Home » کراچی جل رہا ہے،حکمران بے خبر،مفتاح اسماعیل نے وفاق اور سندھ حکومت کی ناکامیوں کا پردہ چاک کر دیا

کراچی جل رہا ہے،حکمران بے خبر،مفتاح اسماعیل نے وفاق اور سندھ حکومت کی ناکامیوں کا پردہ چاک کر دیا

by ahmedportugal
3 views
A+A-
Reset

کرچی(ایگزو نیوز ڈیسک)سابق وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے وفاقی اور سندھ حکومت کی مجموعی کارکردگی پر شدید مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان ایک سنگین معاشی اور سماجی بحران سے گزر رہا ہے،جہاں غربت تیزی سے بڑھ رہی ہے،عوام کی حقیقی آمدن سکڑ چکی ہے اور ریاستی مشینری عوام کو بنیادی تحفظ فراہم کرنے میں بھی ناکام دکھائی دیتی ہے،صوبائی حکومت کراچی جیسے بڑے شہر میں آگ پر قابو پانے میں ناکام ہے تو پھر اندرون سندھ کے حالات کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے،آتشزدگی کا یہ واقعہ انتظامی نا اہلی اور حکومتی غفلت کا کھلا ثبوت ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق کراچی میں تحریک تحفظ آئین پاکستان کے تحت منعقدہ کانفرنس میں مفتاح اسماعیل نے حالیہ حکومتی سرویز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ چند ہی ہفتوں کے دوران لیبر اور ہاوس ہولڈ سرویز سامنے آئے ہیں،جن کے مطابق ملک میں غربت میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے،غریب طبقہ مزید 18 فیصد غریب ہو چکا ہے جبکہ مجموعی طور پر ایک عام پاکستانی کی معاشی حالت میں اوسطاً 12 فیصد مزید گراوٹ آئی ہے۔انہوں نے نشاندہی کی کہ پاکستان کی فی کس آمدن آج بھی 2010 کی سطح پر کھڑی ہے جبکہ 2021 کے بعد حقیقی آمدن مسلسل کم ہوتی جا رہی ہے،جو حکومتی معاشی پالیسیوں پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔سابق وزیر خزانہ نے غذائی عدم تحفظ کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ 2018 میں ملک کے 16 فیصد گھرانوں کو خوراک کی فکر لاحق تھی جبکہ آج یہ تعداد بڑھ کر 25 فیصد ہو چکی ہے،ملک کی ایک چوتھائی آبادی کو یہ معلوم نہیں کہ اگلی روٹی کہاں سے آئے گی؟۔

انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ 2018 میں جو شہری چار انڈے کھا سکتا تھا،آج وہ ایک انڈہ بھی نہیں خرید سکتا،جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان کو معاشی طور پر بری طرح تباہ کیا گیا ہے۔مفتاح اسماعیل نے شہری متوسط طبقے کی زبوں حالی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پانچ سال پہلے تنخواہ دار طبقہ کچھ نہ کچھ بچت کر لیتا تھا مگر آج صورتحال یہ ہے کہ شہری قرض لے کر بھی گھر کا خرچ پورا نہیں کر پا رہا،کئی خاندان ایسے ہیں جن کے پاس ناشتہ تک میسر نہیں،جو کسی بھی ریاست کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ جب تک ملک میں سیاسی استحکام نہیں آئے گا،معیشت کی بحالی ممکن نہیں،سیاست گزشتہ چار برس سے جمود کا شکار ہے اور اس دلدل سے نکلنے کے لیے پہلا قدم حکومت کو اٹھانا ہو گا۔انہوں نے ووٹ کے حق سے متعلق حالیہ مباحث پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ آج کہا جا رہا ہے ووٹ کی عمر 25 سال کی جائے،کل شاید یہ تجویز آئے کہ ووٹ کی عمر 70 سال کر دی جائے،جو جمہوری عمل کے ساتھ مذاق کے مترادف ہے۔

کراچی میں گل پلازہ آتشزدگی کے افسوسناک واقعے پر اظہارِ افسوس کرتے ہوئے مفتاح اسماعیل نے متاثرین سے ہمدردی کا اظہار کیا اور سندھ حکومت کی 18 سالہ حکمرانی پر سخت تنقید کی۔ان کا کہنا تھا کہ اگر صوبائی حکومت کراچی جیسے بڑے شہر میں آگ پر قابو پانے میں ناکام ہے تو پھر اندرون سندھ کے حالات کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے،آتشزدگی کا یہ واقعہ انتظامی نااہلی اور حکومتی غفلت کا کھلا ثبوت ہے،اگر کسی حکومت کے پاس عوامی مینڈیٹ نہ ہو تو وہ اصلاحات اور تبدیلی نہیں لا سکتی۔انہوں نے حکمرانوں سے اپیل کی کہ خدارا عوام کا خیال کریں کیونکہ ملک میں بھوک اور افلاس تیزی سے پھیل رہا ہے اور غریب مزید غریب ہوتا جا رہا ہے۔مفتاح اسماعیل نے تجویز دی کہ غریب عوام کے مفاد میں سیاسی قوتوں کو آپس میں بیٹھ کر ایک معاہدہ کرنا چاہیے اور محمود خان اچکزئی اور اسد قیصر کو مل کر حکومت سے بات کرنی چاہیے تا کہ ملک کو موجودہ بحران سے نکالا جا سکے۔انہوں نے پیکا ایکٹ کے حوالے سے صحافی برادری کو بھی متحرک ہونے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ اظہارِ رائے کی آزادی پر قدغن کسی صورت قابل قبول نہیں،اگر آج آواز نہ اٹھائی گئی تو کل یہ دائرہ مزید تنگ کر دیا جائے گا۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز