Home » جنید صفدر کی شادی،شان و شوکت،نمود نمائش اور اسراف کی علامت اور سب دی ماں کا جھوٹا دعویٰ

جنید صفدر کی شادی،شان و شوکت،نمود نمائش اور اسراف کی علامت اور سب دی ماں کا جھوٹا دعویٰ

تحریر:خالد شہزاد فاروقی

by ahmedportugal
12 views
A+A-
Reset

یہ محض ایک شادی نہیں رہی،یہ ایک علامت بن چکی ہے۔۔۔ایسی علامت جو خوشی کم اور سوال زیادہ پیدا کرتی ہے۔۔۔ اور جب یہ سوال اقتدار کے ایوانوں سے جڑ جائے تو پھر خاموشی بھی جرم لگنے لگتی ہے۔۔۔ یہ اعتراض کسی ذاتی رشتے پر نہیں،یہ تنقید کسی ماں کے جذبات پر بھی نہیں ۔۔۔۔ ماں ہونا ایک مقدس رشتہ ہے اور ہر ماں کو اپنی اولاد کی خوشی عزیز ہوتی ہے۔۔۔ مگر جب ماں ایک صوبے کی وزیر اعلیٰ ہو اور خود کو ” سب دی ماں “ کہلوانے میں فخر محسوس کرے تو پھر معیار بدل جاتا ہے اور توقعات بھی ۔۔۔” سب دی ماں “ ہونا صرف ایک نعرہ نہیں ہوتا،یہ ایک رویہ مانگتا ہے ۔۔۔ یہ ایک مسلسل احساس کا تقاضا کرتا ہے۔۔۔ یہ اس بات کا وعدہ ہوتا ہے کہ صوبے کا ہر بھوکا بچہ،ہر پریشان ماں اور ہر بے بس باپ اس ” ماں“ کی توجہ میں شامل ہے۔۔۔ مگر جب عمل اس دعوے کی نفی کرنے لگے تو لفظ کھوکھلے ہو جاتے ہیں ۔۔۔ اور جب کھوکھلے لفظ اقتدار کے منہ سے نکلیں تو وہ طنز بن جاتے ہیں ۔۔۔

وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف صاحبہ اگر واقعی ” سب دی ماں “ ہیں تو پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ ” سب “کہاں تھے جب جنید صفدر کی شادی شان و شوکت،نمائش اور اسراف کی علامت بن کر سامنے آئی؟یہ سوال کسی ماں کے دل پر حملہ نہیں،یہ سوال ” ایک ماں “ کے دعوے پر ہے ۔۔۔ جو” ماں“ سب کی ہو،وہ اپنے ایک بچے کی خوشی یوں نہیں مناتی کہ باقی بچے محرومی میں ڈوب جائیں ۔۔۔ وہ یہ نہیں بھولتی کہ اس کے صوبے میں لاکھوں بچے ایسے ہیں جن کی مائیں آج بھی دو وقت کی روٹی کے لیے دعائیں مانگ رہی ہیں ۔۔۔ یہ ملک،یہ صوبہ اس وقت کسی خوش فہمی میں نہیں جی رہا ۔۔۔ مہنگائی ایک حقیقت ہے ۔۔۔ بے روزگاری ایک حقیقت ہے ۔۔۔ غربت ایک تلخ سچ ہے ۔۔۔ اور ایسے میں اگر اقتدار کے اعلیٰ منصب پر بیٹھی شخصیت اپنی ذاتی خوشی کو عوامی نمائش میں بدل دے تو پھر ” سب دی ماں “ کا تصورصرف ایک سیاسی جملہ بن کر رہ جاتا ہے ۔۔۔ یہ کہنا کہ یہ ان کا ذاتی معاملہ تھا،ایک سہل جواب ہے۔۔۔ مگر اقتدار سہولت نہیں مانگتا،احتیاط مانگتا ہے۔۔۔ ذاتی معاملہ اس وقت ذاتی نہیں رہتا جب وہ عوامی احساسات کو مجروح کرے ۔۔۔ ایک ماں اگر صرف اپنے بچے کے لیے سوچے تو وہ اچھی ماں ہو سکتی ہے۔۔۔ مگر جو ماں” سب کی ماں“ ہونے کا دعویٰ کرے،اسے سب کے دکھ بھی اپنے لگنے چاہئیں ۔۔۔ یہ تاثر،خواہ ارادے کے بغیر ہی کیوں نہ ہو،مضبوط ہوا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب اس دن ” سب دی ماں “ نہیں تھیں،وہ صرف جنید صفدر کی ماں تھیں ۔۔۔ اور یہی وہ تاثر ہے جو عوام کو سب سے زیادہ تکلیف دیتا ہے۔۔۔ کیونکہ عوام نعروں سے نہیں،رویوں سے فیصلہ کرتی ہے۔۔۔ اگر ”سب دی ماں“ ہونے کا دعویٰ سچ ہوتا تو شاید یہ شادی سادگی کی مثال بنتی ۔۔۔ شاید یہ پیغام دیا جاتا کہ اقتدار میں رہتے ہوئے بھی احساس کو ترجیح دی جا سکتی ہے۔۔۔۔ شاید خاموش وقارنمائش پر غالب آتا ۔۔۔ مگر جب روشنیوں کی چکا چوندغربت کے اندھیروں پر حاوی ہو جائے تو پھر ماں کا دعویٰ سوال بن جاتا ہے ۔۔۔۔ یہ اعتراض اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ سیاست صرف فیصلوں کا نام نہیں،یہ علامتوں کا کھیل بھی ہے ۔۔۔۔ اور حکمران کی نجی زندگی کی علامتیں عوامی شعور پر گہرا اثر ڈالتی ہیں۔۔۔


جب ایک وزیر اعلیٰ اپنے عمل سے یہ پیغام دے کہ خوشی کی حدیں اقتدار کے ساتھ بدل جاتی ہیں تو پھر غریب ماں کا دل خود بخود یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ شاید اس کی اولاد ” اس ماں “کی فہرست میں شامل ہی نہیں ۔۔۔۔۔ میری یہ ٹوٹی پھوٹی تحریر کوئی الزام نہیں،یہ احتسابِ احساس ہے ۔۔۔۔ یہ یاد دہانی ہے کہ ماں ہونے کا اعزازصرف لفظوں سے قائم نہیں رہتا،اسے ہر لمحہ نبھانا پڑتا ہے ۔۔۔ جو واقعی” سب کی ماں “ ہوتی ہے،وہ اپنے بیٹے کی خوشی پر بھی دوسروں کے آنسو دیکھ لیتی ہے۔۔۔ وہ جانتی ہے کہ کچھ لمحے خاموش رہنا کئی دلوں کو سہارا دے دیتا ہے ۔۔۔ یہ شادی گزر گئی ہے اور یہ تقریبات بھی یادوں میں بدل جائیں گی مگر ” سب دی ماں“ کا دعویٰ اب محض ایک جملہ نہیں رہا،یہ ایک کسوٹی بن چکا ہے ۔۔۔ اور عوام اس کسوٹی پرہر عمل کو پرکھ رہی ہے۔۔۔۔ کیونکہ ماں اگر واقعی” سب “ کی ہوتو اسے سب کا درد اپنا درد سمجھنا پڑتا ہے۔۔۔ ورنہ تاریخ اسے صرف ایک ماں کے طور پر یاد رکھے گی” سب کی ماں “ کے طور پر نہیں۔۔۔۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز