اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)لاہور میں عدالتی احکامات کی کھلی خلاف ورزی، 21 ہرے بھرے درخت ریلوے سٹیشن کے سامنے بے دردی سے کاٹے گئے اور ذمہ دار محکمے ذمہ داری سے گریزاں دکھائی دیے۔اس واقعے نے نہ صرف شہری ماحولیات اور قدرتی وسائل کے تحفظ کے اصولوں کو چیلنج کیا ہے بلکہ یہ واضح کر دیا ہے کہ عدالتی احکامات کے باوجود سرکاری اداروں میں شفافیت اور عملدرآمد کی کمی ایک سنگین مسئلہ ہے۔پی ایچ اے،ایل ڈی اے اور پاکستان ریلویز کی جانب سے ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈالنے کا کھیل شہریوں کے اعتماد کو مجروح کر رہا ہے جبکہ ماحول دوست شہری حلقے اور ماہرین اس بات پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں کہ قانونی احکامات کے باوجود قدرتی وسائل کی حفاظت میں ناکامی ہمارے ماحولیاتی مستقبل کے لیے خطرہ ہے۔

ایگزو نیوز کے مطابق لاہور میں درختوں کی کٹائی کا سلسلہ نہ رک سکا،جہاں لاہور ریلوے سٹیشن کے سامنے موجود 21 ہرے بھرے درخت عدالتی احکامات کے باوجود کاٹے گئے،اس واقعے نے ماحولیاتی تحفظ کے لیے جاری قوانین اور عدالتی ہدایات کی کھلی خلاف ورزی کو سامنے لا دیا ہے۔لاہور ریلوے سٹیشن اپ گریڈیشن منصوبے کے آغاز کے وقت یہ 21 درخت موجود تھے تاہم ایل ڈی اے کے ترجمان نے واضح کیا کہ اس منصوبے کے دوران کسی درخت کو کاٹا نہیں گیا اور پاکستان ریلویز نے بھی دعویٰ کیا کہ ان کی حدود میں کوئی درخت کاٹے جانے کا عمل نہیں ہوا تاہم ذمہ دار محکمے کسی بھی اس معاملے میں ذمہ داری قبول کرنے سے گریزاں ہیں۔پی ایچ اے نے 12 جنوری کو درخت کاٹنے اور تراشنے پر پابندی کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا اور عدالتی احکامات کے مطابق عملدرآمد کروانے کے پابند تھے لیکن اس میں مکمل ناکامی سامنے آئی ہے۔متعدد بار پی ایچ اے سے رابطہ کیا گیا مگر ان کا موقف موصول نہیں ہو سکا۔اب معاملے پر پی ایچ اے سے موقف حاصل کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔یہ واقعہ ماحولیاتی قوانین اور شہری تحفظ کے حوالے سے سوالات کو جنم دے رہا ہے اور شہری حلقے پی ایچ اے اور دیگر متعلقہ محکموں کی شفاف کارروائی کے منتظر ہیں تا کہ ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکے۔