Home » جسٹس طارق جہانگیری کی چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں باضابطہ شکایت،سنگین الزامات کی بوچھاڑ

جسٹس طارق جہانگیری کی چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں باضابطہ شکایت،سنگین الزامات کی بوچھاڑ

by ahmedportugal
3 views
A+A-
Reset

اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)اسلام آباد کی عدالتی تاریخ میں ایک غیر معمولی اور تہلکہ خیز پیش رفت سامنے آ گئی ہے، جہاں اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیری نے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں باقاعدہ شکایت دائر کر دی ہے، شکایت میں زیر التوا مقدمے پر گفتگو، جلد سماعت کے لیے دباو ڈالنے اور مستعفی ہونے کا مشورہ دینے جیسے نہایت سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں، جنہیں عدالتی ضابطہ اخلاق کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق شکایت کے متن کے مطابق جسٹس طارق جہانگیری نے موقف اختیار کیا ہے کہ چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے انہیں ملاقات کے لیے طلب کیا اور دورانِ ملاقات ان کے خلاف زیرِ سماعت مبینہ جعلی ایل ایل بی ڈگری کیس پر بات چیت کی، جو کسی بھی صورت میں عدالتی اصولوں کے منافی ہے۔ جسٹس طارق کے مطابق چیف جسٹس نے ملاقات کے دوران اعتراف کیا کہ ان پر کیس کی جلد سماعت کے لیے دباو ہے جبکہ زیرِ التوا مقدمے پر اس نوعیت کی گفتگو کو انہوں نے صریح عدالتی مس کنڈکٹ قرار دیا ہے۔درخواست میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ اسی ملاقات کے دوران انہیں یہ مشورہ بھی دیا گیا کہ چونکہ دباو موجود ہے،اس لیے بہتر ہے کہ وہ خود مستعفی ہو جائیں۔ جسٹس طارق جہانگیری نے اس اقدام کو انتہائی سنگین نوعیت کی بدعنوانی اور عدالتی آزادی پر براہِ راست حملہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی حاضر سروس جج کو زیرِ سماعت کیس کے دوران استعفے کا مشورہ دینا آئینی اور اخلاقی حدود سے تجاوز ہے۔جسٹس طارق جہانگیری نے سپریم جوڈیشل کونسل سے استدعا کی ہے کہ چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کے خلاف آئینی کارروائی عمل میں لائی جائے اور انہیں عہدے سے برطرف کیا جائے۔ ان کا موقف ہے کہ اگر عدلیہ کے اندر ایسے طرزِ عمل کو نظرانداز کیا گیا تو انصاف کے پورے نظام پر عوام کا اعتماد متزلزل ہو جائے گا۔
ادھر اس معاملے کے ساتھ ساتھ جسٹس طارق جہانگیری نے مبینہ ڈگری کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے 9 دسمبر کے دو رکنی بنچ کے فیصلے کو بھی وفاقی آئینی عدالت میں چیلنج کر دیا ہے۔ اپیل میں موقف اپنایا گیا ہے کہ ان کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر رٹ درخواست ہی ناقابلِ سماعت تھی اور اسے ابتدائی مرحلے پر ہی خارج کیا جانا چاہیے تھا۔درخواست میں نشاندہی کی گئی ہے کہ رٹ پٹیشن کو قابلِ سماعت قرار دینے سے قبل ان فریقین کو سنا گیا جو قانونی طور پر فریق ہی نہیں تھے، جبکہ انہیں خود سنے بغیر فیصلہ آگے بڑھایا گیا۔ مزید کہا گیا ہے کہ ایل ایل بی ڈگری کی جانچ کا اختیار ٹرائل کورٹ کو حاصل ہے جو شواہد ریکارڈ کر کے فیصلہ کرتی ہے، ہائی کورٹ شواہد ریکارڈ کرنے کی مجاز نہیں۔جسٹس طارق جہانگیری کی قانونی ٹیم میں سینئر وکیل اکرم شیخ اور بیرسٹر صلاح الدین ہائی کورٹ میں مقدمے کی پیروی کریں گے جبکہ وفاقی آئینی عدالت میں ان کی نمائندگی وکیل عزیر بھنڈاری کریں گے۔

یاد رہے کہ جولائی 2024 میں سوشل میڈیا پر ایک خط گردش میں آیا تھا جو مبینہ طور پر جامعہ کراچی کے کنٹرولر امتحانات کی جانب سے جسٹس طارق محمود جہانگیری کی ایل ایل بی ڈگری سے متعلق تھا۔یہ خط سندھ ٹرانسپیرنسی اینڈ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2016 کے تحت معلومات کی درخواست کے جواب میں جاری کیا گیا تھا،جس میں کہا گیا تھا کہ طارق محمود نے 1991 میں انرولمنٹ نمبر 5968 کے تحت ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی تا ہم اسی خط میں یہ تضاد بھی سامنے آیا کہ اسی انرولمنٹ نمبر پر 1987 میں ایک اور طالب علم امتیاز احمد کا داخلہ موجود تھا جبکہ جسٹس طارق جہانگیری کے نام سے ایل ایل بی پارٹ ون کا ٹرانسکرپٹ جاری کیا گیا۔مزید یہ کہ طارق محمود نے ایل ایل بی پارٹ ون کے لیے ایک اور انرولمنٹ نمبر 7124 استعمال کیا،جس پر یونیورسٹی نے وضاحت دی کہ ایک ڈگری پروگرام کے لیے دو انرولمنٹ نمبرز کا ہونا ممکن نہیں۔اگرچہ خط میں ڈگری کو جعلی قرار نہیں دیا گیا تا ہم اسے قواعد کے خلاف اور غلط ضرور قرار دیا گیا

۔بعد ازاں وکیل میاں داود نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں رٹ دائر کی،جس میں ڈگری کے حوالے سے تحقیقات کی استدعا کی گئی۔معاملہ مختلف عدالتی فورمز سے ہوتا ہوا موجودہ چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کے سامنے آیا جبکہ سندھ ہائی کورٹ میں بھی اس پر رٹ دائر ہوئی اور سٹے آرڈر جاری ہوا۔کراچی یونیورسٹی کی سنڈیکیٹ نے اگست 2024 میں طارق محمود کے انرولمنٹ نمبر 7124 اور سیٹ نمبر 22857 منسوخ کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے تین سال کے لیے امتحانات میں بیٹھنے پر پابندی بھی عائد کی۔واضح رہے کہ جسٹس طارق محمود جہانگیری 28 دسمبر 2020 کو پاکستان تحریک انصاف کے دورِ حکومت میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج مقرر ہوئے تھے۔وہ ماضی میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے ادوار میں مختلف عدالتی عہدوں پر فائز رہے اور فوجداری قوانین میں مہارت رکھتے ہیں۔وہ ان چھ ججز میں بھی شامل تھے جنہوں نے گزشتہ برس سپریم جوڈیشل کونسل کو مشترکہ خط لکھ کر عدالتی معاملات میں خفیہ اداروں،خصوصاً آئی ایس آئی،کی مبینہ مداخلت کے سنگین الزامات عائد کیے تھے۔قانونی و عدالتی حلقوں کے مطابق جسٹس طارق جہانگیری کی تازہ شکایت نہ صرف اسلام آباد ہائی کورٹ بلکہ پورے عدالتی نظام کے لیے ایک بڑا امتحان بن چکی ہے،جس کے اثرات آنے والے دنوں میں ملکی سیاست اور عدلیہ دونوں پر گہرے نقوش چھوڑ سکتے ہیں۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز