اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ ملک کا موجودہ نظام انصاف مکمل طور پر تباہی کا شکار ہو چکا ہے اور یہ ایک ایسے تعفن زدہ ڈھانچے کی شکل اختیار کر گیا ہے جس میں عام شہری کے لیے انصاف کا حصول انتہائی مشکل بنا دیا گیا ہے،وکلاءآئین کی بحالی کے لیے اٹھ کھڑے ہوں۔
ایگزو نیوز کے مطابق منصورہ میں لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن،لاہور بار،پاکستان ٹیکس بار ایسوسی ایشن اور پاکستان انٹرنیشنل بزنس فورم کے عہدیداروں سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے عدالتی اور آئینی نظام کی موجودہ صورتحال پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ آئین و قانون کی بالادستی کے بغیر کوئی بھی ملک ترقی نہیں کر سکتا تاہم ملک میں آئین کو بار بار اپنی مرضی کی ترامیم کے ذریعے متاثر کیا گیا ہے،جس سے اس کی اصل روح مجروح ہوئی ہے۔ان کے مطابق نہ صرف عدلیہ بلکہ پورا نظام انصاف مفلوج ہو چکا ہے،جہاں طاقتور طبقہ بآسانی انصاف خرید لیتا ہے جبکہ غریب شہری اپنی زندگی بھر عدالتوں کے چکر لگانے پر مجبور رہتا ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے وکلا برادری سے اپیل کی کہ وہ آئین کی بحالی کے مشن میں اپنا کردار ادا کریں اور عدلیہ کی آزادی کے لیے جاری جدوجہد کا حصہ بنیں۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کی ”بدل دو نظام“ تحریک کا بنیادی مقصد ہی عدلیہ کی آزادی اور آئین کی بالادستی کو یقینی بنانا ہے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ ملک میں اقتدار پر مافیاز کا قبضہ ہے جبکہ احتساب کا کوئی موثر نظام موجود نہیں،ٹیکس کا بوجھ زیادہ تر غریب،کسان اور تنخواہ دار طبقہ برداشت کرتا ہے جبکہ با اثر سرمایہ دار اور جاگیردار طبقے کو مکمل چھوٹ حاصل ہے۔امیر جماعت اسلامی نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ڈھانچے پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ ادارے کے ہزاروں ملازمین اپنی ذمہ داریاں موثر طریقے سے ادا کرنے میں ناکام ہیں۔انہوں نے کہا کہ عوامی تائید کے بغیر کوئی بھی حکومت مشکل حالات کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔انہوں نے مزید کہا کہ عوام بڑی تعداد میں جماعت اسلامی کی ”بدل دو نظام“ تحریک کا حصہ بن رہے ہیں اور وکلا برادری سے بھی اپیل کی کہ وہ آئین کے تحفظ اور قانون کی بالادستی کے لیے اس تحریک کا ساتھ دیں۔