واشنگٹن(ایگزو نیوز ڈیسک)وزیراعظم شہباز شریف اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان وائٹ ہاوس میں طویل ملاقات ہوئی جسے دونوں ممالک کے تعلقات میں نئے باب کا آغاز قرار دیا جا رہا ہے،اس ملاقات میں پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیر خارجہ مارکو روبیو بھی شریک تھے۔ اوول آفس میں ہونے والی یہ نشست ایک گھنٹہ 20 منٹ تک جاری رہی جس کے دوران دوطرفہ تعلقات، خطے کی صورتحال اور مستقبل کے تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے پاکستان اور امریکہ کے درمیان تجارتی تعلقات کو مزید وسعت دینے پر زور دیا تاہم ملاقات کے دیگر نکات تاحال منظر عام پر نہیں لائے گئے۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے اس ملاقات کو پاکستان کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت پر تاریخی فتح، سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے اور امریکہ سے تعلقات میں بے مثال پیش رفت نے 2025 کو کامیابیوں سے بھرپور سال بنا دیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں کہا کہ ”الحمداللہ، ہائبرڈ نظام کی پارٹنرشپ کی کامیابیوں کا تسلسل جاری ہے“۔تجزیہ کاروں کے مطابق یہ ملاقات نہ صرف دوطرفہ تعلقات کو نئی جہت فراہم کرے گی بلکہ پاکستان کے سفارتی اور دفاعی محاذ پر بھی اہم اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ وزیراعظم اور صدر ٹرمپ کی ملاقات کے دوران ہونے والی گفتگو کی مکمل تفصیلات اگرچہ جاری نہیں کی گئیں تاہم یہ بات واضح ہے کہ پاکستان امریکہ تعلقات میں نئی سطح کی گرمجوشی اور اعتماد پیدا ہوا ہے جو آئندہ خطے کی سیاست اور عالمی تعلقات پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔
خواجہ آصف نے ایک بار پھر ہائبرڈ نظام ’زندہ باد‘ کا نعرہ بلند کر دیا
10