف کے ذریعے اپنی سوچ مسلط کرنا چاہتے ہیں، ان کے مقاصد جمہوری نہیں بلکہ کچھ اور ہیں۔خواجہ آصف نے کہا کہ حالیہ واقعات میں پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا، انہیں شہید کیا گیا اور حتیٰ کہ لاشوں کی بے حرمتی جیسے افسوسناک واقعات بھی پیش آئے، جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ ایسے عناصر جمہوری عمل سے فرار چاہتے ہیں اور انتشار پھیلانے کے درپے ہیں۔انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ اگر کوئی گروہ قانون سے بالاتر ہو کر ریاست مخالف سرگرمیوں کے ذریعے تشدد مسلط کرنے کی کوشش کرے گا تو ریاست اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے سخت کارروائی کرے گی اور قانون کی عملداری ہر صورت یقینی بنائی جائے گی۔وزیر دفاع نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ریاست کشمیری عوام کو ان کی رائے کے آزادانہ اظہار کا مکمل حق فراہم کرے گی اور شفاف انتخابات کے انعقاد کو ہر حال میں یقینی بنایا جائے گا تاکہ عوام اپنی قیادت کا انتخاب آزادانہ طور پر کر سکیں۔ان کے بیان کو آزاد کشمیر کی موجودہ کشیدہ صورتحال کے تناظر میں ایک اہم پالیسی سگنل قرار دیا جا رہا ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ حکومت کسی بھی غیر آئینی یا پرتشدد سرگرمی کے خلاف سخت موقف اختیار کرنے جا رہی ہے۔
ریاست مخالف عناصر کے خلاف آہنی ہاتھ،قتل و غارت سے ایجنڈا مسلط نہیں ہونے دیں گے،قانون ہر صورت نافذ ہو گا،خواجہ آصف کا نعرہ مستانہ
8