ڈیرہ اسماعیل خان(ایگزو نیوز ڈیسک)جنوبی وزیرستان میں دہشت گردوں کے وحشیانہ حملے میں شہید ہونے والے جمعیت علماء اسلام کے سینئر رہنما مولانا حافظ سلطان محمد حقانی کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی،جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی،اس موقع پر سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کئے گئے تھے،دہشت گردوں نے 9 جنوری کو وانا بازار میں کونڑا چینہ مدرسے کے قریب ہونے والے ریموٹ کنٹرول آئی ای ڈی دھماکہ کیا جس میں مولانا سلطان محمد حقانی اپنی کم سن بیٹی سمیت شدید زخمی ہو گئے اور بعد ازاں آج مفتی محمود ہسپتال،ڈیرہ اسماعیل خان میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گئے۔
ایگزو نیوز کے مطابق جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے مولانا حافظ سلطان محمد حقانی کی شہادت پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک مخلص،بہادر اور نظریاتی ساتھی تھے،جے یو آئی اپنی آئینی،جمہوری اور پُرامن جدوجہد جاری رکھے گی،چاہے اس راہ میں کتنی ہی قربانیاں کیوں نہ دینی پڑیں ۔انہوں نے کہا کہ کے پی اور بلوچستان میں بڑھتی دہشت گردی انتہائی تشویشناک ہے اور واقعے کی فوری تحقیقات کی جائیں تا کہ ملزموں کو قانون کے مطابق سزا دی جا سکے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ قومی سلامتی کے ادارے فوری طور پر امن و امان کی صورتحال کو یقینی بنائیں،علما کرام کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے اور دہشتگرد عناصر کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔واضح رہے کہ مولانا سلطان محمد حقانی لوئر وزیرستان کے سینئر رہنما،مولانا فضل الرحمان کے معتمد خاص اور جامعہ دارالعلوم اشرفیہ کے مہتمم تھے،جنہوں نے دینی اور تعلیمی خدمات میں نمایاں کردار ادا کیا۔جمعیت علمائے اسلام نے اس حملے کو علاقے میں مذہبی رہنماوں اور امن کے داعی علما پر بڑھتے ہوئے خطرات کی غمازی قرار دیا اور کہا کہ باجوڑ اور جنوبی وزیرستان جیسے گہرے مذہبی تشخص رکھنے والے علاقوں میں علماء مسلسل نشانہ بن رہے ہیں۔ یاد رہے کہ چھ ماہ قبل ضلع امیر مولانا عبداللہ ندیم بھی بم دھماکے میں شدید زخمی ہوئے تھے، جبکہ سابق ضلعی امیر مولانا مرزا جان بھی دہشتگردانہ حملے میں شہید ہو چکے ہیں۔ یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ خطے میں مذہبی رہنماوں کی جانیں مسلسل خطرے میں ہیں۔
جنوبی وزیرستان میں دہشتگرد حملے کا شکار جے یو آئی رہنما مولانا حافظ سلطان حقانی شہید کی نماز جنازہ ادا،ملک بھر میں سوگ کی لہر
5