اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)سندھ حکومت نے کراچی میں امن و امان کی صورتحال کو مزید مستحکم بنانے کے لیے سیف سٹی منصوبے کے دوسرے مرحلے کی منظوری دے دی ہے،جس کے تحت شہر بھر میں جدید نگرانی نظام قائم کیا جائے گا اور ہزاروں سمارٹ کیمرے نصب کیے جائیں گے۔
ایگزو نیوز کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیر صدارت ہونے والے اعلیٰ سطح اجلاس میں منصوبے کی تفصیلات کا جائزہ لیا گیا،جس میں سکیورٹی اداروں اور متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔منصوبے کے تحت مجموعی طور پر 2,314 اسمارٹ سرویلنس کیمرے نصب کیے جائیں گے،جن میں عام نگرانی،نمبر پلیٹ شناخت اور چہرہ شناسی جیسی جدید سہولیات سے لیس کیمرے شامل ہوں گے۔اس کے علاوہ ٹریفک کی نگرانی اور قانون نافذ کرنے کے لیے مخصوص کیمرے،موبائل سرویلنس یونٹس اور ٹریفک سگنل مانیٹرنگ سسٹم بھی اس منصوبے کا حصہ ہوں گے۔یہ جدید کیمرے کراچی کے مختلف اضلاع میں نصب کیے جائیں گے،جس سے شہر کے نگرانی کے نظام میں نمایاں بہتری آئے گی اور سکیورٹی اداروں کو بروقت معلومات فراہم ہو سکیں گی۔منصوبے کی مجموعی لاگت تقریباً 9.98 ارب روپے رکھی گئی ہے اور اسے ایک سال کے اندر مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جبکہ عملی کام کے مئی 2026 میں آغاز کا امکان ہے۔انفراسٹرکچر کے تحت جدید کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم،سولر اور جنریٹر بیک اپ کے حامل مراکز،پبلک پینک بٹن،کیمروں سے لیس رسپانس گاڑیاں اور ڈرونز بھی شامل کیے جائیں گے تاکہ ہنگامی صورتحال میں فوری ردعمل ممکن بنایا جا سکے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے منصوبے کے مالی پہلووں پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ خریداری کے عمل میں موثر حکمت عملی کے ذریعے ایک ارب روپے سے زائد کی بچت کی گئی ہے جبکہ معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا گیا۔انہوں نے اس منصوبے کو عوامی تحفظ اور قومی سلامتی کے لیے اہم سرمایہ کاری قرار دیا۔اجلاس میں دیگر بڑے شہروں میں بھی سیف سٹی منصوبے کے قیام کی تجاویز کا جائزہ لیا گیا،جن کے تحت مزید سینکڑوں کیمروں کی تنصیب متوقع ہے۔حکام کو ہدایت کی گئی کہ تمام منصوبوں کو ایک مربوط نظام کے تحت لایا جائے تاکہ کارکردگی بہتر بنائی جا سکے اور وسائل کا موثر استعمال یقینی ہو۔ماہرین کے مطابق اس منصوبے سے نہ صرف جرائم کی روک تھام میں مدد ملے گی بلکہ ٹریفک مینجمنٹ اور ایمرجنسی سروسز کی کارکردگی میں بھی نمایاں بہتری آئے گی،جس سے کراچی کو ایک زیادہ محفوظ اور منظم شہر بنانے میں مدد ملے گی۔