Home » کراچی میں ایک سال کے دوران 155 زندگیاں خاموشی سے ختم،شہر قائد سے خودکشیوں کی لرزہ خیز رپورٹ سامنے آ گئی

کراچی میں ایک سال کے دوران 155 زندگیاں خاموشی سے ختم،شہر قائد سے خودکشیوں کی لرزہ خیز رپورٹ سامنے آ گئی

by ahmedportugal
8 views
A+A-
Reset

کراچی(ایگزو نیوز ڈیسک)کراچی میں سال 2025 کے دوران سامنے آنے والے خودکشی کے واقعات نے شہر قائد کے معاشرتی اور معاشی حالات پر ایک گہرا سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے، جہاں پولیس ریکارڈ کے مطابق ایک ہی سال میں 155 افراد نے خاموشی کے ساتھ اپنی زندگیاں ختم کر لیں۔ یہ لرزہ خیز اعدادوشمار اس حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ بڑھتا ہوا معاشی دباو،بے روزگاری،قرضوں کا بوجھ اور گھریلو ناچاقی جیسے مسائل شہریوں کو شدید ذہنی دباو میں مبتلا کر رہے ہیں،جو بالآخر انہیں انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور کر رہا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق سال 2025 کے دوران کراچی کے مختلف علاقوں سے خودکشی کے 155 واقعات رپورٹ ہوئے،جس نے شہر میں بڑھتے ہوئے معاشی اور معاشرتی دباو کی ایک تشویشناک تصویر پیش کر دی ہے۔پولیس ریکارڈ کے مطابق ان تمام کیسز میں گھروں سے لاشیں برآمد ہوئیں،جنہیں تفتیش کے بعد خودکشی کے واقعات قرار دیا گیا۔ اعداد و شمار کے مطابق خودکشی کرنے والوں میں اکثریت مردوں کی تھی،جب کہ خواتین اور خواجہ سرا بھی اس المناک فہرست کا حصہ بنے۔پولیس رپورٹ کے مطابق 2025 میں خودکشی کرنے والوں میں 124 مرد، 30 خواتین اور ایک خواجہ سرا شامل تھا۔واقعات کی ماہانہ تفصیل انتہائی تشویشناک رجحان کی نشاندہی کرتی ہے،جس کے مطابق جنوری میں 4، فروری میں 12،مارچ میں 15 اور اپریل میں 17 افراد نے اپنی زندگی کا خاتمہ کیا۔

اعداد و شمار کے مطابق مئی میں 17،جون میں 14،جولائی میں 10 اور اگست میں 9 خودکشی کے واقعات رپورٹ ہوئے تاہم ستمبر شہر کے لیے سب سے زیادہ ہولناک مہینہ ثابت ہوا،جس میں 21 افراد نے خودکشی کی۔ اکتوبر میں 17،نومبر میں 11 اور دسمبر میں 8 کیسز سامنے آئے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خودکشی کرنے والوں کی بڑی تعداد شدید ذہنی دباو کا شکار تھی،جس کی بنیادی وجوہات میں بے روزگاری،معاشی بدحالی،قرضوں کا بوجھ اور گھریلو ناچاقی شامل ہیں۔پولیس کے مطابق کئی کیسز میں متاثرہ افراد طویل عرصے سے مالی مسائل اور خاندانی تنازعات سے دوچار تھے،جنہوں نے انہیں انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور کیا۔

ماہرینِ نفسیات اور سماجی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کراچی جیسے بڑے شہر میں خودکشی کے واقعات میں اضافہ ایک سنگین معاشرتی المیہ ہے،جو بڑھتی ہوئی مہنگائی،روزگار کے مواقع کی کمی اور ذہنی صحت سے متعلق سہولیات کے فقدان کی عکاسی کرتا ہے۔ان کے مطابق ایسے واقعات محض انفرادی المیے نہیں بلکہ پورے معاشرے کے لیے خطرے کی گھنٹی ہیں۔ماہرین نے زور دیا ہے کہ خودکشیوں کی روک تھام کے لیے حکومتی سطح پر فوری اور موثر اقدامات کی ضرورت ہے، جن میں ذہنی صحت کے مراکز کا قیام،نفسیاتی معاونت کی سہولیات،بے روزگار افراد کے لیے روزگار کے مواقع اور خاندانی مسائل کے حل کے لیے مشاورتی نظام شامل ہونا چاہیے۔سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر بروقت توجہ نہ دی گئی تو یہ رجحان مزید سنگین صورت اختیار کر سکتا ہے۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز