Home » تعلیمی اداروں میں ذہنی دباو کی وجہ سے خودکشی کے واقعات میں اضافہ،کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی طالبہ کی مبینہ خودکشی کی کوشش

تعلیمی اداروں میں ذہنی دباو کی وجہ سے خودکشی کے واقعات میں اضافہ،کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی طالبہ کی مبینہ خودکشی کی کوشش

by ahmedportugal
6 views
A+A-
Reset

اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)لاہور میں کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی (KEMU) کی ایک ایم بی بی ایس کی چوتھی سال کی طالبہ نے مبینہ طور پر خودکشی کی کوشش کی، جو تعلیمی اداروں میں طلبہ کی ذہنی صحت کے بڑھتے ہوئے بحران کی طرف ایک سنگین انتباہ ہے۔ واقعے کے فوری بعد طالبہ کو میو ہسپتال کی ایمرجنسی منتقل کیا گیا، جہاں بروقت طبی امداد فراہم کی گئی اور اب وہ خطرے سے باہر ہے،ہسپتال انتظامیہ نے بتایا کہ طالبہ کی ذہنی صحت کی نگہداشت کے لیے ماہر نفسیات اس کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں۔
ایگزو نیوز کے مطابق ملک میں تعلیمی اداروں میں طلبہ کے درمیان ذہنی دباو،امتحانی سٹریس،مالی مشکلات، والدین یا اساتذہ کی توقعات اور سماجی دباو کے باعث خودکشی کے رجحان میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔میڈیکل اور انجینئرنگ کالجز کے طلبہ میں یہ مسئلہ زیادہ سنگین ہے کیونکہ طویل اور دباو بھرا تعلیمی ماحول نوجوانوں کی ذہنی صحت پر منفی اثر ڈال رہا ہے۔ماہر نفسیات عائزہ حیدر کے مطابق تعلیمی اداروں میں طلبہ کی بڑھتی ہوئی ذہنی دباو کی وجوہات میں تعلیمی کارکردگی کی غیر حقیقی توقعات،سماجی تنقید اور ذاتی مسائل شامل ہیں۔اگر طلبہ کی بروقت مدد نہ کی گئی تو یہ حالات زندگی کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ تعلیمی ادارے اور ہاسٹل انتظامیہ طلبہ کے لیے ہیلپ لائنز،مشاورتی سیشنز اور نفسیاتی سپورٹ سروسز فعال کریں تا کہ ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو۔کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کی انتظامیہ نے واقعے کے بعد طلبہ میں ذہنی صحت کی حساسیت بڑھانے اور فلاح و بہبود کے اقدامات کو مزید موثر بنانے کا اعلان کیا ہے۔انتظامیہ نے ہاسٹلوں میں ماہرین نفسیات کی دستیابی،24 گھنٹے ہیلپ لائن اور ورکشاپس کے ذریعے طلبہ کو ذہنی دباو سے نمٹنے کی تربیت دینے کا منصوبہ بنایا ہے۔یہ واقعہ ملک بھر کے تعلیمی اداروں میں طلبہ کی ذہنی صحت کے حوالے سے بڑھتی تشویش کی عکاسی کرتا ہے۔اس سے قبل بھی مختلف یونیورسٹیوں اور کالجز میں طلبہ کے خودکشی یا خود کو نقصان پہنچانے کے کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں،جس نے ماہرین اور والدین میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ والدین،اساتذہ اور طلبہ کی معاونت کے بغیر اس بحران کو حل کرنا ممکن نہیں،بروقت شناخت اور مدد سے طلبہ کو ذہنی دباو کے منفی اثرات سے بچایا جا سکتا ہے جبکہ غیر فعال رویہ حالات کو مزید خطرناک بنا دیتا ہے۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز