اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے حقیقی آزادی مارچ سے متعلق کیسز میں سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کے وارنٹِ گرفتاری جاری کر دیے ہیں، کیونکہ متعدد بار طلبی کے باوجود وہ عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔ جوڈیشل مجسٹریٹ مبشر حسن چشتی نے کیس کی سماعت کے دوران واضح کیا کہ عدالت کا صبر لبریز ہو چکا ہے اور قانونی کارروائی کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے وارنٹ جاری کرنا ناگزیر تھا۔کیس کی مزید سماعت 8 جنوری تک ملتوی کر دی گئی ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے حقیقی آزادی مارچ سے متعلق مقدمات میں سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کے وارنٹِ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔ عدالت نے یہ کارروائی بار بار طلبی کے باوجود عدالت میں پیش نہ ہونے پر عمل میں لائی۔ذرائع کے مطابق جوڈیشل مجسٹریٹ مبشر حسن چشتی نے علی امین گنڈاپور سمیت دیگر ملزمان کے خلاف درج مقدمات کی سماعت کی۔ دورانِ سماعت عدالت کو بتایا گیا کہ علی امین گنڈاپور متعدد مرتبہ طلب کیے جانے کے باوجود پیش نہیں ہوئے، جس پر عدالت نے دو مقدمات میں ان کے وارنٹِ گرفتاری جاری کرنے کا حکم دے دیا۔عدالت نے کیس کی مزید سماعت 8 جنوری تک ملتوی کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ عدالتی احکامات پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔ یہ مقدمات حقیقی آزادی مارچ کے تناظر میں تھانہ بارہ کہو میں درج کیے گئے تھے، جن میں مختلف دفعات کے تحت الزامات عائد کیے گئے ہیں۔واضح رہے کہ ان ہی مقدمات میں بانی پی ٹی آئی، شاہ محمود قریشی، زرتاج گل سمیت دیگر ملزمان پہلے ہی بری ہو چکے ہیں، تاہم علی امین گنڈاپور اور چند دیگر افراد کے خلاف قانونی کارروائی تاحال جاری ہے۔قانونی ماہرین کے مطابق عدالت کی جانب سے وارنٹِ گرفتاری کا اجرا ایک اہم پیش رفت ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ عدالتیں عدم حاضری کو سنجیدگی سے لے رہی ہیں اور قانونی عمل میں تاخیر کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اس عدالتی اقدام کو موجودہ سیاسی و قانونی منظرنامے میں ایک اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔
حقیقی آزادی مارچ کیس میں عدالتی صبر کا پیمانہ لبریز،سابق وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کے وارنٹ گرفتاری جاری
1