اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)پاکستان کے 12 جری سپوت بھارتی حمایت یافتہ دہشت گردوں کے حملے میں جامِ شہادت نوش کر گئے، لیکن ان کی نمازِ جنازہ میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سمیت پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) کا کوئی رہنما شریک نہ ہوا۔ وزیردفاع خواجہ آصف نے اس غیر حاضری کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے شہداءکی قربانیوں کے ساتھ ناانصافی اور قومی بیانیے سے انحراف قرار دیا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق وزیر دفاع خواجہ آصف نے پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی حمایت یافتہ دہشت گردوں کے حملے میں شہید ہونے والے 12 جوانوں کی نمازِ جنازہ میں نہ تو وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا اور نہ ہی پی ٹی آئی کا کوئی رہنما شریک ہوا۔خواجہ آصف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ”ایکس “پر جاری پیغام میں کہا کہ افغانستان سے داخل ہونے والے بھارتی سپانسرڈ دہشت گردوں نے خیبرپختونخوا میں پاکستان کے 12 بہادر سپوتوں کو شہید کیا،ان کے جنازوں میں فوجی اور سول قیادت نے شرکت کر کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا لیکن پی ٹی آئی کی قیادت کی سب کو نظر آنے والی غیر حاضری نے سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔وزیر دفاع نے شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ سوال اب ہر پاکستانی کے ذہن میں گونج رہا ہے کہ تحریک انصاف کس کے ساتھ کھڑی ہے؟کیا وہ بھارت کے حمایت یافتہ قاتل دہشت گردوں کے ساتھ ہے یا ان جوان بیٹوں کے ساتھ جو وطن عزیز پر قربان ہو گئے؟۔دوسری جانب تجزیہ کاروں کے مطابق شہداء کی نمازِ جنازہ جیسے حساس موقع پر سیاسی قیادت کی غیر حاضری ایک افسوسناک رویہ ہے جس نے نہ صرف شہداء کے لواحقین کے دل دکھائے ہیں بلکہ سیاسی جماعتوں کی سنجیدگی اور ریاستی بیانیے کے ساتھ ان کی مطابقت پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔خواجہ آصف کا یہ بیان دراصل پی ٹی آئی پر دباو بڑھانے کی حکمتِ عملی کا حصہ سمجھا جا رہا ہے تا کہ اسے قومی سلامتی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ پر اپنی پوزیشن واضح کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔