Home » معافی ہم نہیں،لشکر بنانے والے مانگیں،سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومتی بیانیے کو چیلنج کر دیا،حکومتی ردعمل پر سخت جوابی وار

معافی ہم نہیں،لشکر بنانے والے مانگیں،سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومتی بیانیے کو چیلنج کر دیا،حکومتی ردعمل پر سخت جوابی وار

by ahmedportugal
11 views
A+A-
Reset

اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)جمعیت علمائے اسلام ف کے رہنما سینیٹر کامران مرتضیٰ نے مولانا فضل الرحمان کے حالیہ بیان پر حکومتی ردعمل کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معافی کا تقاضا جے یو آئی قیادت سے نہیں بلکہ ان عناصر سے کیا جانا چاہیے جنہوں نے مبینہ طور پر متوازی لشکر بنانے جیسے بیانات دیے،مولانا کے موقف کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا جا رہا ہے جبکہ اصل توجہ ملک کے بعض حصوں میں بگڑتی ہوئی گورننس اور سیکیورٹی صورتحال پر ہونی چاہیے، سیاسی بیانات کو بنیاد بنا کر دباو ڈالنے کے بجائے سنجیدہ قومی معاملات پر ذمہ دارانہ طرزِ عمل اختیار کرنا ضروری ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے حالیہ بیان پر جاری تنازع کے دوران پارٹی کے مرکزی رہنما سینیٹر کامران مرتضیٰ نے واضح موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مولانا کو کسی قسم کی معافی مانگنے کی ضرورت نہیں بلکہ معافی ان عناصر کو مانگنی چاہیے جنہوں نے مبینہ طور پر متوازی لشکر بنانے جیسے بیانات دیے۔سینیٹر کامران مرتضیٰ نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ مولانا فضل الرحمان کے خلاف کوئی قانونی کارروائی بنتی ہے، مولانا نے ایسی کوئی بات نہیں کی جس پر ان سے معافی کا مطالبہ کیا جائے۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر کسی کی جانب سے خیبرپختونخوا میں متوازی لشکر بنانے یا عوام کو خود مقابلہ کرنے کا کہا جائے تو اصل معافی کا تقاضا کس سے ہونا چاہیے؟۔

کامران مرتضیٰ نے بلوچستان اور خیبرپختونخوا کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے حکومت پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ ان صوبوں میں گورننس شدید مسائل کا شکار ہے،جس پر جوابدہی ہونی چاہیے،اگر کسی کو یہ کہا جا رہا ہے کہ وہ اپنے طور پر مسلح گروہ تشکیل دے کر حالات کا مقابلہ کرے تو یہ نہایت سنجیدہ معاملہ ہے،جس پر غور کیا جانا چاہیے۔ایک سوال کے جواب میں کہ بعض سیاسی شخصیات مولانا کے خلاف مقدمہ درج کرانے کی بات کر رہی ہیں، کامران مرتضیٰ نے قدرے محتاط انداز میں ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ متعلقہ افراد کے بیانات سے سب واقف ہیں،اس لیے اس پر مزید تبصرہ ضروری نہیں۔

دوسری جانب اس سے قبل مولانا فضل الرحمان کے بیان پر حکومتی اور سیاسی حلقوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔وزیر دفاع خواجہ آصف نے اپنے بیان میں کہا کہ فوجی جوانوں کی قربانی کو تنخواہ سے جوڑنا غیرمنصفانہ ہے اور یہ شہداء اور ان کے اہل خانہ کی دل آزاری کے مترادف ہے،طن کے لیے جان کا نذرانہ کسی مالی معاوضے سے بالا تر ہوتا ہے اور اس کے پیچھے نظریہ،فرض اور وطن سے وابستگی کارفرما ہوتی ہے۔وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے بھی بیان کو اخلاقی اور اسلامی اصولوں کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ شہادت کا مقام کسی دنیاوی معاوضے سے کہیں بلند ہے اور اسے مالی پیمانوں میں نہیں تولا جا سکتا۔

وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے اپنے ردعمل میں کہا کہ شہداء کی قربانیوں کو سیاسی بحث کا حصہ بنانا مناسب نہیں اور ان کی عظمت کا ہر حال میں احترام کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے شہداءکے اہل خانہ کے حوصلے کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے انہیں قوم کا سرمایہ قرار دیا۔اسی طرح وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ قوم اپنے جوانوں اور افسروں کی قربانیوں کی بدولت محفوظ ہے اور شہداءکی قربانیوں کو کسی بھی سیاسی بیان یا تنقید سے کم نہیں کیا جا سکتا۔دیگر سیاسی رہنماوں میں رانا ثناءاللہ،عبدالعلیم خان،عون چوہدری،فیاض الحسن چوہان اور فواد چوہدری نے بھی مولانا کے بیان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے نامناسب قرار دیا ہے۔مذکورہ معاملہ مین سٹریم اور سوشل میڈیا پر زیر بحث ہے،جہاں ایک جانب حکومتی شخصیات شہداء کے احترام پر زور دے رہی ہیں تو دوسری جانب جے یو آئی قیادت اپنے موقف کا دفاع کرتے ہوئے حکومت کی پالیسیوں اور بیانات پر سوالات اٹھا رہی ہے،جس سے سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھ گیا ہے۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز