اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس بابر ستار نے اسلام آباد میں اپنی سرکاری رہائش گاہ خالی کردی ہے۔ یہ پیش رفت اسٹیٹ آفس کی جانب سے مذکورہ رہائش گاہ کی الاٹمنٹ منسوخ کیے جانے اور بعد ازاں ہائیکورٹ رجسٹرار آفس کی جانب سے گھر خالی کرنے کا نوٹس جاری کیے جانے کے بعد سامنے آئی ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق اسٹیٹ آفس نے 3 جولائی کو اسلام آباد میں جسٹس بابر ستار کے زیرِاستعمال سرکاری گھر کی الاٹمنٹ منسوخ کردی تھی۔ الاٹمنٹ ختم ہونے کے بعد ہائیکورٹ کے رجسٹرار آفس کی جانب سے انہیں باضابطہ نوٹس جاری کیا گیا، جس میں سرکاری رہائش گاہ 30 روز کے اندر خالی کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ رجسٹرار کے نوٹس کے بعد جسٹس بابر ستار نے مقررہ مدت کے اندر رہائش گاہ خالی کرنے کا عمل مکمل کرلیا۔ انہوں نے اپنی عدالتی تعطیلات کے بعد تقریباً دو روز قبل اسلام آباد کا سرکاری گھر چھوڑ دیا۔جسٹس بابر ستار کے اسلام آباد میں واقع سرکاری گھر کی الاٹمنٹ کی منسوخی اور بعد ازاں رہائش خالی کیے جانے کا معاملہ سرکاری رہائش گاہوں کی الاٹمنٹ کے قواعد و ضوابط کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔ ذرائع کے مطابق الاٹمنٹ منسوخ ہونے کے بعد متعلقہ ضابطے کے تحت رہائش خالی کرنا ضروری تھا، جس پر عمل درآمد کیا گیا۔جسٹس بابر ستار اس وقت پشاور ہائیکورٹ میں فرائض انجام دے رہے ہیں۔ ان کے موجودہ عدالتی منصب اور اسلام آباد میں سرکاری رہائش گاہ کی الاٹمنٹ کے معاملے کے بعد اب مذکورہ گھر خالی کیے جانے سے اس معاملے کا عملی طور پر اختتام ہوگیا ہے۔سرکاری رہائش گاہ خالی کیے جانے کے بعد اب اس کی الاٹمنٹ اور آئندہ استعمال سے متعلق فیصلہ متعلقہ سرکاری ادارے کریں گے۔ تاہم ذرائع کے مطابق جسٹس بابر ستار کی جانب سے نوٹس کے بعد رہائش گاہ خالی کردی گئی ہے۔
پشاور ہائیکورٹ تبادلے کے بعد جسٹس بابر ستار کا بڑا قدم،اسلام آباد کا سرکاری گھر خالی کردیا
21